غمخوار حیات کی شہادت بلوچستان کے علمی، ادبی اور فکری وجود پر ایک اور کاری ضرب ہے – بی ایس او

0

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے براہوی زبان کے نامور شاعر، استاد اور غمخوار حیات کی نوشکی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ بلوچستان کے علمی، ادبی اور فکری وجود پر ایک اور کاری ضرب ہے۔ 

بی ایس او ترجمان کے مطابق ایسے اہلِ قلم جو اپنے لفظوں کے ذریعے انسانی دکھ، قومی احساس اور سماجی کرب کو زبان دیتے ہیں، ان کی خاموشی صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ایک پورے فکری منظرنامے کا سوگ ہوتی ہے۔ 

ترجمان نے کہا کہ شہید شاعر ان حساس اور باشعور آوازوں میں شامل تھے جنہوں نے براہوی زبان، بلوچ تہذیب اور انسانی احساسات کو اپنے قلم کے ذریعے نئی معنویت عطا کی، ان کی شاعری محض لفظوں کی ترتیب نہیں بلکہ محرومی، امید، مزاحمت اور زندگی کے دکھوں کی فکری ترجمانی تھی۔ 

انہوں نے بحیثیت استاد نوجوان نسل کو صرف تعلیم ہی نہیں دی بلکہ شعور، سوال اور سماجی وابستگی کا احساس بھی منتقل کیا۔ 

بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان پہلے ہی تعلیمی بحران، فکری جمود اور عدم تحفظ جیسے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں ادیبوں، شاعروں اور علمی شخصیات کا قتل ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ معاشرے جہاں کتاب، قلم اور فکر سے وابستہ لوگ غیر محفوظ ہوجائیں وہاں اجتماعی شعور بتدریج زوال کا شکار ہوجاتا ہے، اہل علم سماج کے وہ چراغ ہوتے ہیں جو تاریک ادوار میں بھی امید، مکالمے اور فکری حرارت کو زندہ رکھتے ہیں۔ 

بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور بلوچستان میں علمی، ادبی اور تدریسی شخصیات کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ غمخوار حیات کے یہ چراغ جسمانی طور پر بجھائے جاسکتے ہیں مگر ان کے لفظ، فکر اور انسانی خوشبو کو خاموش نہیں کیا جاسکتا۔