24 جون، بلوچستان بھر میں بی وائی سی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال، پی ٹی ایم کی مکمل حمایت کا اعلان

52

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 24 جون بروز بدھ بلوچستان بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق یہ احتجاج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی بلوچ کے خلاف سنائے گئے عدالتی فیصلوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور رہنما صبغت اللہ شاہ کے خلاف جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا پر مشتمل نام نہاد عدالتی فیصلہ ریاست اور عدلیہ کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ پی ٹی ایم اس جھوٹے مقدمے اور خلافِ قانون سزا کو یکسر مسترد کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی 24 جون بروز بدھ کے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حقیقت اپنی پوری سنگینی کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑی ہوئی ہے کہ پاکستان کا نظامِ انصاف نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کا وہ اہم ترین پہلو ہے جسے تاریخی طور پر محکوم اقوام کی سیاسی مزاحمت کو کچلنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

بلوچستان میں جاری قومی مزاحمت اور ریاستی جبر کے پورے پس منظر کو نظر انداز کرتے ہوئے جھوٹے اور حقائق کے برعکس مقدمات بنا کر سیاسی کارکنوں کو عمر قید کی سزائیں سنائی جانا طاقت اور قانون کے اس باہمی رشتے کی عکاسی کرتا ہے، جس میں قانون کو بالادست اقوام اور ریاستی اداروں کے مفادات کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ اسے محکوم اقوام کو کنٹرول کرنے اور استحصالی منصوبوں کو تحفظ فراہم کرنے کا آلہ بنا لیا جاتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف نام نہاد جھوٹے مقدمات قائم کرنے اور پھر انہیں جس ماحول میں چلایا گیا، وہاں منصفانہ ٹرائل، آزادانہ قانونی دفاع، غیر جانبدار عدالتی عمل اور انصاف کے تقاضوں کے برعکس نامناسب عدالتی کارروائی پاکستان کے عدالتی نظام کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔

ایک طرف راج مچی ریلی کے دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف جھوٹے مقدمات میں عمر قید کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں، جبکہ اسی ریلی میں ریاستی اہلکاروں کے ہاتھوں شہید کیے گئے تین بلوچ نوجوانوں کے خلاف مقدمہ تک درج نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف ان ہزاروں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتلوں اور فوجی آپریشنوں کا حساب کون دے گا جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے پشتون اور بلوچ سرزمین کو جنگ اور عسکریت کے میدان میں تبدیل کر رکھا ہے؟ وہ کون سی عدالت ہے جہاں ریاستی تشدد اور ظلم کے مقدمات زیرِ سماعت آتے ہیں؟

پی ٹی ایم نے کہا ہے کہ پاکستانی ریاست کی نوآبادیاتی ساخت میں عدلیہ، انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے عموماً ایک ہی سیاسی منطق کے تحت کام کرتے ہیں۔ اس منطق کا بنیادی مقصد محکوم علاقوں میں قومی مزاحمت کو ایک “سکیورٹی مسئلہ” بنا کر پیش کرنا ہے۔ بلوچ اور پشتون علاقوں میں جاری جبر، عسکریت اور سیاسی کارکنوں کی مجرمانہ تصویر کشی اسی وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔

لہٰذا راج مچی کے خلاف درج جھوٹے کیس کا یہ فیصلہ محض چند افراد کے خلاف نہیں بلکہ محکوم اقوام کی سیاسی آوازوں، قومی حقوق کے جائز مطالبات اور ریاستی جبر کے خلاف ابھرنے والی مزاحمت کے خلاف ایک واضح پیغام ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ جیلیں، سزائیں اور ریاستی جبر قومی مزاحمت اور آزادی کی خواہش کو کبھی ختم نہیں کر سکے۔ پشتون تحفظ موومنٹ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی عدالتی ناانصافیوں کے خلاف 24 جون بروز بدھ کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔ ہم اس ناانصافانہ فیصلے کو پوری طرح مسترد کرتے ہیں اور بلوچ عوام کے ساتھ ساتھ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام سیاسی قیدیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔