کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6217ویں روز بھی جاری، دو لاپتہ بیٹوں کے کیسز جمع

32

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ 6217ویں روز بھی جاری رہا۔ اس موقع پر غلام عباس قمبرانی نے کیمپ میں شرکت کی اور اپنے دو جبری لاپتہ بیٹوں کے کیسز کے کوائف وی بی ایم پی کے پاس جمع کروا دیے۔

غلام عباس قمبرانی فالج سے متاثرہ شخص ہیں، جن کے دو بیٹے حمل خان قمبرانی اور بیبرگ قمبرانی 5 دسمبر 2025 سے جبری طور پر لاپتہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے حمل خان قمبرانی کو 5 دسمبر 2025 کو شام تقریباً 7 بجے ڈیگاری کراس ایف سی چیک پوسٹ سے ان کے تین دوستوں سمیت ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ ان کے مطابق اگلے روز حمل خان کے تینوں دوستوں کو رہا کر دیا گیا، تاہم حمل خان تاحال جبری لاپتہ ہیں۔

غلام عباس قمبرانی نے مزید بتایا کہ ان کے دوسرے بیٹے بیبرگ قمبرانی کو بھی 5 دسمبر 2025 کی رات تقریباً پونے بارہ بجے کلی قمبرانی، کوئٹہ میں ایک شادی کی تقریب سے سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکار تفتیش کے بہانے حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے مطابق اس واقعے کے متعدد عینی شاہدین موجود ہیں، تاہم بیبرگ قمبرانی کے بارے میں آج تک کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹوں کی جبری گمشدگی کے حوالے سے ایف آئی آر درج کروانے کے لیے متعدد بار متعلقہ پولیس تھانے گئے، لیکن ان کی درخواست پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے بیٹوں کی باحفاظت بازیابی کے لیے انہوں نے کئی مرتبہ اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا، مگر اب تک نہ تو ان کے بیٹوں کو کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی موجودگی یا حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس کے باعث ان کا خاندان شدید ذہنی اذیت اور کرب کا شکار ہے۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے غلام عباس قمبرانی کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے بیٹوں کے کیسز تنظیمی سطح پر لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن اور صوبائی حکومت کے سامنے اٹھائے جائیں گے، جبکہ ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ حمل خان قمبرانی اور بیبرگ قمبرانی سمیت تمام لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔