بیبرگ قمبرانی اور حمل خان کو عدالت میں پیش کیا جائے یا فوری رہا کیا جائے۔ اہلخانہ کا مطالبہ

13

کوئٹہ سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار بیبرگ قمبرانی کی اہلیہ سیدہ بی بی نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج اس پریس کانفرنس میں میرے ساتھ میرے شوہر بیبرگ قمبرانی اور ان کے بھائی حمل خان قمبرانی کے والدین اور دیگر اہلخانہ بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے شوہر بیبرگ قمبرانی کو 5 دسمبر 2025 کی رات کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی میں ایک شادی کی تقریب سے حراست میں لیا گیا۔ اسی طرح ان کے چھوٹے بھائی حمل خان قمبرانی کو اسی روز ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں ایک چیک پوسٹ سے حراست میں لیا گیا۔ حمل خان کے ساتھ موجود دیگر افراد کو بعد میں رہا کر دیا گیا، تاہم بیبرگ اور حمل خان آج تک اپنے خاندانوں سے دور ہیں اور ان کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن دروازہ کھٹکھٹایا۔ متعلقہ تھانوں، سرکاری اداروں اور اعلیٰ حکام سے رجوع کیا، جبکہ لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن میں بھی اپنے کیسز جمع کروائے، لیکن آج تک ہمیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ انہیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہو۔ اگر کوئی الزام نہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بیبرگ اور حمل خان کے والد فالج کے مرض میں مبتلا ہیں اور اپنے بیٹوں کی جدائی کا درد روزانہ برداشت کر رہے ہیں۔ میرے دو کم سن بچے ہیں، جو ہر روز اپنے والد کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور ان کی واپسی کے منتظر رہتے ہیں۔ خاندان کے واحد کفیل ہونے کے باعث ان کی گمشدگی نے ہمیں نہ صرف شدید ذہنی اذیت سے دوچار کیا ہے بلکہ معاشی مشکلات میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔ ایک خاندان کے لیے اپنے پیارے کی خبر سے محرومی ایک مسلسل اذیت ہے، جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان ہر شہری کو آزادی، انسانی وقار، قانونی تحفظ اور منصفانہ سماعت کا حق دیتا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اصول بھی کسی شخص کو قانون کے دائرے سے باہر رکھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ہم صرف یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمارے پیاروں کے ساتھ بھی وہی قانونی اور انسانی سلوک کیا جائے جو ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ہم حکومتِ پاکستان، ریاستی اداروں کے سربراہان، عدلیہ، انسانی حقوق کے اداروں اور تمام متعلقہ حکام سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ بیبرگ قمبرانی اور حمل خان قمبرانی کے معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، ان کی موجودگی اور حالت کے بارے میں اہلخانہ کو آگاہ کیا جائے اور ان کی جلد از جلد باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ ہمارا مطالبہ صرف انصاف، قانون کی حکمرانی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری یہ فریاد سنی جائے گی اور ہمارے خاندان کو اس طویل اذیت اور بے یقینی سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ بیبرگ قمبرانی اور حمل خان قمبرانی کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔