منافقت کے چادر میں لپٹی ریاست – وطن زاد

1

منافقت کے چادر میں لپٹی ریاست

تحریر: وطن زاد

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ قوم گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے قومی وقار اور انسانی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ وہ اس جدوجہد کو عالمی سطح پر ایک واضح پیغام کے طور پر پیش کرتی ہے کہ بلوچ ایک پُرامن قوم ہے جو آزادیِ رائے، انسانی حقوق اور انصاف پر یقین رکھتی ہے۔ اپنی قومی سالمیت، شناخت کے تحفظ اور ایک مضبوط و مستحکم معاشرے کے قیام کے لیے بلوچ عوام مسلسل جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ہمیشہ سے پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ وہ دنیا کے سامنے بلوچ کو دہشت گرد اور مذہب پرست ظاہر کرے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، پاکستانی ریاست کے زیر تسلط نشوونما پانے والے دہشت گرد پنجاب کے مختلف علاقوں میں ٹریننگ پا کر بلوچستان میں دھماکے کرتے ہیں کبھی مسجدوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی سیاسی جلسوں کو تاکہ عالمی سطح پر بلوچ قوم کو دہشت گرد گردانا جائے۔

بلوچ قوم روزِ اوّل سے پوری دنیا کے سامنے یہ واضح کرچکی ہے کہ ان کی جدوجہد آزادی کسی مذہب، فرقہ واریت یا کسی قوم کے خلاف لسانی یا مذہبی جنگ نہیں ہے۔ یہ جدوجہد محض اپنے حق، اپنی سرزمین، اپنی ثقافت اور اپنے لوگوں کے مستقبل کے لیے ہے۔

بلوچ قوم پرامن، حق پرست اور انسانی آزادی پر یقین رکھتی ہے، اور وہ اپنی قومی یکجہتی، شناخت اور معاشرتی استحکام کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ ان کی قربانیاں اور مستقل مزاحمت اس بات کا مظہر ہیں کہ ظلم و جبر کے باوجود حق اور آزادی کی راہ کبھی رُک نہیں سکتی-

پاکستان بلوچ قوم کو دہشت گرد بنا کر دنیا کے سامنے اس لیے پیش کررہا ہے تاکہ عالمی انسانی حقوق کے تنظیموں کے سامنے اپنی فسطائیت ، ظلم و بربریت کو چُھپا سکے، انٹرنیٹ ،سوشل میڈیا پر پابندی اور سیاسی و سماجی کارکنوں کی پروفائلنگ یہ چیز واضح کرتی ہے کہ پاکستانی فوج نے بلوچستان میں ظلم کے تمام حدود پار کرلیے ہیں۔

دراصل اب اس ظالم ریاست کو خوف کے سیاہ بادلوں نے گھیر لیا ہے ظاہری طور پر اگر یہ شاہ کا وفادار بن کر خود کو محفوظ سمجھ رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش میں برسر پیکار ہے لیکن اندرونی طور پر وہ جانتا ہے کہ بلوچ قوم اب اپنی سرزمین اسے مزید استعمال کرنے نہیں دے گا۔

امریکہ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی نظریں بلوچستان پر ہیں، پچھلے ایک سال میں جس طرح سے فدائین حملوں نے بلوچ جدوجہد آزادی کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پاکستان یا اس کی فسطائیت دنیا کے سامنے آشکار ہوچکی ہے اور اب عالمی طاقتیں اس خطے میں اپنا کوئی نیا دوست اور ہمدرد تلاش کر رہے ہیں

ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچ سے بہتر سیکولر ، پُرامن اور ترقی پسند قوم کوئی ہو ہی نہیں سکتا، ریپبلک آف بلوچستان اس خطے میں نئی دنیا کے قیام کے لیے سب سے طاقتور اور معاشی حوالے سے امیر ریاست بن کر اُبھرے گا۔

امریکی اعلیٰ حکام کے بیانات اگرچہ ریاست ظاہری طور پر نظر انداز کرنے کی کوشش کرکے فیڈریشن اور عوام کو ایک جھوٹا بیانیہ پیش کررہا ہے مگر اندر ہی اندر آپریشن ہیروف دوئم کے بعد اُس کے رات کی نیندیں حرام ہوچکی ہے، اس ظالم ریاست کا دانشور بخوبی جانتا ہے کہ پاکستان کی سلامتی ایران سے مشروط ہے اور ایران بہت جلد ایک سیکولر اسٹیٹ بننے جارہا ہے۔

اس کے بعد اسلامی ریاست اور اسلام کے نام پر قتل و غارت کا جو دھندا پاکستان چلاتا آرہا تھا وہ دنیا کے سامنے مکمل طور پہ آشکار ہوجائے گا، ایران میں بلوچ قوم کے قتل عام میں خامنہ ئی رجیم کی معاونت اور آزادی رائے کے لیے آواز اُٹھانے والے معصوم عوام سے حقِ آزادی چھیننے میں پاکستان کا دوغلا پن عیاں ہوچکا ہے اور امریکہ کے ساتھ اس کی وفاداری مشکوک ہوتی نظر آرہی ہے۔

دنیا میں کوئی بھی ریاست انسانی آزادی پر قدغن نہیں لگا سکتا یہ بات ایران کے عوام نے ثابت کردیا آج دنیا کی اعلیٰ دفاعی تجزیہ کار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایرانی سُپریم لیڈر کے قتل میں اسرائیل نے تکنیکی جاسوسی آلوں کے ساتھ ساتھ انسانی جاسوسوں کی بھی مدد لی ہے۔

اس بات سے واضح ہوجاتا ہے کہ Gen-Z ، آزادی رائے پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی زندگی اک آزاد حیثیت سے جینا چاہتے ہیں ،دنیا بھر کے انسانی حقوق کی تنظیمیں و اقوام متحدہ نے بھی ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ہر انسان کو آزادی سے جینے کا مکمل حق حاصل ہے،

اس وقت پوری دنیا میں واحد ملک ایران کے بعد پاکستان رہ گیا ہے جو انسانیت کا قتل عام کررہی ہے ، خودکش بمبار بھی اسی ملک نے دنیا کو پیداوار دیئے , مذہب کے نام پر معصوم انسانوں کا قتلِ عام ، اپنے ہی سیکیورٹی اہلکاروں کو قتل کرکے نام نہاد جہادی تنظیموں کے موقف کو عالمی سطح پر متعارف کرنا اس مُلک کا پیشہ رہا ہے۔

پچھلے دہائی میں عقیدہ پرستی کے رجحان کو حکومتی مشینری کی مدد سے پاکستان میں زور و شور سے بڑھایا گیا جو کہ بعد میں انتہائی سطح تک پہنچ گیا جس میں ریاست اور اس کے اداروں نے نام نہاد جہادی تنظیمیں متعارف کر کے اپنے ہی سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں ہزاروں کی تعداد میں معصوم لوگوں کا قتلِ عام کیا۔

کبھی شیعہ کہہ کر لوگوں کو بسوں سے اُتار کر ایف سی چیک پوسٹ کے سامنے پُر اسرار طور پر قتل کیا گیا تو کبھی بریلوی اور دیوبندی کا ڈھونگ رچا کر سیکنڑوں کے تعداد میں معصوم لوگوں کو خودکش دھماکوں میں اذیت ناک موت دی گئی جو کہ انسانی نسل کشی کی اک اعلٰی مثال ہے۔

یہ اقدامات پاکستان اور اس کی فوج عالمی اداروں سے انسداد دہشت گردی کے مد میں فنڈز بٹورنے کے لیے کرتی رہی اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں واضح کمی اس لیے نظر آئی کیوں کہ افغانستان کی آزادی کے بعد افغان طالبان کسی صورت اپنے عوام کو پاکستان کے مذموم عزائم کے لیے مزید استعمال نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی مستقبل قریب میں پاکستان کے ساتھ وہ کسی بھی قسم کا تعلق قائم کرنے کے خواہ ہیں۔

‏WB, IMF,UN اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو فنڈ کرنا فوری طور پر بند کردیں، جو فنڈز پاکستان کو انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے دی جارہی ہیں یہی پیسے وہ بلوچ قوم کے نسل کشی میں لگا رہا ہے۔

اسی طرح یورپی یونین کو بھی چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنے تجارتی پروگرام +GSP کا ازسر نو جائزہ لے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ انسانی حقوق کے تقاضوں کی مکمل پاسداری ہورہی ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے تجارتی پروگرام +GSP انسانی حقوق اور بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی سے مشروط ہے جبکہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پاکستان پر ان معاہدوں کی خلاف ورزی کے الزامات طویل عرصے سے لگتے آرہے ہیں،

بلوچستان میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے، جہاں ناقدین کے مطابق اس کا مقصد زمینی حقائق ،مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر سامنے آنے سے روکنا ہے.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔