کلمتی خاندان کے گھروں کی مسماری بلوچ سماج کو خوفزدہ کرنے کی ریاستی منصوبہ ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی

3

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہاہے کہ گوادر کے علاقے پانوان، جیونی میں کلمتی خاندان کے متعدد گھروں کی مسماری بلوچستان میں جاری اس جابرانہ طرزِ حکمرانی کی عکاس ہے جہاں ایک فرد کو نشانہ بنانے کے بعد اس کے پورے خاندان کو دباؤ اور انتقام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھر مسمار کرنا محض ایک تعمیر کو ختم کرنا نہیں بلکہ خاندان کے تحفظ، وقار اور معاشی زندگی پر براہِ راست حملہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ نور بخش کلمتی ابراہیم، میاں کلمتی ابراہیم، ریاض کلمتی ابراہیم، طارق کلمتی ابراہیم، فاروق کلمتی ابراہیم، سلمان کلمتی ابراہیم اور امیر بخش کلمتی ابراہیم کے گھروں کو پاکستانی فورسز، ایف سی، کوسٹ گارڈ اور ایم آئی کے اہلکاروں نے رات کے تاریکی میں بھاری مشینری کے ذریعے منہدم کر دیا۔

بی وائی سی نے کہاکہ کلمتی خاندان پہلے ہی ریاستی جبر کے کئی مراحل سے گزر چکا ہے۔ نور بخش کلمتی کے چھوٹے بھائی صوفی طارق کلمتی کو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کے بعد ان کی گولیوں سے چھلنی لاش پھینک دی گئی، جبکہ نور بخش کلمتی بھی گرفتاری اور جبری گمشدگی کا سامنا کر چکے ہیں۔ ایک خاندان سے پہلے اس کے افراد چھینے جائیں اور پھر اس کی چھت بھی چھین لی جائے تو یہ محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ اجتماعی انتقام کی ایک شکل ہے، جس کا سامنا بلوچستان میں آج ہر بلوچ خاندان کسی نہ کسی صورت میں کر رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ریاست اگر یہ سمجھتی ہے کہ گھروں کو مسمار کرکے بلوچ عوام کو خوفزدہ کیا جا سکتا ہے تو یہ بلوچستان میں ریاست کی سیاسی ناکامی اور عوامی شعور کے سامنے شکست ہے۔

مزید کہاکہ کلمتی خاندان کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ بلوچستان میں جاری وسیع تر ریاستی پالیسی کا حصہ ہے، جہاں طاقت کے ذریعے بلوچ خاندانوں کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی سمجھتی ہے کہ اجتماعی سزا، جبری گمشدگیوں اور گھروں کی مسماری کے ذریعے بلوچ عوام کو زیرِ نگیں رکھنے کی کوشش ریاست ناکامی کو مزید نمایاں کرے گی۔