زاہد بارکزئی: لیاری کی جمہوری صدا
تحریر: حبیب نثار
دی بلوچستان پوسٹ
زاہد بارکزئی پر بات کرنے سے پہلے لیاری کا عملی مطلب کیا ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے۔ لیاری چند تناظرات کا مترادف بن چکا ہے، یعنی لیاری کا مطلب غربت، سماجی جدوجہد، کھیل اور گینگ وار۔ غربت، سماجی جدوجہد اور کھیل لیاری کی تاریخی میراث ہیں، جبکہ گینگ وار ایک حالیہ تیز آلہ ہے جس سے سماجی جدوجہد اور صحت مند کھیل کے گلے کاٹے گئے اور غربت کو گینگ کا گود بنا کر پیش کیا گیا۔
بہرحال، غربت اپنی تاریخی میراث میں لیاری کی پسماندگی کی عکاسی کرتی ہے۔ لیاری جغرافیائی طور پر ایک بین الاقوامی بندرگاہ اور چند بڑے بازاروں کے سنگم پر واقع ہے، جہاں لیاری کے مزدور اپنی محنت اور پسینے سے نظام کو چلانے میں اپنی خدمات پیش کرکے رات کو لیاری کی تاریکی میں چمکتے شہریوں کی نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں۔
سماجی جدوجہد کا ماخذ رہے محلوں کی انجمنیں، یا انجمنیں سماجی جدوجہد کا ماحصل ہیں۔ لیکن انجمنوں نے سماجی نظم کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ غربت سے نبردِ آزما ہوتے ہوئے بھی انجمنوں میں وسعت آتی گئی اور کم و بیش ہر محلے میں انجمنیں قائم رہیں۔ گلیوں میں ٹیوشن کلاسز غربت سے مقابلے کا دانشمندانہ اقدام تھا۔
کھیل میں جسمانی تندرستی اور مہارت کا تقاضا فطری ہے، جبکہ کھیل میں اقرباپروری اور سفارش کا تقاضا سیاسی ہے۔ لیاری میں کھیل تندرستی اور مہارت سے ہم آہنگ ہونے کے باوجود مشغلہ تو رہا مگر قومی دھارے میں جگہ نہ بنا پایا۔
گینگ وار نے قدم جماتے ہی سماجی انجمنیں غیرفعال کردیں، یعنی ایک ہی وار سے لیاری کا کایا پلٹ دیا۔ تاریخی سماجی جدوجہد کی جگہ پیپلز امن کمیٹی نے لے لی۔ کھیل مصنوعی امن کا تماشا کروانے کا بہانہ بن گیا اور مسلسل غربت گینگ وار کے پیدا ہونے کے سبب کے طور پر پیش کی گئی۔
فتح و کامرانی کا سایہ چھا گیا، گینگ وار کا عذاب ٹل گیا، لیکن غربت جوں کی توں۔ کھیل کے مصنوعی امن کا تماشا ہونے والی حیثیت برقرار، سماجی جدوجہد سماجی انجمنوں کے بس سے باہر اور این جی اوز کے دائرۂ اختیار میں شامل۔ شکل کچھ بھی ہو، لیکن لیاری کی تشکیلِ نو قابلِ دید تھی۔
لیکن لیاری کی تشکیلِ نو کوئی اتفاق نہیں بلکہ زاہد بارکزئی جیسے سماجی جمہوریت کے لیے اپنی خدمات سرانجام دینے والوں کی انتھک محنت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ حکومت کے نمائندوں کو ترقی انفراسٹرکچر میں نظر آتی ہے اور ریاست کے نمائندوں کو ایک محلے سے دوسرے محلے میں جانے کی ظاہری آزادی میں۔ لیکن عام لوگوں میں مطابقت پیدا کرنے، ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے، مختلف سماجی و علمی محافل میں شریک ہونے کا سہرا تو زاہد بارکزئی جیسے جمہوری صداؤں کے سر ہے۔ ان صداؤں کو نہ تو ووٹ چاہیے، نہ حالت قابو میں رکھنے کی شاباشی، اور نہ سماجی جدوجہد ان کے روزگار کا ذریعہ اور حصہ ہے۔ لہٰذا اپنے سماج کی بھلائی کے لیے اتنا ہم بھی سمجھتے ہیں کہ ہمیں زاہد کی جمہوری صدا چاہیے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































