22 حملوں میں 26 اہلکار ہلاک، سوراب اور پنجگور میں قابض فوج نے عام شہریوں و قیدیوں کا قتل عام کیا – بی ایل اے

0

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے آٹھ روز کے دوران 22 مختلف کارروائیوں میں قابض پاکستانی فوج، ریاستی ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے کارندوں اور عسکری ومعاشی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ 

ترجمان کے مطابق ان شدید حملوں کے نتیجے میں قابض فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے 26 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جبکہ ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران ڈیتھ اسکواڈ کے ایک کارندے کو زندہ حراست میں لے لیا گیا۔ 

جیئند بلوچ کے مطابق سرمچاروں نے پولیس تھانوں اور سیکیورٹی پوسٹوں سمیت متعدد پلوں کو دھماکوں سے تباہ کیا اور معاشی ناکہ بندی کے تحت 9 تجارتی و استحصالی گاڑیوں کو کارروائیوں میں ناکارہ بنایا، جبکہ قابض فوج کو متعدد آئی ای ڈی دھماکوں میں نشانہ بنا کر بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔

انہوں نے کہا قابض فوج کے ساتھ مسلسل جھڑپوں کے دوران بی ایل اے کے دو جانبار سرمچار شہید ہو گئے، جبکہ اپنی عبرتناک شکست سے حواس باختہ بزدل فوج نے زیرِ حراست لاپتہ قیدیوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنے اور عام آبادیوں پر وحشیانہ بمباری کرکے اپنی بربریت کا سلسہ جاری رکھا۔

بیان کے مطابق 9 اگست چاغی میں کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ پر نوکچاہ کے مقام پر سرمچاروں نے تین تجارتی گاڑیوں کو تحویل میں لے کر ضبط کرلیا۔ 

“اسی شب کوئٹہ کے قمبرانی روڈ پر سرمچاروں نے پولیس ‘ایگل اسکواڈ’ کے اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کا تمام عسکری اسلحہ وسامان ضبط کرلیا”

انہوں نے کہا 10 اگست خاران کی مرکزی شاہراہ پر زومی کے مقام پر سرمچاروں نے پولیس اہلکاروں کو حراست میں لینے کے بعد متعلقہ پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا، بعد ازاں تمام اہلکاروں کو تنبیہ کرکے رہا کر دیا گیا۔

جیئند بلوچ کے مطابق 11 اگست بلیدہ کے علاقے سوراپ میں سرمچاروں نے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے تحت ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے ایک اہم ٹھکانے پر حملہ کیا۔ 

“اس کامیاب کارروائی میں مسلح ڈیتھ اسکواڈ جتھے کا سرغنہ مسلم جیئند موقع پر ہی ہلاک ہوگیا، جبکہ اس کے چار کارندے، محب اللہ، درّا، احمد اور طلحہ شدید زخمی ہوگئے، آپریشن کے دوران سرمچاروں نے ایک اور کارندے کو حراست میں لے لیا”

انہوں نے کہا ہلاک ہونے والا مسلم جیئند بلیدہ اور گردونواح میں ڈیتھ اسکواڈ کا مرکزی سرغنہ تھا، جو علاقے کے نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگیوں اور قابض فوج کی سرپرستی میں مظالم ڈھانے میں براہِ راست ملوث چلا آ رہا تھا، یہ مسلح جتھہ بلیدہ اور پروم سمیت مختلف علاقوں میں قابض فوج کی فاشسٹ جارحیت میں بطورِ آلہ کار استعمال ہورہا تھا۔

ترجمان کے مطابق 12 اگست چاغی میں چہتر پولیس تھانے کو سرمچاروں نے بارودی مواد نصب کرکے مکمل طور پر تباہ کردیا، دریں اثناء بارتاگزی کے مقام پر قابض فوج کی گاڑیوں پر مسلح حملہ کرکے انہیں شدید نقصان پہنچایا گیا۔ 

“اسی شب یکمچ بازار میں سرمچاروں نے معاشی ناکہ بندی کے تحت تین تجارتی گاڑیوں پر فائرنگ کرکے انہیں ناکارہ بنایا جبکہ ایک گاڑی کو تحویل میں لے لیا”

ترجمان کے مطابق اسی روز قلات کے علاقے رودینجو میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا، اس زوردار دھماکے کے نتیجے میں 17 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہو گئے جبکہ قابض کی ایک گاڑی مکمل تباہ و مزید ایک گاڑی شدید نقصان پہنچا۔ 

ترجمان نے کہا دوسری جانب سوراب میں سرمچاروں نے قابض فوج کی ایک اور گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے میں تباہ کر دیا، جس میں 3 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

بی ایل اے بیان میں کہا گیا ہے 13 اگست پنجگور کے علاقے چتکان میں سرمچاروں نے پولیس لائنز پر دستی بم سے حملہ کیا، جس سے ایک اہلکار زخمی ہوا، بلیدہ کے علاقے گِلی میں سرمچاروں نے قابض فوج کی جانب سے نصب کردہ جدید جاسوسی ونائٹ ویژن کیمروں کو تباہ کر دیا۔ 

“اس عمل کے دوران قابض فوج نے فضائی نگرانی کے لیئے کواڈ کاپٹر کا استعمال کیا، جسے سرمچاروں نے نشانہ بنا کر مار گرایا۔ اسی دن چاغی کے علاقے تالو میں استحصالی کمپنی کی ایک اور گاڑی کو نذرِ آتش کردیا گیا”

ترجمان نے کہا اسی روز نوشکی میں بدل کاریز کراس پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو شدید مسلح حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 2 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

جیئند بلوچ نے میڈیا کو کہا ہے 14 اگست تربت شہر میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو اس وقت موٹر سائیکل میں نصب ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا جب وہ دو گاڑیوں میں وہاں سے گزر رہے تھے، دھماکے سے ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جس کے نتیجے میں 3 اہلکار ہلاک اور 4 شدید زخمی ہوگئے۔

ترجمان نے کہا اسی روز کوئٹہ کی زراعت کالونی کے قریب سرمچاروں نے قابض ریاست کی نام نہاد ‘جشن’ کی تقریب پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے، جہاں سی ٹی ڈی اور قابض فوج کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے، اسی شب نوشکی کے علاقے احمد وال میں سرمچاروں نے قابض فوج کے مرکزی کیمپ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دشمن کو شدید جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا۔

انکے مطابق چاغی کے علاقے بارتاگزی میں تجارتی روٹ پر ۲ گاڑیوں کو ناکارہ بنایا گیا، جبکہ جوجکی کے مقام پر سرمچاروں نے ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑا دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے 15 اگست سوراب میں مل مدرسہ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے زیرِ استعمال ۲ اہم پوسٹوں اور ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا۔

جیئند بلوچ نے کہا قابض پاکستانی فوج نے 10 اگست ‘بروز پیر’ پنجگور کے علاقے چیدگی میں عام آبادیوں اور بلوچ عوام پر جارحیت کی غرض سے زمینی پیش قدمی کا آغاز کیا۔ 

انکے مطابق علاقے میں موجود بی ایل اے کی گشتی ٹیم نے اپنے قومی فریضے اور بلوچ عوام کے دفاع کو مقدم رکھتے ہوئے پیش قدمی کرتی دشمن فوج کا جرات مندی سے راستہ روکا اور ان پر کاری ضربیں لگائیں۔ 

“گھنٹوں جاری رہنے والی اس خونریز اور شدید جھڑپ میں دشمن فوج کو بھاری جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا، تاہم بلوچ سرزمین کے دفاع کی جنگ لڑتے ہوئے بی ایل اے کے دو جانثار سرمچار، سنگت وزیر احمد عرف زاہد اور سنگت جاسم عرف معراج، مردانہ وار لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے”

جیئند بلوچ نے کہا بلوچ لبریشن آرمی اپنے ان عظیم شہداء کی لازوال قربانیوں، پختہ عزم اور جرات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین اور سرخ سلام پیش کرتی ہے، ان کا بہایا گیا ایک ایک قطرہ خون تحریکِ آزادیِ بلوچستان کا مشعلِ راہ ہے اور ان کا مشن منزل کے حصول تک پوری شدت سے جاری رہے گا۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے میدانِ جنگ میں سرمچاروں کے ہاتھوں عبرتناک شکست اور بھاری جانی نقصان اٹھانے کے بعد قابض پاکستانی فوج نے حسبِ روایت اپنی روایتی بزدلی، مکارانہ روش اور جنگی جرائم کا مظاہرہ کیا۔ 

“پنجگور میں اپنی ناکامی اور پسپائی کو چھپانے کی خاطر ریاستی اداروں نے اپنے عقوبت خانوں میں قید، شدید زدوکوب کا شکار تین غیر مسلح جبری لاپتہ بلوچ نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں قتل کرکے یہ دعویٰ کیا کہ وہ چیدگی کی جھڑپ میں مارے گئے ہیں”

انکا کہنا تھا قابض فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے اپنی رسوائی اور پیشہ ورانہ ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیئے ان نہتے وبے بس قیدیوں کے ماورائے عدالت قتل کو جعلی ‘انکاؤنٹر’ بنا کر میڈیا کے سامنے پیش کیا، جو کہ ان کے اخلاقی دیوالیہ پن اور سفاکیت کا کھلم کھلا ثبوت ہے۔

بی ایل اے ترجمان نے کہا ہے جعلی مقابلے کی بھیانک بھیٹ چڑھائے گئے ان بے گناہ بلوچ قیدیوں میں حافظ مدثر ولد نور احمد (سکنہ عیسیٰ سندے سر، پنجگور، جسے 15 جون 2026ء کو جبری لاپتہ کیا گیا تھا)، شعیب ولد محمد ایوب (سکنہ خدابادان، پنجگور، جسے 8 فروری 2023ء کو اغوا کیا گیا تھا) اور پیر جان ولد کچکول (سکنہ راہی نگور، جسے 10 جون 2026 کو اٹھایا گیا تھا) شامل ہیں۔ 

انہوں نے کہا یہ واقعہ اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ پاکستانی فوج بلوچ سرمچاروں سے میدانِ کارزار میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھوچکی ہے اور اب اپنے تعصب وناکامی کا بدلہ اپنے عقوبت خانوں میں قید غیر مسلح بلوچ قیدیوں سے لے رہی ہے۔

جیئند بلوچ نے مزید کہا سرمچاروں کے حملوں اور زمینی پسپائی کے خوف سے بزدل قابض فوج نے تمام بین الاقوامی انسانی قوانین وجنگی اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ۱۲ اگست کو سوراب کے علاقے گدر (گوندان) میں غیر مسلح عام آبادیوں پر جنگی جیٹ طیاروں سے وحشیانہ بلائنڈ بمباری کی۔ 

بی ایل اے ترجمان نے آخر میں کہا ہے اس سفاکانہ دہشت گردی اور بلا امتیاز فضائی جارحیت کے نتیجے میں 27 معصوم شہری جامِ شہادت نوش کرگئے، جن میں کمسن بچے، خواتین، مرد اور ضعیف بزرگ شامل ہیں۔ 

“بلوچ لبریشن آرمی واضح کرتی ہے کہ بلوچ عوام کے خونِ ناحق، قیدیوں کے ماورائے عدالت قتل اور عام آبادیوں پر بمباری کا حساب قابض دشمن سے میدانِ جنگ میں پائی پائی کرکے لیا جائے گا، اور آزاد بلوچستان کے قیام تک یہ جدوجہد بلاشبہ مزید شدت وقوت کے ساتھ جاری رہے گی”