بلوچستان میں مرکزی شاہراہوں پر بلوچ آزادی پسندوں کا کنٹرول، معدنیات لیجانے والی گاڑیوں پر حملے، اسنیپ چیکنگ، پاکستانی فوجی اہلکاروں کی گرفتاریاں
ضلع خضدار کے علاقے اورناچ سے پاکستان فوج (ایف سی) کے ایک اہلکار کو مسلح افراد نے شناخت کے بعد حراست میں لے لیا۔ ذرائع کے مطابق جمعرات کے روز اورناچ کے مقام پر بلوچستان کو سندھ سے ملانے والی مرکزی شاہراہ این – 25 پر مسلح افراد کی بڑی تعداد نے شاہراہ کا کنٹرول سنبھالا اور اسنیپ چیکنگ کا آغاز کیا۔
ذرائع نے ٹی بی پی کو بتایا کہ دوران تلاشی مسلح افراد نے ایک مسافر بس سے پاکستانی فوج کے اہلکار کو شناخت کے بعد حراست میں لے لیا جبکہ اس دوران ایک اور شخص کو بھی مسلح افراد اپنے ہمراہ لے گئے۔
دریں اثناء وڈھ میں سونارو کے مقام پر مسلح افراد نے شاہراہ پر ناکہ بندی کی اور فوجی تعمیراتی کمپنی (ایف ڈبلیو او) کے سائٹ کو حملے میں نشانہ بنایا گیا جہاں کمپنی کے کرش پلانٹ سمیت وہاں کھڑی متعدد گاڑیاں نذر آتش کردی گئی۔
اورناچ سے فوجی اہلکار کی گرفتاری ایسے موقع پر ہوئی جب قلات میں مرکزی شاہراہ پر بلوچ لبریشن آرمی نے اسنیپ چیکنگ کے دوران ایئرپورسٹ سیکورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو حراست میں لیا۔
بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ قابض پاکستان کے وزارت دفاع کے ایئرپورٹ سیکورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ڈپٹی ڈائریکٹر و کمانڈنگ افسر وسیم احمد ہماری تحویل میں ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ کارروائی بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ زراب کی فراہم کردہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرانجام دی گئی۔


















































