بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بیان میں کہا کہ بی وائی سی کے رکن سید بی بی بلوچ کو ان کے گھر سے بغیر کسی قانونی جواز کے گرفتار کرنا بلوچستان میں پاکستانی فسطائیت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آج منگل کی رات تقریباً 9:30 بجے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے سید بی بی بلوچ کی گھر کی چادر و چاردیواری کی پامالی کرکے انہیں غیر قانونی طور پر گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے حالانکہ گزشتہ چار ماہ سے ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے، جس کے باعث وہ ہر ہفتے باقاعدگی سے سی ٹی ڈی کے دفتر میں پیشی دیتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے تربت میں احتجاج کا اعلان کیے جانے کے بعد سی ٹی ڈی اہلکار مسلسل سید بی بی بلوچ کو فون کر کے ہراساں کرتے رہے۔
“فورتھ شیڈول انسدادِ دہشت گردی کے قانون کا حصہ ہے، لیکن بلوچستان میں اس قانون کو سیاسی کارکنوں، طلبہ، اساتذہ، عام شہریوں اور حتیٰ کہ نابالغ بچوں کو ہراساں کرنے اور ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس قانون کے باعث متعدد طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھنے سے بھی محروم ہو چکے ہیں، جبکہ عوام مسلسل ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ جب بھی کسی شہر میں احتجاج کا اعلان ہوتا ہے، فورتھ شیڈول میں شامل افراد کو سی ٹی ڈی دفاتر میں طلب کر کے ہراساں کیا جاتا ہے۔”
مزید کہا گیا کہ سید بی بی شریف کو اس وقت ویمن پولیس تھانہ تربت میں رکھا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ یہ طرزِ عمل جابرانہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس غیر قانونی اقدام کا نوٹس لیں، سید بی بی شریف کی فوری رہائی کے لیے آواز اٹھائیں، اور پاکستان میں سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری جبر، شہری آزادیوں پر قدغن اور فسطائی طرزِ حکمرانی کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں۔
















































