فدائی رشید بزدار عرف میرل کے نام – واہگ بزدار

21

فدائی رشید بزدار عرف میرل کے نام

تحریر: واہگ بزدار

دی بلوچستان پوسٹ

عظیم ہے وہ سر، دماغ، وجود، سوچ، شعور، وہ شخص جو اپنی انفرادیت کو قوم کے لیے قربان کر دے اور قوم کو مایوس و فرسودہ نظام کے اندر پالنے والی ذہنیت کو ایک دگنا، راہ، منزل و مقصد دے کہ اس فرسودہ نظام میں انسان اور اس کے اقدار، سوچ و خیالات جو دشمن کے اداروں کی طرف سے خاص ایک پروگرامنگ کی صورت میں قوم کو تباہ و برباد کرنے کی نیت سے کیے جا رہے ہوں، سماج میں بسنے والے ان بدبخت لوگوں کو اپنی خون کی قطروں سے سمجھنے کی تگ و دو کئی دہائیوں سے بلوچ گلزمین کے فرزندوں کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ ہزاروں بلوچ شہداء کی ان قربانیوں نے زی شعور بلوچ فرزندان کو قومی آزادی کی تحریک میں شعوری طور پر شمولیت اختیار کرنے اور عمل کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ اس کاروان میں شامل جوان، بزرگ، ہماری مائیں بہنیں شعوری و فکری پختگی نظریاتی حوالے سے مکمل طور پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جن کو ریاست یا تین چار ہزاروں میں بکنے والے ریاستی کرایہ دار بلوچ یا خواہ وہ کوئی بھی ہو وہ جس انداز سے بیان کرے اس سے بلوچ و بلوچ تحریک و قومی آزادی کے کاروان پر کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ یہ تحریک بہت ہی خوبصورتی سے اپنی منزل مقصود کی جانب گامزن ہے جہاں بحرہ بلوچ سے لے کر مکران و کوہ سلیمان کے کھٹن پہاڑوں میں موجود بلوچ گلزمین کے وارث اس تحریک میں شامل ہو کر اس کی وارثی کر رہے ہیں۔

کوہ سلیمان جس کو تاریخی حوالے سے بلوچوں کی مکہ و کعبہ کی حیثیت حاصل ہے پنجابی ریاست کی طرف سے پچاس کی دہائی میں طاقت کو “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کے تحت پنجاب میں شامل کر دیا گیا تھا حالانکہ یہ علاقے چاکر اعظم و نوری نصیر خان کے وقت سے بلوچوں کے اہم علاقے تھے جن پر خان قلات یعنی بلوچوں کی حکومت رہی۔ پنجابی ریاست نے بلوچوں کو مکمل زیر کرنے کی کوشش کی جو آج تک وہاں موجود قبضہ گیر کی پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس سرزمین کی کوکھ سے بلوچ مزاحمت نے جنم لیا وقتاً فوقتاً ریاست کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا چاہے جہان 1967 میں ایوبی آمریت کے خلاف یار خان سینہڑانی بزدار نے چند ساتھیوں سمیت شہادت کے عظیم رتبہ پر امر ہوئے پھر چند دہائیوں بعد وہاں ہی اسی قبیلے کے ایک نوجوان نے قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں شامل پاکستان اٹامک انرجی کے ڈائریکٹر کو موت کے گھاٹ اتارا اور پھر چند سالوں بعد فدائی رشید بزدار نے فدائی مشن کے لیے خود کو وقف کرنے کا فیصلہ کیا کہ اس امید کے ساتھ کہ اس سرزمین پر موجود خواب خرگوش میں سوئی ہوئی قوم جاگ سکے۔

فدائی رشید بزدار عرف میرل ولد حافظ امام دین کا تعلق کوہ سلیمان کے علاقے باڈور سُرتھوخ سے تھا وہ بزدار کے قبیلے سینہڑانی سے تھے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے پنجابی ریاست 70 کی دہائی سے بلوچ قوم کی ایک سب سے قیمتی اور نایاب وسائل یورینیم جیسے وسائل کو لوٹ رہی ہے۔ اسی مٹی سے لوٹی ہوئی یورینیم سے پنجابی ریاست نے خود کو دنیا کے سامنے ایک ایٹمی طاقت کے حوالے سے منوایا لیکن اس کی بدولت آج بھی وہاں رہنے والے مسکین بلوچ اس یورینیم کے ویسٹ میٹریل کے اثرات کو سہ رہے ہیں جس کے اثرات نے وہاں موجود لوگوں کو کینسر، جلدی امراض سمیت جسمانی و ذہنی حوالے سے معذور کر رکھا ہے جو آج بھی دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی کھا کر نجانے کس کا شکر ادا کر کے ہر روز ایک نئی تاریک صبح کا آغاز کرتے ہیں جو قوم و قومیت و انسانی اور بلوچی اقدار سے عاری ہیں۔

اس بیماری زدہ سماج میں پلنے والی ایک زی شعور روح جس نے بیمار و اندھی سماج کے ہر فرسودہ روایت سے انکار کر دیا جس نے اس سرزمین کے وارثوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ زمین غیرت مند لوگوں کی ہے جس کے مالک غیور بلوچ ہیں جو کئی ہزار سالوں سے بلوچی و انسانی اقدار کے مالک رہے ہیں کیوں آج وہ اپنی قومی اقدار کو چھوڑ کر دشمن کے اقدار کو اپنانے پر فخر محسوس کر رہے ہیں وہ کیوں آج اپنی سرزمین میں موجود قومی وسائل و مٹی کے لوٹ کھسوٹ کو دیکھ کر خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں اور کیوں وہ آج دشمن کے صفوں میں موجود ہو کر بلوچ دشمنی کر رہے ہیں۔ اس غلامی کے خلاف اپنے لوگوں کو صرف باتوں کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر سرپھیرنے کی کوشش کر کے آخری گولی کے فلسفے پر عمل کر کے خود کو آنے والی قومی مستقبل کے لیے قربان کیا اس عظیم کردار کو آج ہم بلوچ فدائی رشید بزدار عرف میرل کے نام سے جانتے ہیں۔

ایک دبلا پتلا سا جوان جو مختلف محفلوں میں انتہائی خاموشی سے بیٹھ کر لوگوں کی باتیں سنتا شاید وہ باتوں کو صرف سننے کی حد تک نہیں بلکہ محسوس کرنے کی تگ و دو میں تھا۔ 2020 میں ڈیرہ غازی خان میں بی ایس او آزاد کے سرکل میں میری فدائی میرل سے ملاقات ہوئی ہمارا ٹاپک کا عنوان فینن کی نظر میں غلامی و غلام کی جانب سے تشدد کے فلسفہ پر تھا تو اس دوران وہاں کئی دوست موجود تھے لیکن فدائی میرل کی جانب سے بہت زیادہ سوال کیے گئے اور میرل کے سوالات کا عنوان عمل پر تھا کہ یہاں موجود سیاسی دوست عمل کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں وہ کیوں آج دشمن کو جان کر بھی انجان بنے ہوئے ہیں۔ اس سوال کا جواب دینے کی مختلف دوستوں نے کوشش کی لیکن وہ میرل کو مطمئن نہ کر سکے مجھے یہی محسوس ہوا کہ اس کے پاس سوالات بہت تھے جن کے جواب اسے وہاں موجود سرکل سے نہ ملے سکیں اور وہ پھر ان دوستوں کے جوابات سن کر خاموشی اختیار کر چکے تھے۔

بقول سفر خان کے کہ یہ خاموشی جو بظاہر بے آواز ہے درحقیقت سب سے بلند چیخ ہوتی ہے۔ وہ چیخ جسے صرف وہی سن سکتے ہیں جنہوں نے اپنی زمین کو صرف زمین نہیں اپنی ماں سمجھا ہو۔ جن کے خواب ذاتی کامیابیوں سے نہیں اجتماعی نجات سے جڑے ہوں۔ ایسے وقت میں جنم لیتے ہیں وہ کردار جو تاریخ کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں مگر وقت کی رگوں میں دھڑکتے رہتے ہیں۔ وہ لفظوں میں انقلاب نہیں لاتے بلکہ اپنے قدموں سے زمین کی نبض کو بدلتے ہیں۔ وہ دن کو ایک عام فرد ہوتے ہیں اور رات کو نظریہ ان کی پہچان ان کے چہروں میں نہیں ان کے خوابوں میں ہوتی ہے۔

چند عرصہ بعد دوستوں سے معلوم ہوا کہ رشید نے پہاڑوں کا رخ کیا ہے انہوں نے اپنی مسلح جدوجہد کا آغاز بولان کی پر کیف و کٹھن پہاڑیوں سے کیا جو سینکڑوں سالوں سے بلوچ دھرتی میں مزاحمت کا سرچشمہ رہا ہے۔ بولان کے انہی پہاڑوں، جنگلوں، تکلیفوں و مصیبتوں اور دوستوں کی شہادتوں و قربانیوں نے میرل کے سوالات کے جواب دیے اور میرل کو مطمئن کیا اور بالآخر میرل کو فدائی جیسے اہم فیصلہ اٹھانے پر آمادہ کیا۔ فدائی شاید ہماری نظروں میں صرف ایک لفظ ہو لیکن اس عمل کو سر انجام دینے کے لیے اور خود کو قربان کرنے کے لیے بہت بڑا دماغ، شعور و دل چاہیے ہوتا ہے جو شاید نارمل انسانوں کی بس کی بات نہیں جو خود اپنے ہاتھوں اپنی زندگی و موت کا فیصلہ کر لیتے ہیں اور اپنی شہادت سے زندگی کا خاتمہ نہیں کرتے بلکہ وہ اس عمل سے زندگی کو زندگی بخشتے ہیں۔

فدائی ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے شاید ان کی ذاتی زندگی میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی ماسوائے آزادی کے لیکن آزادی بلوچ کے فلسفے نے اسے اپنا هم سفر کیا۔ وہ بھوک پیاس بیس گھنٹے کے پیدل سفر فوجی آپریشنز کو وہ ہنس کر سہاتا اور اپنے منزل کے بارے میں سوچتے ہوئے کسی بھی حالت سے نمٹنے کے لیے ہر اوقات تیار تھا۔

بقول ایک بلوچ سرمچار کہ جب میں نے میرل سے پوچھا یار یہ دوست فدائی جیسے عظیم فیصلوں کو کیسے اٹھاتے ہیں تو میرل کہنے لگے کہ جب ہم اس زمین کو ماں کی نظر سے دیکھیں اور اس کے پتھروں و درختوں و گھاس پھوس کو حقیقی معنوں میں اپنا سمجھیں اور ان بے زبانوں کی درد و تکلیف کو سمجھ پائیں جو چیخ و پکار کر رہی ہے جو درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے مجھے اور آپ کو پکار رہی ہے تو اس وقت یہ فیصلہ لینے میں دشواری نہیں بلکہ راحت محسوس ہوتی ہے اور دھرتی کے وارث خود کو ان کے لیے قربان کر دیتے ہیں اور اسی سرزمین کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے ابدی سکون میں چلے جاتے ہیں۔

فدائی رشید نے اپنے اس عمل سے کوہ سلیمان و ڈیرہ جات کے بلوچوں سمیت باقی زیر صوبوں میں رہنے والے بلوچوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اگر آج ہماری زمین کو پنجابی نے اپنی جبری پالیسیوں سے کہیں پنجاب تو کہیں سندھ و خیبر پختونخوا میں یا ان کے ناجائز باپ انگریز نے ایران و افغانستان میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمیں قومی شعور و قومی تحریک سے دور کرنے اور قومی طاقت کو تقسیم کرنے کی کئی ہزار کوششیں کی لیکن ہم نہ تو پاکستان کو مانتے ہیں نہ ہی پاکستان کی جانب کھنچی گئی لکیروں کو اور نہ ہی پنجابی کی دی گئی جبری پالیسیوں کو مانتے ہیں۔ یہ زمین جو آج پنجابی کے فیصلوں کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے کی صورت میں پڑی ہے انہی ٹکروں کی وارثی ہم نے کرنی ہے اور انہی ٹکروں کو یکجا کر کے ایک وطن کی شکل دینی ہے جو دنیا میں کئی دہائیوں سے تہذیب و تمدن کی پہچان رہی ہے۔

اسی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں فدائی رشید بزدار سمیت کئی ہزار شہیدوں و سرمچاروں نے کی اور کر رہے ہیں اور وہ اپنے لہو سے اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے میں تقریباً کافی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں۔ وہ آپریشن درا بولان و آپریشن ہیروف سمیت کئی اہم معرکوں میں دشمن کو دھول چٹا چکے ہیں اور بالآخر اپنے مشن کے حوالے سے شاید وہ اپنے سفر میں تھے کہ شور میں ایک آپریشن میں دشمن سے لڑتے ہوئے اور دشمن کی فوج کو ہلاک کرتے ہوئے شہادت کے عظیم رتبہ پر فائز ہوئے۔ میرل نے اپنے آخری تیر گولی تک دشمن سے جنگ کی اور آخری گولی خود کے لیے چنی۔ فدائی میرل کی بہادری نے دشمن کو اتنا تکلیف دیا کہ دشمن میرل کے شہید ہونے کے بعد اس کا سر کاٹ کر اپنے ساتھ لے گئے لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ آزادی کی تمنا و شعوری فکر سے لیس لاکھوں بلوچ سر کٹانے کے فیصلے پر عمل پیرا ہو کر دشمن کی تباہی و بربادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کو بے چین ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔