مستونگ: کھڈکوچہ میں ممکنہ بڑے پیمانے پر آپریشن، آبادی کو انخلا کی ہدایت

45

بلوچستان کے ضلع مستونگ کی تحصیل کھڈکوچہ میں کشیدہ صورتحال کے باعث بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ مقامی ذرائع کے مطابق انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے علاقے کے مکینوں کو نقل مکانی کی ہدایت کی گئی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق مکہ ہوٹل سے بدرنگ تک سڑک کی مغربی جانب واقع آبادی کو علاقہ خالی کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ باغات میں کام کرنے والے مزدوروں اور ٹھیکیداروں کو بھی باغات خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

علاقے کے رہائشیوں کے مطابق انہیں پولیس کے ذریعے کل سہ پہر تین بجے تک علاقہ خالی کرنے کا کہا گیا ہے، جس کے بعد مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز تحصیل کھڈکوچہ کے مختلف مقامات پر ڈرون کے گولے گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے تھے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر علاقے میں فضائی کارروائی کا امکان ہے۔

دوسری جانب اہلِ علاقہ نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فوجی آپریشن کی مخالفت کی ہے اور شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز علاقے میں بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے پاکستانی فورسز پر ایک مہلک حملے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔

بی ایل اے کے مطابق، حملے میں مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں فوج کے قافلے میں شامل ایک بکتر بند گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے سے تباہ کر دیا گیا، جبکہ ایک اور بکتر بند گاڑی اور دیگر گاڑیوں کو گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں فوج کے 13 اہلکار ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہو گئے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ پاکستانی فورسز نے سوراب گدر میں عام آبادی پر فضائی بمباری کرتے ہوئے متعدد شہریوں کو قتل کیا تھا، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔

حالیہ طور پر پاکستانی فورسز کی کھڈکوچہ میں کارروائی اور آبادی کے انخلا کی ہدایات کے باعث لوگ شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔