بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے زامران میں 29 جولائی 2026 کو جانبحق ہونے والے اپنے دو سرمچاروں کی شناخت کے بعد ان کی تفصیلات بھی جاری کردی ہیں۔
تنظیم کے مطابق حمدان بلوچ عرف مروان ولد نواز شمبے زئی، سکنہ میناز، بلیدہ، نے 2026 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی اور زامران کے محاذ پر سرگرم تھے۔ بی ایل اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ تنظیمی تربیت، مختلف کورسز اور محاذی سرگرمیوں میں متحرک کردار ادا کرتے رہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ زامران کے انقلابی اور فعال محاذ سے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے والے حمدان بلوچ نے ایک مختصر عرصے تک تنظیم میں اپنی خدمات پیش کیں، مگر اس دوران انہوں نے جس ثابت قدمی، عملی مزاحمت، نظریاتی و فکری کارکردگی کے ساتھ ساتھ تنظیم کے مختلف تربیتی کورسز میں حصہ لیا اور جس جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا، یہ انقلابی جذبہ ہمیشہ ساتھیوں کے لیے حوصلے کا باعث رہے گا۔ حمدان ان انقلابی کیڈرز میں شامل تھے جنہوں نے تنظیم میں نئے نئے شمولیت اختیار کرنے کے ساتھ ہی تنظیمی نظم و ضبط، پروگرام اور انقلابی اپروچ کو قبول کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اپنے فدائی بھائی شہید مروان عرف محراب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے وہی انقلابی روایات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا۔ وتاک میں وہ ہمیشہ کسی نہ کسی سرگرمی میں مشغول رہنے اور ہر کام میں اپنے ساتھیوں کی مدد و معاونت کرنے والے سنگتوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے اندر ہر سرگرمی میں دلچسپی لینے اور ہر کام کے حوالے سے متحرک رہنے کی عملی خصوصیت نے انہیں وتاک کا ایک متحرک سرمچار بنا دیا تھا۔ ایک مکمل اور کامیاب سرمچار کی جو بھی عادات اور رویے ہوتے ہیں، وہ تمام شہید حمدان کے اندر موجود تھے۔ اس لیے ایک نئے کیڈر کی حیثیت سے جب دشمن کے سپاہیوں نے بڑی تعداد میں تنظیم کے وتاک کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی تو حمدان نے اپنے ساتھی سنگتوں کے ساتھ مل کر دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور اس کی پیش قدمی اور بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی پالیسی کو ناکام بنایا۔ انہوں نے اپنے لہو کے ذریعے دشمن کی پالیسیوں کو ناکام بنایا اور اپنے دیگر سرمچار ساتھیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔
مزید کہا گیا ہے کہ ایک حقیقی انقلابی سنگت و جہدکار کی تربیت ان بنیادوں پر ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر وقت اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے تیار رہے۔ شہید حمدان نے اپنی خدمات کے دوران ہمیشہ ان انقلابی اصولوں کی پاسداری کی اور آخر تک قومی آزادی کے عظیم نظریے سے جڑے رہے اور دورانِ جنگ شہادت حاصل کی۔ ان کی قربانیاں جدوجہدِ آزادی کی آبیاری میں کردار ادا کریں گی اور انہیں تاریخ کے پنوں پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
دوسرے جانبحق ہونے والے سرمچار عابد رحمٰن عرف رحمٰن ولد عزیز الرحمٰن، سکنہ الندور، بلیدہ تھے۔ تنظیم کے مطابق وہ 2024 سے اس کے مختلف پروگراموں اور سرگرمیوں سے وابستہ رہے جبکہ 2026 میں پہاڑی محاذ کا حصہ بنے۔ بی ایل اے نے بتایا کہ وہ میڈیا یونٹ سے منسلک تھے اور تنظیمی میڈیا سرگرمیوں، تربیتی کورسز اور دیگر ذمہ داریوں میں حصہ لیتے رہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شہید عابد رحمٰن گزشتہ دو سالوں سے تنظیم کی مسلح مزاحمت کے عظیم قومی و انقلابی پروگرام کا عملی حصہ بن کر مختلف صورتوں میں تنظیمی سرگرمیوں میں شامل تھے۔ انہوں نے شہری محاذ کے دوران مختلف فوجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ تنظیمی پالیسی کے تحت میڈیا کے مختلف کورسز کیے اور متعلقہ فیلڈ میں اپنی صلاحیتیں پیدا کیں۔ تنظیمی احکامات کی روشنی میں انہوں نے رواں سال زامران کے محاذ پر تنظیمی کیمپ جوائن کیا اور مختلف جسمانی و تربیتی کورسز کا حصہ بن کر انہیں بخوبی سرانجام دیا۔ انہوں نے ٹریننگ کے دوران اپنی محنت، مشقت اور سیکھنے کی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام ساتھیوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی تھی۔
مزید کہا گیا ہے کہ شہید عابدرحمٰن جنگ کے روایتی طریقوں کے بجائے اس کی جدید اور تیز رفتار شکل کے حامی تھے اور چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے ایک وسیع انقلابی سوچ رکھتے تھے، جو مسلسل ان کی عملی سرگرمیوں میں نمایاں طور پر نظر آتی تھی۔ انہوں نے دورانِ قومی و جنگی خدمات، عسکری مزاحمت اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ جنگی فیلڈ میں میڈیا یونٹ میں بھی فعال اور متحرک کردار ادا کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ وہ جنگ کے میدان سے حقیقی اور زمینی فوٹیجز عوام اور دنیا کے سامنے رکھنے اور انہیں دکھانے کے لیے بے حد دلچسپی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ انہوں نے تنظیم کی طرف سے دی گئی ہر طرح کی ذمہ داری کو پیشہ ورانہ سوچ اور عمل کے ساتھ نبھایا۔ جنگ کے میدان میں پیدا ہونے والے حالات و واقعات کا مشاہدہ کرنا اور انہیں درست انداز میں سمجھنا ان کی نمایاں خصوصیات میں شامل تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی سرگرمیوں میں تنظیمی نظم و ضبط، ذمہ داری اور سنجیدگی بنیادی اہمیت رکھتے تھے اور انہی انقلابی رویوں کی وجہ سے انہوں نے مختصر مدت میں بہترین روایات قائم کیں۔ انہوں نے آخر تک تنظیم کی طرف سے دی گئی ذمہ داریوں کے ساتھ انصاف کیا اور آپریشن کے غرض سے آنے والے دشمن کا راستہ روکتے ہوئے دوران مزاحمت وطن پر ہمیشہ کے لیے قربان ہو گئے۔ ان کی قربانیوں کو تاریخ کے اوراق میں سنہرے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔


















































