شہزادی تمپ
تحریر: زہرہ زہری
دی بلوچستان پوسٹ
خوف تب مرتا ہے جب عمل شروع ہوتا ہے۔ خوف اکثر اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک ہم کسی مشن کے بارے میں صرف سوچتے رہتے ہیں۔ جب ہم کسی مشکل صورتحال کا تصور کرتے ہیں، تو ہمارا دماغ اسے اصل خطرے سے کہیں زیادہ بڑا کر کے دکھاتا ہے لیکن جیسے ہی ہم پہلا قدم اٹھاتے ہیں، ہماری توجہ “خوف” سے ہٹ کر “طریقہ کار” (Process) پر مرکوز ہو جاتی ہے، اور وہ ڈر خود بخود ختم ہونے لگتا ہے۔
خوف کا تعلق “بے بسی” سے ہے۔ جب تک ہم ساکن بیٹھے رہتے ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ حالات ہمارے قابو سے باہر ہیں۔ عمل (Action) کرنے سے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم حالات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ “ہمت خوف کی غیر موجودگی کا نام نہیں، بلکہ خوف کے باوجود آگے بڑھنے کا نام ہے۔” جب آپ وہ کام کر گزرتے ہیں جس سے آپ کو ڈر لگتا ہے، تو آپ کا اعتماد بڑھ جاتا ہے۔ اگلی بار وہ چیز آپ کو خوفزدہ نہیں کرتی کیونکہ آپ کا تجربہ آپ کے وہم پر غالب آ چکا ہوتا ہے۔
اگر آپ کسی مقصد کو پانے سے ڈر رہے ہیں یا کسی مشکل کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں، تو اس کا واحد حل آغاز کرنا ہے۔ جتنا زیادہ آپ دیر کریں گے، خوف اتنا ہی طاقتور ہوتا جائے گا۔ جیسے ہی آپ میدان میں اتریں گے، خوف پیچھے ہٹنا شروع کر دے گا۔
جب بھی کوئی شخص کسی انسان ، واقعے یا داستان کو بیان کرتا ہے تو وہ لازماً اسے اپنی ذہنی و ادراکی صلاحیتوں، تجربات، مفروضات اور دنیا کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر کے ذریعے سمجھتا اور پیش کرتا ہے۔ واقعہ اپنی اصل میں ایک ہی ہو سکتا ہے، لیکن اس کی تعبیرات اور تشریحات بے شمار ہو سکتی ہیں۔ ایک واقعہ مختلف افراد کے ذہنوں میں مختلف معانی اور توضیحات پیدا کرتا ہے۔
لہٰذا بنیادی سوال یہ ہے کہ سچائی کا تعین کیسے کیا جائے؟
جب میری نظر سے گزشتہ دنوں بی ایل اے کی آفیشلی چینل ہکل سے جاری کردہ کمانڈر شہناز بلوچ کی انتہائی پرکشش و دلکشش اور جنگی سازو سامان سے زیب تن اپنی مرد و خواتین سرمچاروں کے ساتھ ویڈیو گزری تو ایک لمحہ پوری خاموشی کی کیفیت میں ششدر ہوگئی، بعد میں دل یہ اجازت نہیں دے رہی تھی کہ بار بار وڈیو کو دیکھ نہ سکوں ، وہ خواہش ، وہ چاہت اور وہ تشنگی ختم ہی نہیں ہوپارہی تھی کہ ابھی بس ہے اور آج تک میں یہ اپنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تحریر لکھ رہی ہوں ابھی بھی میں تین دفعہ وڈیو دیکھنے کے بعد قلم اٹھاکر اپنی اظہار جذبات اور بھڑاس کا جسارت کررہی ہوں اور مجھے یقین ہے میں بانک شہناز کی کردار کے ساتھ زرہ برابر بھی انصاف نہیں کرسکتی ہو اور نہ ہی میری اندر بطور لکھاری وہ ٹیلنٹ موجود ہے کہ شہناز پر اور شہناز کی کردار پر کچھ لکھ سکوں ، بہر حال ایک معمولی کوشش ہے۔
میں اکثر سوچتی تھی ، اگر ہماری لیڈر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو خدا نہ کرے کچھ ہوگیا کیا بلوچ قوم میں بطور خواتین ایسا متاثر کن لیڈر پیدا ہوگی ؟ جب ماہ رنگ بلوچ پس زندان چلی گئی میں مکمل مایوس ہوا شدید کوفت میں متبلا ہوا مگر جب شہناز بلوچ منظر عام پر آئی تو میرے حوصلے و امید چٹانوں کی طرح بلند ہوئے اور اللہ کا لاکھ شکر ادا کرتی ہوئی مجھے پورا یقین ہوگیا ہے کہ بلوچ قوم کبھی بھی بانجھ نہیں ہوگا اب بھی سینکڑوں بلوچ شیرزال مائیں اپنی کوکھ سے شیرزال ماہ رنگ اور شیرزال شہناز جنم دیتے رہنگے۔
جس طرح میں آج پورے بلوچ قوم میں کمانڈر شہناز کے حوالے سے مہر و محبت اور دیوانگی دیکھ رہی ہوں ، شہناز اب محض ایک کمانڈر نہیں ، شہناز ایک علامت نہیں ، شہناز ایک نام نہیں ، شہناز ایک جنگجو نہیں بلکہ شہناز بلوچ قومی مسحی و قومی نجات ہندہ ہے شہناز پورے بلوچ قوم سمیت پورے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بلوچ سماج کا اصل سچا چہرہ یہ ہے، شہناز کی انتہائی پرکشش و کرشماتی شخصیت یہ ثابت کر دیتی ہے کہ شہناز جس پر اعتمادی و پختگی کے ساتھ برسوں سے جہدوجہد کا حصہ ہوتے ہوئے کن کن مشکلات و آزماہشوں سے گزر اس اعلی مقام تک پہنچ چکی ہے اس مقام پر پہنچ جانا ہر انسان کی بس کا بات نہیں ہوتی، بغیر مہارت و فن اور خطرہ مول لینے کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا ، مجھے پورا یقین ہے شہناز آگے چل کر صرف بلوچ قوم کی نہیں
ہر مظلوم قوم کی اس طرح آئیڈیل انسان ہوگی جس طرح تاریخ میں آج تک ارجینٹائن کے انقلابی لیڈر ڈاکٹر ارنسٹوچے گوہرا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































