نواب یوسف عزیز مگسی: تاریخ، سیاست، مفروضے اور نسلوں کا بدلتا ہوا بیانیہ
تحریر: پروفیسر گندار بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
اکتیس مئی مرحوم نواب یوسف عزیز مگسی کی برسی کا دن ہے جب ایک تباہ کن زلزلے نے کوئٹہ کو ملیامیٹ کرکے اپنے اثرات قلات شہر تک پھیلائے تھے۔ نواب یوسف عزیز مگسی صاحب اکتیس مئی انیس سو پینتیس کے تباہ کن زلزلے میں فوت ہوگئے تھے جنھیں کوئٹہ کے کاسی قبرستان میں دفنایا گیا تھا۔ ان کے مرنے کو ایک صدی ہو چکی ہے مگر آج بھی ان کے کچھ چاہنے والے ان کی قبر پر حاضری دیتے ہیں اور ان کی برسی اپنی بساط کے مطابق عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ ابھی چند دن گزرے ہیں کہ اس سال اکتیس مئی کو مرحوم نواب یوسف علی خان کے کچھ چاہنے والوں نے جا کر ان کے قبر پر چادر چڑھائی اور عقیدت کا اظہار کیا جن کی تصاویر میڈیا کی زینت بنیں اور پھر اس کے بعد ایک محدود سی بحث اس حوالے سے شروع ہوئی۔
نسلوں کا زاویہ نظر اور مگسی کی شخصیت
مرحوم نواب مگسی کے چاہنے والے ان کے حوالے سے ہمیشہ سے ایک محدود پیرائے میں ہی بحث کو سمیٹنا چاہتے ہیں۔ آج کے جدید دور کے تناظر میں اگر بات کی جائے تو جنریشن “بیبی بومرز” اور جنریشن “ایکس” میں ان کے چاہنے والے ہیں جبکہ جنریشن وائی ان کے نقاد ہیں اور جنریشن زی ان میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ جنریشن وائی وہ نسل ہے جنھوں نے حالیہ تحریک کے شروعاتی سالوں میں مرحوم غوث بخش بزنجو کے طرزِ سیاست کو مسترد کرنا شروع کیا، جہاں ان کے چاہنے والوں اور جنریشن وائی کے درمیان ایک بحث شروع ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے بلوچستان یونیورسٹی کے اسلامیات ڈیپارٹمنٹ میں شہید پروفیسر استاد صباء دشتیاری پڑھاتے تھے، ان کے دفتر میں مرحوم غوث بخش بزنجو کی تصویر لگی ہوتی تھی۔
بی ایس او کا پروگرام اور صباء دشتیاری و شاہ محمد مری کا اختلاف
ایک دفعہ کوئٹہ پریس کلب میں بی ایس او نے مرحوم نواب یوسف عزیز مگسی کی برسی کے حوالے سے ایک پروگرام رکھا تھا جہاں پروفیسر صباء دشتیاری اور ڈاکٹر شاہ محمد مری بطور مہمان موجود تھے۔ دونوں مقررین اس بات پر الجھ گئے کہ آیا بقولِ صباء صاحب یوسف عزیز مگسی آزادی پسند اور گوریلا جدوجہد کے حامی تھے اور ڈاکٹر شاہ محمد کے مطابق وہ ایک غریب پرور، کسان مزدور جدوجہد کے حامی طبقاتی جدوجہد کے حمایتی رہنما تھے۔ البتہ ہر دو مقررین خاص طور پر صباء دشتیاری صاحب اس حد تک الجھ گئے کہ منتظمین اور شریکِ مجلس لوگوں کے لیے ماحول پریشان کن بن گیا تھا۔
غوث بخش بزنجو، مگسی اور نئی نسل کا تنقیدی رویہ
ایسا لگتا ہے جس طرح جنریشن وائے نے میر بزنجو کے طرزِ سیاست کو مسترد کردیا تھا اور آج جنریشن زی نے کافی حد تک اس کی توثیق کردی ہے، بالکل اسی طرح جنریشن زی مرحوم نواب یوسف عزیز مگسی کے حوالے سے گڑھے مفروضوں، قصوں اور کہانیوں یا علمی و فکری مغالطوں کو مسترد کر رہی ہے، بلکہ یہاں جنریشن وائے ان کی توثیق کرتی نظر آ رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آج کی نسل ان کے بارے میں جاننا نہیں چاہتی یا جانتے نہیں ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ میر نوری نصیر خان، شہید خان محراب خان، مصری خان کھیتران، آغا عبدالکریم اور نواب نوروز خان کو کیسے جانتے ہیں؟ اور ان کی سیاسی فکر و طرزِ جدوجہد کو مانتے ہیں۔
میرا خیال ہے بات ماننے یا نہ ماننے کی نہیں ہے بلکہ بحث مفروضوں، من گھڑت کہانیوں اور پسند کی تاریخ و من پسند شخصیات کو قوم پر مسلط کرنے کی ہے؛ دراصل قوم اسے مانتی ہے جو اس کی سیاسی قومی نفسیات کو سجے اور جدوجہد کا وہ طرز اپنائے جو اس کے لیے نجات کا باعث ہو۔ ورنہ گاندھی کی پوری زندگی کی جدوجہد کو بھگت سنگھ کی مختصر جدوجہد پر بھی سبقت حاصل نہیں ہے۔
تاریخ نویسی، قومی بیانیہ اور کالونیل تناظر
ڈاکٹر شاہ محمد مری صاحب نے مگسی صاحب کی جدوجہد پر تین سے زائد کتابیں لکھی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کے ہم خیال لوگوں کا ایک حلقہ یوسف کے عقیدت مند ہیں۔
مرحوم غوث بخش بزنجو لکھتے ہیں کہ “کسی قوم کا مورخ اسی قوم کا فرد ہونا چاہیے کیونکہ غیر اس قوم کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے” اسی طرح کے خیالات ایڈورڈ سعید، فرانز فینن اور نیلسن منڈیلا کی جانب سے بھی غیر مقامی لکھاری، تاریخ دان اور سیاست دان کے حوالے سے ملتے ہیں، کیونکہ وہ غیر یا کالونائزر مقامی قوم کا استحصال کرنے آئے ہیں لہٰذا وہ جب تک مقبوضہ قوم کی سیاسی اور قومی تاریخ کو مسخ کریں گے مقامی لوگوں کو اپنے من پسند سیاسی رہنما اور قومی ہیروز دیں گے تب ہی اس کا استحصال کا کاروبار چلتا رہے گا۔
مثلاً پوری دنیا یہ بات مانتی ہے، اور انسانی تاریخ گواہ ہے کہ مسلح جدوجہد ہی غلامی کے خلاف راہِ نجات ہے؛ اس لیے قابض مقبوضہ کے ایسے رہنماؤں کے کردار کو مسخ کرکے پیش کرنا چاہتا ہے جو قومی نجات کے لیے مزاحمت کو ہی عملی راستہ مانتے ہیں اور اسے حقیقی سیاسی جدوجہد کے طور پر اپناتے ہیں، مگر قابض ایسے لوگوں کو مختلف ذرائع سے چھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اسے وقتی طور پر فائدہ ملے اور وہ اپنے لوٹ مار کو بڑھاوا دے۔ اس طرح وہ اس قوم کے حقیقی ہیروز کو تشدد پسند، جاہل اور انتہا پسند کہلواتا ہے جبکہ اپنے من پسند سیاسی ملازمین کو ذہین، دانشور، پرامن جیسے القابات سے نوازتا ہے اور اس سلسلے کو اس وقت تک چلاتا ہے جب تک جنریشنز الفا اور زی اصرار کر کے انھیں ان کے اصل اعمال کی بدولت پٹ و پول کا سہارا لینے کے بعد مسترد کرتے ہیں۔
مثلاً مصری خان کھیتران، شہید نورالدین مینگل، خان محمد گرگناڑی، سلیمان گرگناڑی، شہید نورمحمد نورا مینگل جیسے ثابت قدم قومی ہیروز کے بجائے قابض کے منظورِ نظر ملازم یا پیرولڈ سیاستدانوں کو عظیم قومی ہیروز پیش کرنا اور ان کے استبل کے عدمِ تشدد کا چورن نکال کر بیچنا اور اپنی دی ہوئی غلامی کی توک کو طویل کرنا قابض اور اس کے ملازم لکھاریوں اور سیاست دانوں کا تاریخی میراث رہا ہے۔
قومی تحریکوں میں اگر کسی نے ایک گلاس پانی بھی پلایا ہے سر آنکھوں پر بشرطیکہ اس ایک گلاس پانی کو زم زم کے پانی سے بھرا سمندر نہ گردانا جائے؛ یعنی حال غوث بخش بزنجو اور نواب یوسف عزیز مگسی کے چاہنے والے بلوچ سیاسی تاریخ کے ساتھ یہ کرنا چاہتے ہیں، اور ایسا طرزِ عمل ہمیشہ تاریخ کے اوراق پر بوجھ رہے گا۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فرد کا کردار ہو یا تاریخ کا عمل، جو جس طرح ہے اسے ویسے ہی بیان کیا جانا مناسب ہے، ورنہ ہمیں بھی اتنے مادر، قائد، علامہ، سر، میڈم، راجی رہشون ملیں گے کہ سال کے تین سو پینسٹھ دن برسی منانے کے لیے کم پڑ جائیں گے۔
جدید بلوچ نیشنل ازم اور مگسی کے بارے میں سوالات
مثلاً محترم ڈاکٹر شاہ محمد مری صاحب اور ڈاکٹر سلیم کرد صاحب دونوں نے نواب یوسف عزیز مگسی کی زندگی اور جدوجہد پر دو الگ الگ کتابیں لکھیں ہیں اور ہمارے محترم ڈاکٹر سلیم کرد صاحب نے نواب یوسف عزیز مگسی مرحوم پر لگ بھگ پانچ سو صفات پر مشتمل ایک کتاب لکھی ہے، (کتاب کا تنقیدی جائزہ یہاں غیر مناسب ہوگا) انھوں نے یوسف عزیز مگسی صاحب کو ایک تحریک کا نام دیا ہے، اور ان پانچ سو صفات والی کتاب کے پانچ مستند حوالے نہیں ملتے ہیں، بلکہ ایک جگہ میں نے پڑھا کچھ لوگوں نے بشمول نیشنل پارٹی کے انھیں جدید بلوچ نیشنل ازم کا بانی قرار دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ نیشنل ازم کیا ہے؟ جدیدیت اور جدید نیشنل ازم کیا ہے؟ کیا جدید نیشنل ازم اور محکومیت اکٹھے رہ سکتے ہیں؟ اور پھر نوری نصیر خان نے جس جدیدیت کی بنیاد رکھ کر بلوچوں کو سٹی اسٹیٹ یا قبائلی ریاستوں سے نکال کر جدید فیڈریشن میں سمویا، اسے کیا نام دیں گے؟ شہید محراب خان، آغا عبدالکریم اور نواب نوروز کے دشمن کی جانب پھینکے گئے اولین پتھر کو کیا نام دیں گے؟ اور پھر شیر محمد مری، قادر بخش نظامانی، نواب خیر بخش مری، اور استاد اسلم بلوچ، ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ اور مرید بلوچ و بشیر زیب بلوچ کی جدوجہد کو قدامت پسند کہیں گے؟ یا جدیدیت؟ اس کا جواب کم از کم دشمن کے رویے سے واضح ہے۔
تاریخ نویسی پر تنقید اور مگسی کا سیاسی مقام
اپنے الفاظ کے لیے معافی چاہتا ہوں مگر قبضہ گیریت کے ادوار میں لکھی گئی قوموں کی تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ کالونیل دور کے ان پڑھ، ڈرپوک، ملازم لکھاری اور سیاستدان قوموں کے حقیقی جہد کاروں کے بجائے اپنے لیے خود سے ہیروز ڈھونڈ کر پھر انہیں پرامن، ذہین اور دور اندیش کا نام دیتے ہیں۔ اور پھر غلامی کے دور کے اپنے ہی کمزور نام، القابات اور تعریفیں ہوتیں ہیں مثلاً شہید کا خون سرخ ہوتا ہے، اس کے خون کی خوشبو گلاب جیسی ہے، بانک، گہار، راجی راہشون، شیر وغیرہ وغیرہ اور کچھ کو قابض سامنے لاکر قائد، مادر ملت، سر اور عدمِ تشدد کا نام دیتا ہے جن کے چاہنے والے ملازم سیاسی ورکر یا ڈرپوک سیاسی ورکر شامل ہوتے ہیں جو انگلی کٹا کر شہدوں کے قافلے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں اور بعض قمیض پھاڑ کر اسے شیر کی پھٹی ہوئی کال سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ان کے پاس ایک واحد راستہ رہ جاتا ہے کہ “جی ہم تو فکرِ بزنجو، فکرِ یوسفی اور عدمِ تشدد کے پیروکار ہیں”۔
بعض تو اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ “فلانہ ہمارا ریڈ لائن ہے، فلانہ ایک فرد نہیں فکر کا نام ہے” تو فرد اگر فکر ہے تو پھر فکر کیا ہے؟ نظریہ کیا ہے؟ خیال کیا ہے؟ تحریک کیا ہے؟ غلامی اور آزادی کیا ہے؟ یعنی کچھ بزنجو صاحب اور مگسی صاحب کے چاہنے والے ان کے ساتھ کرچکے ہیں اور بلوچ قوم سے من و عن ان کے کہے اور لکھے کو ماننے کی توقع رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر سلیم کرد، ریفارمسٹ کا تصور اور طبقاتی جدوجہد
مثال کے طور پر ڈاکٹر سلیم کرد صاحب مگسی صاحب پر لکھی گئی اپنی تصنیف میں انھیں ایک جگہ ریفارمسٹ لکھتے ہیں۔ اب ریفارمسٹ کے معنی سماجی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرنے والا سماجی ورکر ہوتا ہے، آگے جا کر انھیں علاقائیت اور بلوچستان سے نکال کر عالمگیر رہنما مانتے ہیں۔
عبدالرحمن بگٹی اور مگسی میں فرق یہ ہے کہ ایک کو روایات کے برعکس نوابی ملا اور دوسرے سے روایات کے برعکس نوابی چھینی گئی، یعنی پتھر کے زمانے کے بلوچستان میں جہاں ایک بھی ایسا آدمی نہیں تھا جو حکومتِ برطانیہ کے وفود اور قانونی کمیٹیوں کے سامنے بلوچستان کے معاملات کا دفاع کر سکے، وہاں بقولِ ڈاکٹر صاحب کے مگسی صاحب نے کسانوں کے مظالم کے خلاف نہ صرف جدوجہد کی بلکہ اصلاحات بھی متعارف کرائیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس دور میں بلوچستان کے خشکابہ زمینوں پر کتنی زمینداری ہوتی تھی؟ کتنے مالکانہ حقوق تھے اور مگسی صاحب کے والد صاحب نواب تھے بعد میں وہ خود نواب بنے تو زمینداروں کا استحصال کون کر رہا تھا؟ ملازموں کے حقوق کی بات۔ اس وقت کے بلوچستان میں حقیقی معنوں میں کتنے سرکاری ملازم تھے اور بیوروکریسی کا کیسا نظام تھا جو سروس رولز بنے؟
قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی اور ملازمتوں کا سوال
البتہ ایک قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی تھی جس کے تمام مرکزی قائدین کو اس وقت کے حساب سے ریاست کی جانب سے آغازِ حقوق بلوچستان ملا جس کے بعد سب ملازمتوں کو پیارا ہو گیا، جن میں گل خان نصیر، محمد حسین عنقا، یوسف غالب کرد سمیت پوری قیادت نے ملازمت لی اور مگسی صاحب چونکہ نواب خاندان سے تھے اور بہت سے سردار ان کے کزن اور ماموں تھے لہٰذا ان کی سفارش پر وہ نواب بنا کر لندن بھیج دیے گئے تھے۔
مگسی، نوابی تنازع اور انجمنِ اتحادِ بلوچاں
یعنی کچھ ڈاکٹر شاہ محمد مری صاحب نے مگسی صاحب کے بارے میں لکھا ہے بلکہ ان کے تمام چاہنے والے مگسی صاحب کو ایک تو میر لکھتے ہیں اور انھیں روشن خیال، ترقی پسند کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ جیسے میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ پتھر کے زمانے میں صرف ستاون سال زندہ رہنے والے مگسی صاحب کو یہ لوگ مارکس، اینگلز، لینن، ماؤ اور فینن ثابت کرتے ہیں اور انہیں نواب لکھنے سے کتراتے ہیں حالانکہ اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے مگر بات ہے تاریخ کو مسخ کرکے قوم کے حافظوں پر مسلط کرنے کی؛ کہ وہ لڑے جھگڑے، ناراض ہوئے بالاخر انھیں نواب بننے کی صورت ان کا جدوجہد ان کی ذات کے لیے سودمند ثابت ہوا۔
ان کی ناراضی، روشن خیالی اور جدوجہد کی ابتدا وہاں سے ہوتی ہے جب ان کے والد کو معزول کرکے علاقہ بدر کر کے نظر بند کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کے بڑے بھائی کو نواب منتخب کیا جاتا ہے جو قبائلی روایات کے تحت درست ہے کہ بڑا بیٹا سربراہ ہوگا مگر وہ اس کے خلاف نہایت سمجھداری سے سیاست کی اڑ لے کر جدوجہد کرتے ہیں اور تعلقات استوار کرتے ہیں تاکہ طاقت میسر ہو، اور یہاں سے ان کی جدوجہد شروع ہو جاتی ہے۔
اور جب اسی پاداش میں مستونگ جیل میں قید ہوتے ہیں تو میر یوسف عزیز کرد جیسے ذہین انسان جو پہلے سے ہی ایک خفیہ تنظیم “ینگ بلوچ” بنا چکے ہوتے ہیں، اس کے بعد وہ انجمنِ اتحادِ بلوچاں نامی ایک اور سیاسی جماعت بنا لیتے ہیں۔ یہ یوسف عزیز کرد کی دوراندیشی ہے کہ وہ بلوچ کو مستقبل کی جدوجہد کے لیے بیدار کرنا چاہتے ہیں، مگر اس کے لیے مالی وسائل اور افرادی قوت و تحفظ درکار ہوتی ہے۔
یہاں داد دینی پڑے گی ان کی سوچ کو کہ وہ سیدھا مستونگ جیل جاکر یوسف عزیز مگسی سے مل کر انھیں سیاست کے لیے قائل کرتے ہیں اور یوں یہ ایک دوسرے کی ضرورت بن جاتے ہیں، کیونکہ یوسف عزیز کو انگریز اور شمس شاہ کے خلاف مدد درکار ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی نوابی، زمینیں، وظائف اور طاقت واپس لے سکے۔ دوسری جانب یوسف عزیز کرد کو سیاسی جدوجہد کے لیے مالی اور افرادی قوت کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی درکار ہوتا ہے لہٰذا مگسی صاحب کو پارٹی کا صدر بنا کر خود جنرل سیکرٹری بن جاتے ہیں۔
محمد حسین عنقا — نواب یوسف عزیز مگسی کے سیاسی جدوجہد کی ابتدا
محمد حسین عنقا نواب یوسف عزیز مگسی کے سیاسی جدوجہد کی ابتدا کے بارے میں لکھتے ہیں کہ “نواب زادہ یوسف علی مگسی جس کے والدِ بزرگوار نواب شمس شاہ وزیراعظمِ قلات کے ہاتھوں انیس سو تینتالیس سے ملتان جابِیٹھا تھا، وہاں سے یوسف عزیز مگسی نے ایک مضمون لکھ کر اخبار میں چھپوایا جس کی وجہ سے شمس شاہ نے انہیں قید کروایا کر مستونگ جیل میں مقید رکھا جہاں میر عبدالعزیز کرد ان سے جاکر ملے اور پھر انھیں اپنے قافلے میں شامل کر لیا۔ یہاں سے مگسی ہجرت کی ابتدا ہوئی اور مگسی قبیلے کے ہزاروں افراد سندھ میں جاکر رہنے لگے، یہ احتجاج یوسف عزیز مگسی نے شروع کرایا جو شمس شاہ اور انگریزوں کے ہاتھوں بشمول خانِ قلات کی منشا کے ان کے والد کی معزولی، وظیفے کی بندش اور زمینوں کی ضبطگی کے خلاف احتجاج تھا جہاں ان سب کی بحالی کے ساتھ ساتھ مستقبل کے نئے خان جن سے وہ پہلے سے ہی ان کے نزدیکی تھے، ان کے خان بننے کے لیے بھی وہ احتجاج کر رہے تھے۔”
میر محمد حسین عنقا مزید ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ لندن سے واپسی کے بعد وہ انگریزی ڈانس کرتے تھے، ان کے پاس انگریز لڑکیوں کی تصاویر تھیں جنھیں وہ بار بار جیب سے نکال کر دیکھتے اور کہتے یہ میرے وہاں کے دوست ہیں جنھیں میں بلوچستان لانے سے ڈرتا ہوں۔
طبقاتی سیاست پر عنقا کا مؤقف
ڈاکٹر سلیم کرد اور ڈاکٹر شاہ مری سمیت بہت سے صاحبان بلوچستان میں طبقاتی جدوجہد اور کسان و ہاری کی بات کرتے ہیں جو میرے خیال سے موجودہ بلوچ تحریک سے روح گردانی کے مترادف ہے مگر اس کے باوجود میں میر محمد حسین عنقا کے لکھے گئے جواب کو زیادہ موثر سمجھوں گا کہ جنھوں نے یوسف عزیز مگسی کو اور اس دور کے حالات کو نزدیک سے دیکھا ہے وہ لکھتے ہیں “ہمارے ہاں کچھی اور نصیرآباد کے سوا اور کہاں کسان ہے، کہ کسان کی تحریک کوئ بنا سکے۔ مزدور مچھ کوئلہ کانوں میں ہیں، جو بعض سرداروں سے زیادہ کھاتے ہیں، اچھی مالی حالت رکھتے ہیں تو مزدور کی تحریک کہاں اور کیسے اٹھ سکے گی۔”
عنقا صاحب آگے لکھتے ہیں کہ “یوسف نے اس کے بعد خود کو حسین لڑکیوں کے ذکر تک محدود رکھا، جن کی بہت ساری تصاویر ان کے پاس رکھی ہوئی تھیں، جو وہ ہر ایک کو دکھاتے اور بڑی داستانیں سناتے جس کی وجہ سے لوگ ان سے بددل ہو کر مایوس ہو چکے تھے”۔
انگریز اور “یوسفِ اعظم” کا تصور
عنقا کے بقول “آج میں محسوس کرتا ہوں کہ انگریز اسے، ‘یوسفِ اعظم’ کو بلوچستان کا جناح بنانا چاہتے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان چھوڑنا پڑے گا اس کے لیے اسے جتنے ٹکڑے کیے جائیں، سو کرکے جائیں، پاکستان بنانا تھا مسٹر جناح کو منتخب کیا گیا، بلوچستان بنانے کا خیال تھا، یوسف کو منتخب کیا گیا تھا، اگر یوسف نہ مرتا تو بلوچستان بھی ایک آزاد ملک بن جاتا جس کا حکمران یوسف عزیز مگسی اور ان کی پارٹی ہوتے۔”
گل خان نصیر کی روایت
نواب یوسف علی کے ایک اور سیاسی رفیق میر گل خان نصیر ان کے حوالے سے ضبط قلم لاتے ہیں کہ ” ڈھاڈر کے مقام پر میر یوسف عزیز مگسی اور اس وقت کے خان میر احمد یار خان کی کئی ملاقاتیں ہوئیں، جو ریزیڈنٹ بلوچستان کے ایما پر تھیں ، بلآخر میر احمد خان نے اسے، مگسی کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ کچھ عرصہ کے لیے وہ بلوچستان سے باہر انگلستان چلا جائے، یعی بلوچستان کی انگریزی حکومت کی مرضی تھی ۔
گل خان نصیر کے بقول کچھ لوگ کہتے ہیں یوسف عزیز مگسی خان کے کہنے پر انگلستان گئے تھے، وہ سیاست، مزاحمت اور سیاسی تحریکوں کا مشاہدہ کرنے گئے تھے مگر خان نے خود میر گل خان کو کہا تھا کہ یوسف عزیز انگریزوں کی منشاء سے انگلستان گئے ہیں ، میر گل نصیر کے مطابق ان کے بھی یہی معلومات ہیں کہ وہ انگریزوں کی خواہش پر انگلستان گئے ہیں۔
ویسے بھی انگلستان سے سیاست اور مزاحمت سیکھ کر آنے کا مطلب ان کے خلاف جدوجہد شروع کرنا تھا تو انگریز سرکار اپنے ہی قبضے کو ختم کرانے کے لیے کیونکر کسی دشمن قوم کے ایک لیڈر کی سیاسی تربیت کرینگے ماسوائے اس کے جنھیں یہ یقین ہوکہ وہ شخص ان کا بااعتماد ساتھی ہے۔
میر گل کے مطابق نواب یوسف عزیز مگسی اپنے سیاسی رفقائے کار کو بغیر اطلاع دیے انگلستان چلے گئے تھے جس سے ساتھی بہت بددل ہوئے تھے ، اور انگلستان سے واپسی پر وہ مکمل بدل گئے تھے اور مکمل انگریزی بابو بن گئے تھے اور اس کے آگے انھوں نے وہی لکھا ہے جو محمد حسین عنقا نے بیان کیا ہے ۔
مارٹن ایکس مین لکھتے ہیں کہ ” انگریز حکام کے دہلی اور برطانیہ لکھے گئے ٹیلی گرامز میں یہ بات واضح ہے کہ نواب یوسف عزیز مگسی ان کی منشاء سے انگلستان گئے تھے، اس کے علاوہ ان کے مطابق ان ٹیلی گرامز میں ان کی واپسی کا لکھا ہے کہ جن میں انگریزوں نے ان کے حوالے سے مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ جیسا ہم چاہتے تھے یہ بالکل ویسے ہی بن چکے ہیں لہذا ان کے حوالے ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کی چھال ڈھال، کھانا پینا، معاشقے سب ہمارے حساب سے ہیں”۔
یہی سب میر گل خان نصیر اور محمد حسین عنقا کا کہنا ہے۔
شمس گردی جو خالصتاً یوسف عزیز کرد کی تصنیف ہے جبکہ نواب یوسف عزیز مگسی نے اس کا پیش لفظ لکھا ہے ، مگر مگسی صاحب کے شیدا اصل مصنف کے نام کا ذکر تک کرنا نہیں چاہتے ہیں اور نہ ہی سننا چاہتے ہیں کہ مصنف اور پیش لفظ لکھنے والے ، دونوں کے نام کا تذکرہ ہو۔
اختتامیہ
بہرحال نواب یوسف عزیز مگسی کی شخصیت، کردار اور سیاسی جدوجہد پر اختلافِ رائے کل بھی موجود تھا اور آج بھی موجود ہے۔ کسی کے نزدیک وہ بلوچ قومی شعور کے بیدار کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں، کسی کے نزدیک ایک اصلاح پسند رہنما تھے، جبکہ بعض ناقدین ان کے گرد تعمیر کیے گئے تاریخی اور سیاسی بیانیوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ تاہم اصل سوال کسی شخصیت کی عقیدت یا مخالفت کا نہیں بلکہ تاریخ کو اس کے حقیقی تناظر میں سمجھنے اور بیان کرنے کا ہے۔ قوموں کی فکری بلوغت اسی میں ہے کہ وہ اپنے رہنماؤں، تحریکوں اور تاریخی واقعات کا جائزہ جذبات، تقدیس اور تعصب سے بالاتر ہوکر لیں۔ نواب یوسف عزیز مگسی بھی بلوچ تاریخ کا ایک اہم باب ہیں، لیکن کسی بھی باب کی طرح انہیں بھی تنقیدی مطالعے، تحقیق اور مکالمے کے دائرے میں رہ کر سمجھنا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں مفروضوں، داستانوں اور سیاسی وابستگیوں کے بجائے حقائق، دلائل اور تاریخ کی روشنی میں اپنی رائے قائم کرسکیں۔ تاریخ کا احترام اسی میں ہے کہ اسے نہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے اور نہ ہی کسی تعصب کی بنیاد پر کم کرکے دکھایا جائے، بلکہ جو کچھ تھا اسے اسی صورت میں آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جائے۔
حوالہ جات
۱- آپ بیتی ۔ بلوچستان کی کہانی میری زبانی ۔ محمد حسین عنقا۔
۲- سیاسی سوانح عمری۔ ادبار کی چھاوں میں۔ میر گل خان نصیر۔
۳- عشاق کے قافلے (۹) میر یوسف عزیز مگسی۔ شاہ محمد مری۔
۴- پیپلز ہسٹری آف بلوچستان۔ جلد ۵- بلوچستان اینڈ آل انڈیا بلوچ کانفرنس۔ شاہ محمد مری۔
۶- یوسف عزیز مگسی اور بلوچستان ریفارمز موومنٹ، ومبری سیاسی جدوجہد۔ ڈاکٹر سلیم کرد۔
۷- شمس گردی۔ یوسف عزیز مگسی، عبدالعزیز کرد۔
۹- بیک ٹو دی فیوچر۔ مارٹن ایکس مین۔
۱۰- تاریخ بلوچستان۔ گل خان نصیر۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































