بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان شولان بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ معاشرہ اخلاقی اصولوں پر مبنی معاشرہ ہے، اپنی سرزمین پر صدیوں سے آباد اس قوم نے زندگی گزارنے کے لیے کئی مہذب اخلاقی معیار قائم کیے ہوئے ہیں، انہی اخلاقی معیار نے بلوچ معاشرے کو ایک الگ پہچان دی ہے۔ بلوچ روایات میں شامل ظلم کے خلاف مزاحمت، سماج میں انصاف و برابری، عورتوں کی عزت و برابری، روایات کا دفاع سمیت اپنی سرزمین کی دفاع میں مزاحمت شامل ہیں۔ بلوچ قوم نے انہی روایات اور ثقافت کے ذریعے اپنے معاشرے کی وقار کو قائم کیا ہوا ہے۔ ماضی میں کئی جابر و سامراجی ریاستوں نے بلوچستان پر حملہ کرکے اپنا ناجائز قبضہ قائم رکھنا چاہا، ان جابر ریاستوں نے بلوچستان میں نہ صرف لوٹ مار کی بلکہ بلوچ معاشرے کو مسخ کرکے ان کی حقیقی ساخت کو متاثر کیا۔
ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستانی قابض ریاست نے جب ستائیس مارچ 1948 میں بلوچستان پر طاقت کے زور پر حملہ کرکے قبضہ کیا، اسی روز سے وہ بلوچستان میں لوٹ مار اور بلوچ قوم کی نسل کشی سمیت بلوچ معاشرے کو مسخ کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ بلوچ قوم کی زبان، ثقافت، روایات اور پہچان کو مٹاتے ہوئے بلوچ معاشرتی ساخت کو روند کر اپنی ناجائز قبضے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ جبری گمشدگیاں تو بلوچستان میں معمول بنا دیے گئے ہیں مگر اب مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے عورتوں کی جبری گمشدگی کو معمول بنایا جا رہا ہے جہاں آئے روز چادر و چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے بلوچ عورتوں کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صرف اسی سال بلوچستان کے مختلف شہروں و قصبوں جن میں کوئٹہ، کراچی، حب، خضدار، کیچ، آواران، گریشہ، دالبندین، تجابان سمیت دیگر علاقوں سے دو درجن کے قریب بلوچ خواتین کو جبراً لاپتہ کیا گیا ہے جہاں انہیں ٹارچر سیلوں میں رکھ کر انتہائی غیر انسانی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ کئی خواتین کو دھمکا کر ان کی میڈیا ٹرائل کی جا رہی ہے تاکہ یہ جابر ریاست بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک کو جھوٹے بیانیے کے ذریعے کمزور کرے مگر یہ ان کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسی جابر پاکستانی ریاست نے بنگلہ دیش میں لاکھوں بنگالی عورتوں کو جبراً اٹھا کر ان کی عصمت دری کی گئی اور کئی کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینک دی گئیں، یہ پاکستانی فوج کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ تمام تر سماجی اخلاقیات کو روند کر انسانوں سے غیر انسانی و غیر مہذب سلوک رکھتی ہے۔ آج یہی گھناونی حرکات بلوچستان میں دہرائے جا رہے ہیں جہاں عورتوں کو ہراساں کرکے ان کو دھمکانے کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں ٹارچر سیلوں میں رکھ کر غیر انسانی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو سنگین انسانی جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ پاکستانی ریاست بلوچستان میں تمام انسانی اخلاقیات اور جنگی قوانین کو پاؤں تلے روند کر سنگین جرائم میں ملوث ہے۔
مزید کہاکہ بلوچستان میں آئے روز خواتین کی جبری گمشدگی بلوچ معاشرے کو بانجھ اور بے حس بنانے کی سازشیں ہیں تاکہ وہ بلوچ معاشرتی ساخت کو مسخ کرکے تمام روایات کو کچل کر اپنی ناجائز قبضے کو قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائے۔ مگر تاریخ سے ناواقف پاکستانی ریاست کو شاید معلوم نہیں کہ کوئی بھی حقیقی اور قدیم قوم طاقت کے ذریعے ختم نہیں ہوتی، کیونکہ جس قوم کی یاداشتوں میں مزاحمت بسی ہے ایسے قوموں کو زیر کرنا دنیا کی کسی بھی جابر ریاست کے بس میں نہیں ہے۔ ہمیں جابر پاکستانی ریاست سے یہی توقع ہے کہ وہ اپنی جابر حرکتوں سے مزید انتہا تک پہنچ سکتی ہے اسی لیے بلوچ قوم کو مزید پختگی سے بلوچ قومی تحریک سے جُڑا رہنا اور بلوچ معاشرتی ساخت کی حفاظت کرنا ہے تاکہ ہم اپنی جائز و حقیقی جدوجہد کو تمام تر مظالم کے باوجود مزید مستحکم اور مضبوط کرکے اپنی مقصد میں کامیاب ہو جائیں۔

















































