بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ فدائی یونٹ مجید بریگیڈ اور ہراول دستے فتح اسکواڈ نے گوادر کے ساحلی شہر جیونی میں، پانوان کے مقام پر قائم قابض پاکستانی فوج، کوسٹ گارڈز اور خفیہ اداروں کے مشترکہ عسکری کیمپ پر ایک مربوط اور کامیاب فدائی آپریشن سرانجام دیا۔
ترجمان کے مطابق یہ معرکہ بی ایل اے کے وسیع تر عسکری آپریشن ”زرپہازگ” ( سمندر کی حفاظت) کے چھٹے حصے کا تسلسل ہے، اس کامیاب عسکری معرکے میں اب تک پنجاب رجمنٹ، کوسٹ گارڈز اور عسکری خفیہ اداروں (ایم آئی و آئی ایس آئی) کے 30 سے زائد اہلکار ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہوچکے ہیں۔
جیئند بلوچ نے کہا نشانہ بنایا گیا یہ عسکری مرکز جیونی شہر سے تقریباً 10 کلومیٹر دور ساحلی پٹی کی جاسوسی اور کڑی نگرانی کے لیئے پانوان کے مقام پر قائم کیا گیا تھا، جو قابض ریاست کا ایک نہایت حساس گڑھ تھا۔
اس مشترکہ کیمپ میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی تھرڈ بٹالین اور پنجاب رجمنٹ کی 32 یونٹ کے 20 سے زائد باقاعدہ عسکری اہلکاروں سمیت قابض فوج کے خفیہ اداروں ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) اور آئی ایس آئی کے اہم کارندے مستقل طور پر تعینات رہتے تھے، جہاں سے بلوچ ساحل کی ناکہ بندی اور لوٹ مار کی نوآبادیاتی کارروائیاں کنٹرول کی جاتی تھیں۔
ترجمان کے مطابق کل شام ٹھیک چھ بجکر بتیس منٹ پر ہمارے فدائی دستے مجید بریگیڈ کے فدائی سرمچار عطاء اللہ بلوچ عرف اجمل نے بارود سے بھری ایک مزدا گاڑی کو کامیابی کے ساتھ تمام عسکری رکاوٹوں اور دفاعی لائنوں کو توڑتے ہوئے کیمپ کے اندر لے جا کر ڈیٹونیٹ کیا۔
اس انتہائی طاقتور فدائی دھماکے کی زد میں آکر کیمپ کی مضبوط عمارتیں اور بنکر سیکنڈوں میں زمین بوس ہوگئے اور وہاں موجود دشمن کا تمام جنگی ساز و سامان خاکستر ہوگیا، فدائی حملے کے فوراً بعد، ہمارے خصوصی دستے فتح اسکواڈ نے طے شدہ منصوبے کے تحت انتہائی تیز رفتاری سے پیش قدمی کرتے ہوئے تباہ شدہ کیمپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔
فتح اسکواڈ کے سرمچاروں نے کیمپ کے قریب موجود، دھماکے سے بچ جانے والے قابض فوج کے باقی ماندہ اہلکاروں کو نشانہ بنا کر موقع پر ہی جہنم واصل کردیا۔
انہوں نے کہا اس فدائی آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے والے بی ایل اے مجید بریگیڈ کے جانباز فدائی سرمچار سنگت عطاء اللّٰہ بلوچ عرف اجمل ولد محمد عظیم، نیگینداپ، رخشان، پنجگور کے رہائشی تھے، بیس سالہ فدائی سرمچار تعلیم یافتہ اور اعلیٰ سیاسی وانقلابی شعور سے لیس تھے، انہوں نے 29 اگست 2024 کو تنظیم میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی اور پنجگور، کیلکور، پروم اور واشک کے کٹھن عسکری محاذوں پر دشمن کے خلاف گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔
بعد ازاں انہوں نے مادرِ وطن کی آزادی کے مقدس مقصد کے لیئے رضاکارانہ طور پر مجید بریگیڈ میں شمولیت اختیار کی اور دشمن پر یہ تاریخی وار کیا۔
ترجمان نے کہا ہے کہ سنگت عطاء اللہ بلوچ کی یہ لازوال قربانی اور ان کا یہ فدائی مشن بلوچ قومی تحریک کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، بیس سال کی کم عمری میں فدائی سرمچار نے جس غیر متزلزل عزم اور دھرتی سے سچی محبت کا مظاہرہ کیا، وہ مظلوم قوموں کی آزادی کی جنگوں میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا بارود سے بھری گاڑی لے کر دشمن کے مضبوط قلعے میں اتر جانا اور خود کو دھرتی کی آزادی پر نثار کردینا اس نظریاتی بالادستی کا ثبوت ہے جو مجید بریگیڈ کے فدائی سرمچاروں کو دشمن کے خوفزدہ اور حواس باختہ کرائے کے فوجیوں سے ممتاز کرتی ہے، ہم سنگت عطاء اللہ بلوچ کی اس بے مثال عظمت اور شجاعت کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے یہ عہد کرتے ہیں کہ ان کے خون سے جلنے والا یہ چراغ آزادی کی سحر تک روشن رہے گا۔
جیئند بلوچ نے کہا ہے بلوچ لبریشن آرمی اس تاریخی معرکے اور آپریشن زرپہازگ کے اس چھٹے مرحلے کے ذریعے قابض پاکستان اور اس کے تمام نوآبادیاتی شراکت داروں پر ایک بار پھر یہ واضح کر دینا چاہتی ہے کہ بلوچ دھرتی اور ساحل کی عسکری ناکہ بندی اور وسائل کی لوٹ مار کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جیونی میں دشمن کے مشترکہ عسکری گڑھ پر یہ کاری ضرب اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری یہ جارحانہ حکمت عملی اب دشمن کی سوچ سے بھی زیادہ مہلک ہوچکی ہے، مقبوضہ بلوچستان کی مکمل آزادی اور قابض فوج کے آخری سپاہی کے انخلا تک عسکری تنصیبات، جاسوسی مراکز اور نوآبادیاتی مفادات پر ہمارے یہ حملے اسی تسلسل اور شدت کے ساتھ جاری رہیں گے، اور دھرتی پر قابض فوج کے لیئے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہنے دی جائے گی۔
ترجمان نے مزید کہا ہم تمام بین الاقوامی قوتوں اور علاقائی سرمایہ کاروں کو بھی سخت تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ قابض پاکستانی ریاست کے ساتھ مل کر بلوچ وسائل کے استحصال اور سیکیورٹی منصوبوں کا حصہ بننے سے مکمل گریز کریں، ہماری جنگ کسی بھی سمجھوتے سے پاک ہے اور بی ایل اے کے پاس ہر اس نیٹ ورک کو پاش پاش کرنے کی عملیاتی صلاحیت موجود ہے جو بلوچ قوم کی مرضی کے خلاف یہاں مسلط کیا جائے گا۔
انکا آخر میں کہنا تھا ہماری صفوں میں شامل ہزاروں باشعور اور پرعزم نوجوان وطن کی آزادی کے لیئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیئے ہمہ وقت تیار ہیں، اس لیئے دشمن کے لیئے عافیت اسی میں ہے کہ وہ جلد از جلد بلوچستان سے اپنے قدم پیچھے ہٹا لے بصورت دیگر آنے والے دن اس کے لیئے مزید ہولناک ثابت ہوں گے۔

















































