ریڈار تباہ، فوجی قافلوں، ایئر بیس اور ‘ڈیتھ اسکواڈز’ پر حملے – بی ایل اے نے حملوں کی ویڈیو شائع کردی

1

بلوچ لبریشن آرمی کے آفیشل میڈیا چینل ‘ہکّل’ کی جانب سے حالیہ دنوں (مارچ) میں ہونے والے مربوط حملوں کی ویڈیو سیریز شائع کی گئی ہے۔

چودہ منٹ پر مشتمل اس سیریز میں ریڈار سسٹم تباہ کرنے، شمسی ایئربیس پر راکٹ داغنے اور جھل مگسی، سوراب اور کردگاپ میں فوجی قافلوں پر حملوں سمیت دشت، کڈان اور مستونگ میں فوجی کیمپوں پر حملوں کی دکھایا گیا ہے۔

اس سیریز میں پنجگور میں بیک وقت حکومتی حمایت یافتہ گروہ ‘ڈیتھ اسکواڈز’ کے ٹھکانوں پر حملے اور ان پر کنٹرول حاصل کرنے سمیت دالبندین میں معدنیات نکالنے والی سائٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ ویڈیو میں پاکستانی فورسز سے حاصل کیئے اسلحہ و دیگر جنگی سامان سمیت فوجی گاڑیوں کے تباہ ہونے کے بھی مناظر شامل ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ بلوچستان کے طول وعرض میں قابض پاکستانی فوج کے خلاف بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 29 مارچ کو مربوط حملوں کا آغاز کیا جو یکم اپریل تک جاری رہے۔ سرمچاروں نے پنجگور، شاپک، بسیمہ، سبی، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی، مستونگ، کوئٹہ، نوشکی، زامران، دشت، سوراب، جھل مگسی، دالبندین، خاران، واشک اور قلات میں 65 کارروائیاں کیں جن میں قابض فوج، ڈیتھ اسکواڈز اور خفیہ اداروں کے 86 سے زائد اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ ان حملوں میں قابض فوج کے کیمپوں سمیت ایئربیس، ریڈار سسٹم، مواصلاتی ٹاور، ریلوے ٹریکس و پُلوں اور گیس پائپ لائنوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ مرکزی شاہراہوں کو گھنٹوں تک کنٹرول میں لیا گیا جبکہ پنجگور اور زامران جھڑپوں میں بی ایل اے کے چھ جنگجو شہید ہوگئے۔