شہید ماجد بلوچ عرف بادل کمانڈو آزادی کی راہ کا ہیروفی فدائی شہید – نوتک بلوچ

51

شہید ماجد بلوچ عرف بادل کمانڈو آزادی کی راہ کا ہیروفی فدائی شہید

تحریر: نوتک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہیروفی شہید فدائی سنگت ماجد بلوچ عرف بادل کمانڈو وہ کردار، وہ مقدس ہستی، جو آج بھی خیالات کی دنیا میں زندہ ہے۔ وہ پرجوش مخلص جھلک، وہ بے مثال وفاداری اور قربانی کی مثال جو راہِ حق کی پہلی منزل پر کھڑی نظر آتی ہے۔ تحریکِ آزادی میں جب ہم فدائی سنگت کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک مکمل تاریخِ قربانی، ایک لازوال ایمان اور مادرِ وطن کے لیے بے لوث نذرِ جاں ہے۔

فدائی سنگت ماجد جان وہ تحریکی کردار ہے جس نے اپنی مخلصی، نظریاتی پختگی اور بے مثال قربانی کے ذریعے نہ صرف بلوچستان کی آزادی کی راہ کو روشن کیا بلکہ پوری دنیا کی تاریخِ مزاحمت میں اپنی قربانی سے ایک انوکھا باب رقم کر دیا۔ جب اس کردار کو پہلی بار راہِ حق پر دیکھا تو دل میں ذمہ داری کا احساس جاگ اٹھا۔ وہ ایک ایسا وجود تھا جس نے اپنی موجودگی سے ہی یہ پیغام دیا کہ وطن کی خاطر سب کچھ، حتیٰ کہ جان بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ آج بھی جب اس کی یاد آتی ہے تو وہی پرجوش جھلک، وہی مخلص آنکھیں اور وہی آخری سفر کی یادیں ذہن میں تازہ ہو جاتی ہیں۔

اس کردار کی شان بیان کرنا، اس کی آخری باتوں کو الفاظ میں ڈھالنا، اس کی قربانی کو قلم سے سمونا… یہ سب انتہائی نازک اور مشکل مرحلہ ہے، کیونکہ الفاظ کی کمی بیشی کا اندیشہ ہمیشہ رہتا ہے۔ مقدس کردار کی شان میں کمی کا خوف ہر لکھاری کو ستاتا ہے۔ مگر پھر بھی، ایک کمزور قلم والے کے لیے یہ فخر کا مقام ہے کہ وہ ان عظیم ہستیوں پر لکھ سکے۔ فدائی سنگت پر لکھنا نہ صرف ضروری ہے بلکہ ہر اس شخص کے لیے جو مادرِ وطن سے محبت رکھتا ہے، ایک جذباتی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔

یہ کردار وہ نہیں جو صرف لڑا بلکہ وہ جو اپنے نظریے کو عمل میں تبدیل کر کے دکھایا۔ بلوچستان کی آزادی کی تحریک میں جب دشمن کی طاقت ہر طرف سے گھیر رہی تھی، جب وسائل کم تھے اور قربانی کا راستہ سب سے مشکل لگتا تھا، تب ہیروفی شہید فدائی سنگت نے بے مثل کردار ادا کیا۔ اپنی جان، اپنا سب کچھ وطن کی قربان گاہ پر پیش کر دیا۔ یہ قربانی صرف جسمانی نہیں تھی بلکہ نظریاتی تھی۔ یہ ایک ایسا پیغام تھا جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہے گا۔ عقل و دانش سے آگے کی یہ تاریخ ابھی انسانی سوچ اور قلم کی رسائی سے باہر ہے۔ ابھی تک کوئی لکھاری، کوئی مؤرخ ان کرداروں کی پوری شان بیان نہیں کر سکا، کیونکہ یہ قربانیاں انسانی تاریخ کی انوکھی مثال ہیں۔

مادرِ وطن ان وطن کے فرزندانِ فدائی سنگت کو اپنی گود میں سمیٹ کر جس مسرت اور فخر سے دیکھتی ہے، وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب مٹی اپنے بیٹوں کو گلے لگاتی ہے، جب پہاڑ ان کی یاد میں سر اٹھاتے ہیں اور جب دریاؤں کا پانی بھی ان کی قربانی کی داستان سناتا ہے۔ ہیروفی فدائی سنگت نے نہ صرف اپنی جان دی بلکہ ہزاروں آنے والی نسلوں کے لیے راہ ہموار کی۔ ان کی مخلصی، ان کی بے لوث قربانی اور ان کا وہ عزمِ راسخ جو موت سے بھی بڑھ کر تھا، آج آزادی کی تحریک کو نئے رنگ میں ڈھال دیتا ہے۔

شہید ماجد جان کا کردار آج بھی زندہ ہے، ہر اس آنکھ میں جو آزادی کا خواب دیکھتی ہے اور ہر اس قلم میں جو ان کی یاد کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ فدائی سنگت ایک نام نہیں، ایک مشعل ہے، ایک تاریخ ہے، اور ایک لازوال قربانی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔