پاکستانی فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، والد کا بازیابی کا مطالبہ
بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے رہائشی سعید لاشاری کے مطابق ان کے بیٹے فہد کو گنداواہ شہر سے ایف سی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے تحویل میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئے۔
لاپتہ فہد حسین کے اہلِ خانہ نے ان کی جبری گمشدگی کی تفصیلات میڈیا کو فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ 21 اپریل کو تقریباً 2 بجے گنداواہ شہر سے نوجوان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔
متاثرہ خاندان کے مطابق فرنٹیئر کانسٹیبلری انٹیلیجنس یونٹ 151 ونگ گنداواہ کے اہلکار بشمول سی ٹی ڈی و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی موجودگی میں کارروائی کرتے ہوئے فہد حسین بلوچ کو حراست میں لیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس دوران دو سول گاڑیاں بھی استعمال کی گئیں، جن میں ایک سیاہ رنگ کی سرف شامل تھی۔
اہلِ خانہ نے کہا کہ نوجوان کو بغیر کسی وارنٹ یا قانونی دستاویزات کے لے جایا گیا، جبکہ دورانِ کارروائی گھر میں موجود دیگر افراد کو ہراساں اور دھمکایا بھی گیا۔
اہلِ خانہ کے مطابق واقعے کے بعد انہوں نے پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں 24 گھنٹے بعد آنے کا کہا۔
فہد حسین بلوچ کی عدم بازیابی پر اہلِ خانہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ نوجوان کو فوری طور پر بازیاب کر کے منظرِ عام پر لایا جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔
اہلِ خانہ نے کہا ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی اور اپنے بیٹے کی محفوظ واپسی تک قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کرتے رہیں گے۔


















































