مہناز سے شہناز تک: بلوچ عورت کی بغاوت کا سفر – محمد یوسف سنجرانی

25

مہناز سے شہناز تک: بلوچ عورت کی بغاوت کا سفر

تحریر: محمد یوسف سنجرانی

دی بلوچستاب ہوسٹ

بلوچ تاریخ کو اگر صرف جنگوں، سرداروں، قافلوں اور ہجرتوں کی تاریخ سمجھا جائے تو یہ ایک ادھوری قرات ہوگی، کیونکہ اس تاریخ کے اندر ایسی عورتیں بھی موجود ہیں جنہوں نے روایت کے اندھیروں میں اپنی ذات کے چراغ جلائے، اپنے زمانے کے جبر کو للکارا اور آنے والی نسلوں کے لیے مزاحمت کی نئی راہیں متعین کیں۔ ان عورتوں میں مہناز کا نام ایک داستانوی حقیقت کی طرح ابھرتا ہے۔ بلوچ فوک داستانوں میں مہناز ایک غیر معمولی کردار کے طور پر زندہ ہے۔ اس کے شوہر شہداد نے اس پر اپنے ہی کزن کے ساتھ ناجائز تعلقات کا الزام عائد کر دیا۔ الزام کے ساتھ تشدد بھی تھا، تحقیر بھی تھی اور شاعری کی صورت میں وہ طعنے بھی تھے جو ایک عورت کے وجود کو سماجی طور پر دفن کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ روایتی قبائلی سماج میں ایسی صورتِ حال اکثر عورت کی خاموش شکست پر منتج ہوتی ہے۔ بہت سی عورتیں الزام کے بوجھ تلے زندگی گزار دیتی ہیں، بہت سی اپنی صفائی پیش کرنے کا حق بھی حاصل نہیں کر پاتیں، مگر مہناز نے خاموشی کو تقدیر ماننے سے انکار کر دیا۔

اس نے جرگہ بلوایا۔ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا سامنا کیا۔ اپنی پاک دامنی ثابت کی۔ پھر صرف یہی نہیں کیا کہ خود کو بے گناہ ثابت کر کے گھر واپس چلی جاتی، بلکہ اس نے اس روایت کے قلب پر ضرب لگائی جس نے اسے مجرم قرار دینے کی کوشش کی تھی۔ اس نے طلاق لی اور اسی شخص سے شادی کر لی جس کے ساتھ اس پر تعلقات کا الزام لگایا گیا تھا۔ یہ محض ایک ذاتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک سماجی اعلان تھا کہ عورت مرد کی ملکیت نہیں بلکہ اپنی مرضی اور اپنی تقدیر کی خود مالک ہے۔ پھر اس نے شہداد کے شعری طعنوں کا جواب بھی شاعری میں دیا اور یوں بلوچ روایت کے اندر ایک عورت پہلی بار ایک مکمل مزاحمتی آواز بن کر ابھری۔

اگر تاریخ کو غور سے دیکھا جائے تو مہناز کا یہ کردار صرف بلوچ معاشرے تک محدود نہیں رہتا بلکہ دنیا بھر کی ان خواتین سے جا ملتا ہے جنہوں نے اپنے عہد کی جابرانہ روایتوں کو چیلنج کیا۔ جس طرح روزا لکسمبرگ نے یورپ کے سرمایہ دارانہ اور جنگی نظام کے خلاف اپنی فکر اور جدوجہد سے مزاحمت کی نئی زبان پیدا کی، جس طرح لیلیٰ خالد نے فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں عورت کی موجودگی کو محض علامتی نہیں بلکہ عملی حقیقت بنایا، اسی طرح مہناز نے بلوچ سماج میں عورت کو خاموشی کے مقام سے اٹھا کر مزاحمت کے مقام پر لا کھڑا کیا۔

صدیاں گزریں۔ دنیا بدل گئی۔ سامراج کے نقشے بدلے، ریاستوں کی سرحدیں بدلیں، نظریات کے رنگ بدلے، مگر بلوچ سرزمین کے اندر مزاحمت کی روایت اپنی مختلف شکلوں میں زندہ رہی۔ اسی تسلسل میں حالیہ دنوں بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو نے بہت سے لوگوں کو چونکا دیا۔ اس ویڈیو میں کمانڈر شہناز کو خواتین کے ایک عسکری یونٹ کی قیادت کرتے اور انہیں جنگی تربیت دیتے ہوئے دکھایا گیا۔ سیاسی طور پر اس واقعے سے اختلاف یا اتفاق اپنی جگہ، مگر سماجی اور تاریخی سطح پر اس منظر کی معنویت سے انکار ممکن نہیں۔

ایک روایتی قبائلی سماج، جہاں ہتھیار، جنگ اور عسکری قیادت صدیوں تک مردانہ دائرہ سمجھے جاتے رہے، وہاں ایک عورت کا عسکری قیادت کے مقام پر آنا محض ایک تنظیمی تبدیلی نہیں بلکہ سماجی ڈھانچے کے اندر ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ اگر مہناز نے جرگے کے سامنے کھڑے ہو کر روایت کو چیلنج کیا تھا تو شہناز ایک نئے میدان میں اسی روایت کے ساتھ مکالمہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔

یہاں مہناز اور شہناز کے درمیان ایک دلچسپ ربط پیدا ہوتا ہے۔ ایک نے اپنی ذات کے حق کے لیے بغاوت کی تھی اور دوسری ایک اجتماعی سیاسی بیانیے کے اندر اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ ایک کی مزاحمت گھریلو اور سماجی دائرے میں تھی، دوسری کی مزاحمت عسکری اور سیاسی دائرے میں نظر آتی ہے۔ مگر دونوں اس سوال کو زندہ رکھتی ہیں کہ بلوچ عورت صرف روایت کی محافظ ہے یا روایت کی تشکیلِ نو بھی کر سکتی ہے؟

بلوچ تاریخ کے ان صفحات کو پڑھتے ہوئے گل خان نصیر بار بار یاد آتا ہے، جس نے اپنی شاعری میں خواب اور انقلاب کو ایک دوسرے کا ہم سفر بنایا۔ اس کے نزدیک آزادی صرف سیاسی نعرہ نہیں تھی بلکہ ایک انسانی کیفیت تھی، ایک ایسی کیفیت جس میں محکوم انسان اپنے وجود کی تکمیل کرتا ہے۔ گل خان نصیر کی شاعری میں جو سرخ خواب لہراتا ہے، جو صحرا کے سینے میں امید کے چراغ روشن کرتا ہے، وہ دراصل اسی مسلسل جدوجہد کا استعارہ ہے جس میں انسان اپنی تقدیر خود لکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

شاید اسی لیے بلوچ تاریخ کو صرف مردوں کے ناموں سے نہیں پڑھا جا سکتا۔ اس تاریخ میں مہناز بھی موجود ہے جو جرگے کے سامنے کھڑی ہے۔ اس تاریخ میں وہ بے شمار گمنام عورتیں بھی موجود ہیں جنہوں نے جنگوں، ہجرتوں اور محرومیوں کے درمیان زندگی کو سنبھالے رکھا۔ اور اب اس تاریخ میں شہناز بھی موجود ہے جو ایک نئے منظرنامے کے اندر اپنی موجودگی درج کروا رہی ہے۔

مہناز سے شہناز تک کا سفر دراصل ایک نام سے دوسرے نام تک کا سفر نہیں، بلکہ بلوچ عورت کی خود آگاہی کے ارتقا کا سفر ہے۔ یہ اس سفر کی داستان ہے جس میں خاموشی آہستہ آہستہ آواز میں بدلتی ہے، آواز مزاحمت میں اور مزاحمت تاریخ میں۔ اس سفر کے ہر موڑ پر محبت بھی موجود ہے اور انقلاب بھی، کیونکہ ہر بڑی بغاوت کے دل میں ایک خواب ہوتا ہے، اور ہر سچا خواب اپنے اندر بغاوت کا ایک بیج لیے پھرتا ہے۔

بلوچستان کے پہاڑ آج بھی اسی طرح کھڑے ہیں جیسے صدیوں پہلے کھڑے تھے، مگر ان پہاڑوں کی گونج میں اب صرف شہداد کی آواز نہیں سنائی دیتی، وہاں مہناز کا جواب بھی موجود ہے، اور شاید دور کہیں مستقبل کے افق پر شہناز کی للکار بھی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔