جمعرات کو تہران میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں: ’ہمارے دماغ دھماکوں کے عادی ہو رہے ہیں‘

1

مغربی اور مشرقی تہران کے رہائشیوں نے جمعرات کی شام بہت زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔

مغربی تہران میں 20 سالہ لڑکی نے مجھے بتایا کہ دھماکے اتنے قریب محسوس ہو رہے تھے کہ اُنھوں نے رونا شروع کر دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے اتنا زوردار دھماکہ سنا جو میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ میرے کان کے بالکل قریب ہوا ہو۔ میں نے رونا شروع کر دیا اور میرے ہاتھ کانپنے لگے جب میں نے ایک دوست کو یہ بتانے کے لیے ٹیکسٹ ٹائپ کرنے کی کوشش کی کہ میں ٹھیک ہوں۔‘

تہران میں ایک 30 سالہ شخص نے بتایا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارے دماغ دھماکوں کے عادی ہو رہے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ہم انٹرنیٹ کی بندش کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم ایک مختلف قسم کی زندگی سیکھ رہے ہیں… پابندیوں، مہنگائی، عدم تحفظ اور سماجی دباؤ، جنگ اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے ساتھ زندگی۔‘

ایران اس وقت تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی زد میں ہے، لیکن کچھ لوگ اب بھی رابطہ قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔