بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد نے اپنی رکن روبینہ بلوچ اور طالب علم بہرام بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
بیان کے مطابق، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کی رکن اور میں بی ایس ماس کمیونیکیشن کے چوتھے سمسٹر کی طالبہ روبینہ بلوچ جبکہ طالب علم بہرام بلوچ کو 2 جولائی کو اسلام آباد سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسلام آباد میں بلوچ طلبہ کے گھروں پر چھاپوں، دھمکیوں اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث بلوچ طلبہ میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوئی ہے۔
کونسل نے روبینہ بلوچ اور بہرام بلوچ کی گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اہلِ خانہ کو جواب دیے جانے چاہئیں اور دونوں طلبہ کی موجودہ صورتحال اور مقام کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
بیان میں انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا برادری، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور طلبہ تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں اور طلبہ کو نشانہ بنانے کے خلاف آواز بلند کریں اور انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
















































