خدیجہ بلوچ کو دو روز قبل سی ٹی ڈی اور پاکستانی خفیہ اداروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج کی میڈیکل طالبہ خدیجہ بلوچ کو پاکستانی فورسز کی جانب سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کے خلاف طلباء گزشتہ تین روز سے بی ایم سی کے سامنے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
طلباء کا مطالبہ ہے کہ خدیجہ بلوچ کے حوالے سے انہیں معلومات فراہم کی جائیں اور انہیں بازیاب کیا جائے، جبکہ طلباء نے پاکستانی فورسز کی جانب سے کالج کے ہاسٹل میں داخل ہونے اور چھاپے مارنے کی بھی مذمت کی ہے۔
واضح رہے کہ خدیجہ بلوچ کو دو روز قبل ان کے ہاسٹل سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔
طلباء کے احتجاج کے بعد سرکاری حکام نے ان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا، تاہم لواحقین کے مطابق حکام نے تاحال خدیجہ کے خلاف کوئی ایف آئی آر یا مقدمہ درج نہیں کیا ہے۔
خدیجہ بلوچ کے والدین نے گزشتہ روز بی ایم سی دھرنے کے مقام سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بچی پر تشدد کے زریعے دباؤ ڈال کر جھوٹا بیان دلوانے کی کوشش کی جارہی ہے، اگر دورانِ حراست خدیجہ سے کوئی بیان دلوایا جاتا ہے تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ بلوچستان حکومت ایک پالیسی کے تحت پاکستانی فورسز کے ہاتھوں سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے خواتین کو گرفتاری ظاہر کرکے پریس کانفرنسز کے ذریعے انہیں بلوچ مسلح تنظیموں سے منسلک ہونے کا بیان دلوایا جاتا ہے، جبکہ اب تک کراچی اور بلوچستان سے متعدد خواتین کو کئی ماہ لاپتہ رکھنے کے بعد گرفتاری ظاہر کی گئی ہے۔
دوسری جانب جاری دھرنے کے حوالے سے بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بی ایم سی کے سامنے خدیجہ بلوچ کی رہائی کے لیے جاری دھرنا آج اپنے تیسرے دن میں داخل ہو گیا ہے اور ان تین دنوں کے دوران انتظامیہ کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
بی وائی سی کے مطابق مذاکرات کے نام پر انتظامیہ مظاہرین کو ہراساں کر رہی ہے دھرنے میں شریک افراد کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے اور ان کی تصاویر لی جارہی ہیں۔
تنظیم نے کہا ہے کہ ایک بات واضح ہے کہ اگر دھرنے کے کسی بھی شریک کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری کوئٹہ پولیس پر عائد ہوگی، پولیس نے اپنی ذمہ داریاں ترک کر دی ہیں اور اس کے بجائے عوام کو اذیت دینا شروع کردیا ہے۔
پولیس کا یہ غیر قانونی رویہ ناقابلِ برداشت ہے، اسی دوران بی وائی سی بلوچ قوم اور بین الاقوامی تنظیموں سے پُرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔


















































