پاکستان کی جانب سے بلوچوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنا، قابض کی نفرت اور غیر انسانی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ بی ایس او آزاد

20

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان شولان بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک تمام تر رکاوٹوں اور مظالم کے باوجود نہ صرف جاری ہے بلکہ روز بہ روز منظم اور مستحکم ہوتی جارہی ہے۔ تحریک کے تمام محاذوں پر بلوچ قوم کے عظیم فرزند اپنی قومی زمہ داری نبھاتے ہوئے پاکستانی تسلط کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔ دوسری جانب، ہمارے عظیم شہدا کے قربانیوں، عقوبت خانوں میں قید اسیران کی ہمت اور جبر کے خلاف مزاحمت کی بدولت عوامی سطح پر آزادی کی جدوجہد میں شمولیت اور حمایت مسلسل بڑھتی جارہی ہے ہے۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچ قومی تحریک کی مقبولیت، آزادی کے حوالے سے شعور اور عملی میدان میں عوامی شمولیت میں اضافے سے پاکستانی ریاست بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ بلوچ قوم نے پاکستانی قبضے کو روزِ اول سے رد کرکے اس کے خلاف مزاحمت کیا ہے، مگر اب ساری قوم عملی طور پر اس قبضے کے خلاف اکٹھا ہوکر مزاحمت کررہی ہے۔ قابض بلوچستان کے عملی میدان میں شکست سے دوچار ہوکر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے میڈیا پر گمراہ کن پروپگنڈے تک ہی محدود ہے۔ جبکہ بلوچ قومی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش میں ریاست بلوچ قوم کو خوفزدہ کرکے ان کو جائز آزادی کی تحریک سے دستبردار کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہے جس کی واضح مثال بلوچستان بھر میں جاری جبر و استبداد ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچ قومی تحریک سے وابستہ کارکنان کی جبری گمشدگی، مسخ شدہ لاش پھینکنا، خاندانوں کو مسلسل ہراساں کرکے اجتماعی سزا دینا، ان کے گھر مسمار کرنا سمیت دیگر اب قابض کے ہتھکنڈوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ دوسری جانب جبری گمشدہ افراد کو جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاش پھینکنا اب معمول بن چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں گوادر کے علاقے جیونی میں پانوان کے مقام پر پانچ جبری گمشدہ بلوچ فرزندوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرکے ان کی مسخ شدہ لاش پھینکی گئی جن میں ایک اسکول کا استاد بھی شامل تھا۔ اسی طرح رواں سال جنوری کے مہنے میں صرف پنجگور سے بیس سے زیادہ لاشیں پھینکی گئی جبکہ چھ مہینوں میں مجموعی طور پر چالیس کے قریب لاشوں کی برآمدگی، کیچ سے تیس سے زیادہ، گوادر سے دو درجن جبکہ کوئٹہ، سبی، اور خضدار سے ایک درجن سمیت بلوچستان بھر کے علاقوں میں مختلف ادوار میں جبری گمشدہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئے ہیں۔
جبری گمشدہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کرکے قابض ریاست بلوچ قوم سے اپنی نفرت کا اظہار کرکے بلوچ عوم میں خوف و ہراس پھیلانے کی ناکام کوشش کررہی ہے تاکہ بلوچ اپنی جائز آزادی کی تحریک سے دستبردار ہوکر پاکستان کی قبضہ کو تسلیم کریں۔ اپنی کھوئی ہوئی ساخت کو بچانے اور ناجائز قبضہ کو برقرار رکھنے کی کوشش میں ریاست روز کی بنیاد پر بلوچوں کو قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشوں کو ویرانوں میں پھینک دیتی ہے۔ پاکستانی ریاست بلوچ قوم کی نسل کشی میں ملوث ہے جو انتہائی مکارانہ اور منظم طریقے سے سرانجام دے رہی ہے۔

مزید کہاکہ پاکستانی ریاست کی بلوچستان میں جاری مظالم، ماورائے عدالت قتل اور جعلی مقابلوں کے خلاف بی ایس او آزاد ایک ہفتہ وار سوشل میڈیا مہم کا اعلان کرتی ہے جس میں قابض ریاست کی بلوچستان میں جاری مظالم پر دستاویزی ثبوت، ڈیٹا اور رپورٹس شائع کی جائیں گی۔ ہم تمام بلوچ سیاسی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سوشل میڈیا کارکنان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس کیمپئین کا حصہ بن کر مقبوضہ بلوچستان کی آواز بنیں۔