بلوچ نیشنل موومنٹ کے زیرِ اہتمام ہفتے کے روز بزرگ قوم دوست رہنما بابا خیر بخش مری کی 12 ویں برسی کی مناسبت سے ایک یادگاری تقریب منعقد کی گئی۔
بی این ایم جرمنی چیپٹر کی نارتھ رائن ویسٹ فیلیا یونٹ کی جانب سے منظم کی گئی اس تقریب میں بابا مری کی زندگی، جدوجہد اور بلوچ قومی تحریک کے لیے ان کی لازوال خدمات پر انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز بلوچ شہداء کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اور بلوچ قومی ترانے سے ہوا، تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے این آر ڈبلیو یونٹ کے ڈپٹی سیکریٹری حبیب بلوچ نے بابا مری کو قوم دوستی کا مشعل قرار دیتے ہوئے ان کی نظریاتی رہنمائی اور قومی مقصد کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی پر چلنے کی اہمیت پر زور دیا۔
تقریب سے اپنے خطاب میں مہمانِ خصوصی اور بی این ایم جرمنی چیپٹر کے جنرل سیکریٹری لقمان بلوچ نے کہا کہ بابا خیر بخش مری نے موجودہ دور کی بلوچ مزاحمتی تحریک کی حقیقی بنیادیں رکھیں۔
انھوں نے خاص طور پر بابا مری کے علمی سرکل ’’حق توار‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے اسے عصرِ حاضر کی جدوجہد کے نظریاتی فریم ورک کا سنگِ میل قرار دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ آپ محض گفتار کے بجائے عملی اور منظم جدوجہد پر یقین رکھتے تھے، اس حوالے سے انھوں نے ایک انٹرویو کا تذکرہ کیا جہاں میزبان نے بابا مری کو تحریک کے حساس اور اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے کے لیے اکسانے کی کوشش کی، تو بابا مری نے کمال دانشمندی سے جواب دیا میں باخبر ضرور ہوں، مگر مخبر نہیں۔
لقمان بلوچ نے اپنی گفتگو کا اختتام میں کہا ایسے پختہ اصول قومی کارکنان کے لیے ایک اہم معیار کی حیثیت رکھتے ہیں، انھوں نے زور دیا کہ وہ قومی تحریک کی بنیادی جڑوں کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے بابا مری کے فلسفے، زندگی اور جدوجہد کا باریک بینی سے مطالعہ اور تحقیق کریں۔
بی آر پی جرمنی کے رکن حماد بلوچ نے بابا مری کو ایک ایسا نظریاتی رہنما قرار دیا جن کا وژن آج کی جدید جدوجہد کو جلا بخش رہا ہے، جبکہ بی این ایم کے رکن شیر جان بلوچ نے کہا کہ ان کی تاحیات قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثالی نمونہ ہیں۔
بابا خیر بخش مری کے منفرد سیاسی مقام پر روشنی ڈالتے ہوئے بی این ایم کے سینیئر کارکن شئے جامی نے کہا کہ ایک روایتی قبائلی سربراہ سردار ہونے کے باوجود، بابا مری نے ہمیشہ قبائلی مفادات پر وسیع تر قومی مفاد کو ترجیح دی—
شئے جامی نے تقریب کے دوران ایک مزاحمتی بلوچی نظم پڑھ کر ان کی اس عظیم سوچ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

















































