افغانستان کے وزیرِ زراعت مولوی عطاء اللہ عمری نے کہا ہے کہ انڈیا اور افغانستان کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں اور دونوں کا ’ڈی این اے ایک ہی ہے۔
ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کے مطابق افغان وزیر نے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی ایچ ڈی سی سی آئی) کے ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین تاریخی روابط پر زور دیا۔
وہاں موجود انگریزی مترجم کے مطابق مولوی عطاء اللہ عمری نے ہال میں موجود شرکاء کی ایک بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے بالکل بھی یہ محسوس نہیں ہو رہا کہ میں کسی اجنبی جگہ پر ہوں۔ یہ ہمارا اپنا ہی ملک ہے۔
افغان وزیر زراعت نے اپنے محکمے اور افغانستان کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کی 80 فیصد آبادی لائیو سٹاک، زراعت اور آبپاشی کے شعبے سے وابستہ ہے۔
انہوں نے انڈیا کی زرعی ترقی اور ٹیکنالوجی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان کسانوں کو بھی نئی ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’افغان عوام کو مزید جدید اور باصلاحیت بنانے کے لیے، ہمیں ان روایتی طریقوں اور پرانی ٹیکنالوجی کو بدلنا ہو گا جو ہم اب تک استعمال کر رہے تھے۔
طالبان وزیر نے اپنی گفتگو کا اختتام دونوں ممالک کے تاریخی رشتوں پر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے دوستی کے یہ تعلقات آج، کل یا پرسوں کے نہیں ہیں، بلکہ یہ قدیم زمانے سے ہیں اور سینکڑوں سال پرانی تاریخ رکھتے ہیں۔‘



















































