دالبندین سے جبری لاپتہ رحیمہ بی بی کی گرفتاری چھ ماہ بعد ظاہر

57

پاکستانی فورسز نے رحیمہ بی بی اور ان کے بھائی کو دالبندین میں ان کے گھر پر چھاپے کے دوران لاپتہ کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق دالبندین سے اپنے چھوٹے بھائی سمیت جبری لاپتہ ہونے والی رحیمہ بی بی بنت محمد رحیم کو آج کوئٹہ میں منظرِ عام پر لا کر “خودکش بمبار” کے سہولت کار کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ ان کے ہمراہ جبری لاپتہ ہونے والے بھائی زبیر تاحال لاپتہ ہیں۔

رحیمہ بی بی بنت عبدالرحیم اور ان کے بھائی زبیر کو گذشتہ سال 9 دسمبر 2025 کو پاکستانی فورسز ان کے گھر سے حراست میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئے تھے، جس کے بعد دونوں منظرِ عام پر نہیں آسکے تھے۔

تاہم آج چھ ماہ بعد پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور سرکاری نیوز چینلز پر ان کی مبینہ گرفتاری اور اعترافی ویڈیو جاری کرتے ہوئے انہیں مبینہ خودکش بمبار و سہولت کار قرار دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ رحیمہ بی بی اور ان کے بھائی کی جبری گمشدگی کے خلاف اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ان کے لواحقین کے ہمراہ دالبندین کے شہریوں نے احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے دھرنا دیا تھا۔

لواحقین نے اس دوران کوئٹہ اور ایران کو ملانے والی شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک کے لیے بند کر دیا تھا، تاہم حکام کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کر دیا گیا تھا، حکام کی یقین دہانی کے باوجود دونوں بہن بھائی منظرِ عام پر نہیں آسکے تھے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں گزشتہ سال درجن بھر خواتین مختلف علاقوں سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنے ہیں، جبکہ جبری لاپتہ ہونے والی نسرین نامی 17 سالہ لڑکی کو پاکستانی حکام نے مفرور خودکش حملہ آور قرار دیا ہے۔

اسی طرح خضدار سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی فرزانہ زہری کو گرفتار خودکش بمبار ظاہر کیا گیا، جبکہ اس دوران بلوچستان حکومت نے ان سے پریس کانفرنس بھی کرائی۔

مزید برآں بلوچستان سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے اور بعد ازاں منظرِ عام پر لا کر پریس کانفرنس کرانے کے واقعات میں ماہل بلوچ کا کیس نمایا ہے، جنہیں بلوچستان حکومت نے خودکش بمبار ظاہر کیا تھا، تاہم بعد ازاں عدالت نے انہیں بے گناہ قرار دیتے ہوئے رہا کردیا تھا۔

بلوچستان میں تاحال متعدد خواتین لاپتہ ہیں، جن کے لواحقین کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری لاپتہ افراد کے کیمپ میں شریک ہو کر اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔