نوشکی: ڈیتھ اسکواڈ کی فائرنگ سے معروف براھوئی شاعر و مصنف غمخوار حیات جانبحق

47

مسلح ڈیتھ اسکواڈ ارکان نے انھیں آج انکے گھر کے قریب فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

بلوچستان کے ضلع نوشکی سے اطلاعات کے مطابق ‏نوشکی کلی مینگل ایریا میں حکومتی حمایت یافتہ مسلح گروہ “ڈیتھ اسکواڈز” کی فائرنگ کے نتیجے میں براہوئی زبان کے معروف شاعر، ادیب اور دانشور پروفیسر غمخوار حیات جانبحق ہوگئے۔

غمخوار حیات براہوئی افسانہ نگار، مترجم، شاعر اور انشائیہ نگار تھے جنہوں نے مختلف اصنافِ ادب میں خدمات انجام دیں اور کل بیس کتابیں تصنیف کیں، وہ راسکوہ ادبی دیوان اور اوتان کلچر اکیڈمی کے بانیوں میں تھے۔

گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج نوشکی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے فرائض انجام دینے والے محمد خان عرف غمخوار حیات آج اپنے گھر کے قریب کلی مینگل میں پاکستانی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کی فائرنگ سے جانبحق ہوگئے۔

غمخوار حیات کے قتل پر مختلف سیاسی، سماجی، ادیب، شاعر اور غمخوار حیات کے پڑھنے والوں نے شدید غم و افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انکا کہنا ہے غمخوار حیات کی شہادت سے نہ صرف براہوئی ادب بلکہ علم و دانش کے حلقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔