آٹھ روز کے دوران 38 کارروائیوں میں دشمن کے 32 سے زائد اہلکار ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں – بی ایل اے

0

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے تفصیلاتی بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے یکم اگست سے 8 اگست کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قابض پاکستانی فوج، اس کے تجارتی ومواصلاتی روٹس، ڈیتھ اسکواڈز اور استحصالی منصوبوں پر 38 سے زائد متواتر و کامیاب حملے کیئے۔ 

جیئند بلوچ نے کہا ہے ان کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کے 32 سے زائد اہلکار و کارندے ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، جبکہ متعدد بکتر بند وفوجی گاڑیاں، ایک کواڈ کاپٹر، دو پل اور ریلوے ٹریک تباہ کر دیئے گئے، اس کے علاوہ ایک زیر حراست خفیہ اہلکار کو سزائے موت دی گئی اور بڑی تعداد میں عسکری سامان تحویل میں لیا گیا۔

بی ایل اے ترجمان کے مطابق یکم اگست قلات کے علاقے دشت میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی چار بکتر بند گاڑیوں کو راکٹ اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچایا، مستونگ کے علاقے عمرانی کنڈ میں رات کے وقت قابض فوج کے پیدل اہلکاروں پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

ترجمان نے کہا ہے 2 اگست واشک کے علاقے سیچی میں سرمچاروں نے قابض فوج پر اس وقت حملہ کیا جب وہ علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کر رہی تھی، اس حملے میں دو دشمن اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، اسی روز کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ پر چاغی کے علاقے نوکچاہ میں سرمچاروں نے قابض فوج اور معدنیات لے جانے والے قافلے کو نشانہ بنایا، جس سے دو گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔

3 اگست سرمچاروں نے بیلہ کے علاقے نمی میں کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر واقع پولیس کی ایک چیک پوسٹ پر کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود نو اہلکاروں کو حراست میں لے لیا اور ان کا اسلحہ و موٹر سائیکلیں ضبط کر لیں، بعد ازاں سرمچاروں نے دیگر اہلکاروں کو رہائی دے دی جبکہ چیک پوسٹ انچارج، سب انسپکٹر گلاب کو حراست میں رکھا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔

جیئند بلوچ کے مطابق چاغی کے علاقے جوجکی میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج اور تجارتی گاڑیوں کے دو بڑے قافلوں کو حملوں میں نشانہ بنایا راکٹ لگنے سے قابض فوج کی ایک گاڑی تباہ ہوگئی جبکہ دشمن کی ایک اور گاڑی براہ راست حملے کی زد میں آئی، جس کے نتیجے میں نو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، اس کارروائی کے دوران کانوائے میں شامل متعدد تجارتی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

مزید برآں چاغی کے علاقے نوکچاہ میں تجارتی روٹ پر کنٹرول حاصل کرکے سنیپ چیکنگ کی گئی، جس کے دوران ایک تجارتی گاڑی کو نذرِ آتش اور دوسری پر فائرنگ کرکے نقصان پہنچایا گیا، سرمچاروں نے دو مشکوک ڈرائیوروں کو حراست میں لیا جنہیں بعد میں پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا گیا۔ 

ترجمان نے کہا ہے اسی روز سرمچاروں نے تجارتی روٹ پر سیندک پروجیکٹ اور دیگر تجارتی گاڑیوں کے قافلے کو چہتر کے مقام پر نشانہ بنایا اور ایک گاڑی کو اپنی تحویل میں لے لیا، اسی روز سرمچاروں نے کوئٹہ کی موسیٰ کالونی کے قریب ریلوے ٹریک کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا۔ 

دریں اثناء بلیدہ کے علاقے الندور میں سرمچاروں نے قابض فوج کی پوسٹ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر جانی ومالی نقصان پہنچایا۔

بی ایل اے ترجمان نے کہا ہے کہ 4 اگست چاغی، یکمچ کے قریب جوجکی کے مقام پر سرمچاروں نے تجارتی روٹ پر واقع ایک پل کو دھماکے سے تباہ کردیا، جبکہ دوپہر کے وقت تجارتی گاڑیوں اور قابض فوج کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، چالیس منٹ تک جاری رہنے والے اس حملے میں قابض فوج کے متعدد اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ سرمچاروں نے دشمن کے ایک کواڈ کاپٹر کو بھی مار گرایا۔

زامران کے علاقے صابونی میں سرمچاروں نے قابض فوج کے لیئے رسد پہنچانے والی دو گاڑیوں کو دھماکوں میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دونوں گاڑیاں شدید متاثر ہوئیں۔

جیئند بلوچ کے مطابق خاران شہر کے قریب ‘بابِ خاران’ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج پر حملہ کر کے انہیں نقصان پہنچایا جبکہ خاران-کوئٹہ روٹ پر سوتکان کے مقام پر موجود پل کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا۔

ترجمان نے کہا ہے 5 اگست دالبندین کے علاقے بارتاگزی میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کو حملے میں نشانہ بنا کر نقصانات سے دوچار کیا۔ دریں اثناء کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ پر دالبندین، گیس پلانٹ کے قریب سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے پر حملہ کرکے جانی نقصان پہنچایا۔

ترجمان کے مطابق اسی روز نوشکی شہر کے قریب سلطان چڑھائی کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کی دو گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ کیا قابض فوج کی ایک گاڑی براہ راست حملے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک اور کم از کم چار زخمی ہو گئے۔ 

ترجمان نے کہا اسی مقام پر 23 جولائی بروز جمعرات بھی سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا تھا، جس میں تین اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔

جیئند بلوچ کے مطابق سرمچاروں نے بیلہ سے زیرِ حراست پاکستانی خفیہ ادارے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے کارندے احمد ولد ربنواز (سکنہ لودھراں، پنجاب) کی سزائے موت پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسے ہلاک کردیا۔

انہوں نے کہا 6 اگست دالبندین کے علاقے چہتر میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا، جبکہ اسی روز البت اور پتکن کے درمیان خاران-کوئٹہ روٹ کا کنٹرول حاصل کرکے سرمچاروں نے گھنٹوں سنیپ چیکنگ جاری رکھی۔ 

دریں اثناء خاران کے علاقے دالی میں سرمچاروں نے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو حملے میں نشانہ بنایا، جس میں ایک اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

ترجمان نے کہا اسی روز دالبندین نوکچاہ کے مقام پر سرمچاروں نے تجارتی روٹ سے ایک مال بردار بس کو ڈرائیوروں سمیت تحویل میں لیا، تاہم ڈرائیوروں کو بعد میں رہا کردیا گیا، مزید برآں رات کے وقت سرمچاروں نے چہتر بازار میں تین مال بردار گاڑیوں کے ٹائروں پر فائرنگ کرکے انہیں ناکارہ بنا دیا۔

جیئند بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے 7 اگست نوشکی، سلطان چڑھائی کے مقام پر بی ایل اے کی فضائی اور ڈرون وارفیئر یونٹ “قہر” نے قابض پاکستانی فوج کے کیمپ کو حملے میں نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا، دریں اثناء بلیدہ کے علاقے زومدان میں سرمچاروں نے قابض فوج کی پوسٹ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے۔

ترجمان کے مطابق 8 اگست مند کے علاقے ردیگ میں سرمچاروں نے قابض فوج کی استحصالی کمپنی ایف ڈبلیو او کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی دھماکے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں گاڑی تباہ ہوگئی اور متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے۔

جیئند بلوچ نے اس حوالے سے کہا قلات کے علاقے مرجان میں سرمچاروں نے قابض فوج کی بکتر بند اور ایک دیگر گاڑی کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، حملے کی زد میں آنے سے ایک گاڑی بری طرح متاثر ہوئی جبکہ قابض فوج کے تین اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ 

دریں اثناء مستونگ کے علاقے سیاہ پُشت میں سرمچاروں نے قابض فوج کی ایک گاڑی کو پہلے دھماکے اور بعد میں مسلح حملے کا نشانہ بنایا، جبکہ دشت (مستونگ) میں بھی قابض فوج کو مسلح حملے میں جانی نقصانات سے دوچار کیا۔

مزید برآں خاران کے علاقے ڈوروا میں سرمچاروں نے قابض فوج کی دو گاڑیوں کو مسلح حملے میں نشانہ بنا کر جانی نقصان پہنچایا۔

جیئند بلوچ نے اپنے بیان میں کہا اسی روز قلعہ عبداللہ میں سرمچاروں نے سرکاری اسکیم کے تحت ذخیرہ کیئے گئے اسٹاک کو تحویل میں لے لیا، اس دوران قابض فوج اور ڈیتھ اسکواڈ نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی جسے سرمچاروں نے گھات لگا کر نشانہ بنایا، قابض فوج کی آٹھ گاڑیوں میں سے دو گاڑیاں براہ راست حملے کی زد میں آئیں، جبکہ رات کے وقت اسی مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج اور ڈیتھ اسکواڈ پر ایک اور حملہ کیا ان حملوں میں مجموعی طور پر نو ہلاکتیں ہوئیں جن میں اکثریت “ڈیتھ اسکواڈ” کے ارکان کی تھی۔

بی ایل اے ترجمان نے کہا ہے 29 جولائی زامران کے علاقے جالگی میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں اور قابض فوج کے مابین اس وقت شدید جھڑپوں کا آغاز ہوا جب قابض فوج نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی۔ ان جھڑپوں میں قابض فوج کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے، جبکہ بی ایل اے کے دو سرمچار، عابد الرحمان عرف رحمان اور حمدان عرف مروان، شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی اپنے جانباز شہداء، عابد الرحمان عرف رحمان اور حمدان عرف مروان کی لازوال قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت اور سرخ سلام پیش کرتی ہے ان جانبازوں نے قومی آزادی کی جدوجہد میں اپنے خون کا نذرانہ دے کر جرات اور عزم کی نئی تاریخ رقم کی۔ 

“بی ایل اے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ شہداء کا خون اور ان کا پیغام تحریک کے لیئے مشعلِ راہ رہے گا، اور بلوچ سرزمین کی مکمل آزادی کے مقصد کے حصول تک قابض پاکستانی فوج کے خلاف جدوجہد اسی شدت سے جاری رکھی جائے گی”۔