’بلوچستان میں چار ماہ گزر جانے کے بعد بھی سکول کُھل نہیں سکے‘

2

ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ اور توانائی کے ممکنہ عالمی بحران کے پیشِ نظر پاکستان بھر میں حکومت کی ہدایت پر تعلیمی ادارے 31 مارچ تک بند ہیں، اور پنجاب میں تعلیمی اداروں کو مزید دو ہفتے بند رکھنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس فیصلے پر تعلیمی ماہرین اور نجی سکولوں کی نمائندہ تنظیموں نے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے تعلیمی عمل کو شدید دھچکہ لگے گا، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی تعلیمی سال محدود ہوتا ہے۔

حکومت نے پہلے 9 مارچ سے 24 مارچ تک سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سمیت تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا اعلان کیا تھا اور عید کے بعد اس میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کی گئی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سرکاری دفاتر میں تعطیلات میں اضافے، سرکاری دفاتر میں سرگرمیوں میں کمی اور ٹرانسپورٹ کو محدود کرنے جیسے اقدامات کا مقصد توانائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنا ہے۔

حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ملک میں ایندھن کی کھپت کو عارضی طور پر کم کرنا ہے، اسی لیے تعلیمی اداروں کی بندش کو بھی ایک ضروری احتیاطی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

آل پاکستان پرائیویٹ سکول فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے حکومتی فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’سب سے پہلے تعلیمی ادارے بند کیے گئے جبکہ بازار اور تفریحی مقامات بدستور کھلے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ایک طرف حکومت تعلیمی ایمرجنسی کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف سکول بند کر رہی ہے، یہ کھلا تضاد ہے۔‘

کاشف مرزا نے بتایا کہ ’اب حکومت سکولوں کو 15 اپریل تک بند کرنے پر غور کر رہی ہے جو ہمیں قبول نہیں۔ حکومت ایندھن بچانے کے دیگر طریقوں پر غور کرے۔‘

’80 فیصد بچے گھروں کے قریب سکولوں میں پڑھتے ہیں جہاں تک وہ پیدل جاتے ہیں اور ٹرانسپورٹ کا استعمال نہیں کرتے۔حکومتی فیصلے سے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں زیرِتعلیم قریباً پانچ کروڑ بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔‘

ملک بھر میں سکولوں کی بندش کے فیصلے سے سب سے زیادہ بلوچستان کے سرد علاقے متاثر ہو رہے ہیں جہاں نومبر سے شروع ہونے والی تعطیلات کے بعد چار ماہ گزر جانے کے باوجود بھی سکول کُھل ہی نہیں سکے۔

بلوچستان پرائیویٹ سکول فیڈریشن کے صدر نظر محمد بڑیچ نے کہا کہ ’تعلیمی کیلنڈر کے مطابق بچوں کو سال میں قریباً 200 تدریسی دن ملنے چاہییں مگر حقیقت اِس کے برعکس ہے۔‘

’ہڑتالوں، احتجاج، تہواروں، آفات اور امن و امان کی صورتِ حال کے باعث تدریسی دن کم ہو جاتے ہیں اور کئی سکول اپنا نصاب بھی مکمل نہیں کر پاتے۔ بعض اوقات آدھے تدریسی دن بھی بمشکل پورے ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’بلوچستان کے سرد علاقوں میں نومبر کے وسط سے سکول بند ہو جاتے ہیں اور یکم مارچ سے نیا تعلیمی سال شروع ہوتا ہے۔‘

’رواں برس رمضان کے باعث تعلیمی سرگرمیاں ٹھیک سے شروع بھی نہیں ہو سکیں کہ ایک اور بندش کا فیصلہ آگیا۔ یوں کئی سکول تو عملاً نیا تعلیمی سال شروع ہی نہیں کر سکے۔‘

نظر بڑیچ کے مطابق ’بار بار تعطیلات سے نہ صرف تعلیمی معیار گرتا ہے بلکہ نجی سکولوں پر مالی دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے، کیونکہ والدین خراب نتائج پر بچوں کو سکول سے نکالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔‘

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’کورونا کے دوران بھی ہزاروں بچے تعلیم چھوڑ گئے تھے اور بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں پہلے ہی قریباً 35 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’صوبے کے بیشتر علاقوں میں آن لائن تعلیم بھی ممکن نہیں کیونکہ وہاں بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔‘

ماہرِ تعلیم ڈاکٹر محمد ادریس بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں خصوصاً سکولوں کی طویل عرصے تک مسلسل بندش سے بچوں کی کارکردگی اور معیارِ تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کورونا کے دوران طویل لاک ڈاؤن نے تعلیمی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا جس کے اثرات آج تک برقرار ہیں۔ سکولوں کی بندش سے نہ صرف بچوں کی کارکردگی متاثر ہوئی بلکہ سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد بھی بڑھ گئی۔‘

تاہم ڈاکٹر محمد ادریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض اوقات حالات کچھ ایسے ہوتے ہیں جب حکومت سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال کورونا جیسی تو نہیں مگر عالمی توانائی بحران اور پیٹرول کی ممکنہ قِلت بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر محمد ادریس نے تجویز دی کہ حکومت نے جب سرکاری دفاتر میں کام کے دن چار کر دیے ہیں تو سکولوں میں بھی مکمل بندش کے بجائے اسی طرح کے مُتبادل اقدامات کیے جا سکتے تھے تاکہ تعلیمی سلسلہ برقرار رہتا۔

عالمی معیار کے مطابق جی ڈی پی کا کم سے کم چار فیصد تعلیم پر خرچ ہونا چاہیے مگر پاکستان دو فیصد بھی بمشکل خرچ کر رہا ہے۔ مکمل تعطیل سے پڑھائی کا نقصان بڑھتا ہے، بچے تعلیمی عمل سے کٹ جاتے ہیں اور اُن کی ذہنی نشوونما بھی متاثر ہوتی ہے۔‘

کوئٹہ میں ایک نجی سکول کے مالک زاہد جان مندوخیل نے بھی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی بندش کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ایک سرد علاقہ ہے جہاں تعلیمی ادارے پہلے ہی طویل سرمائی تعطیلات کے بعد کھلے تھے مگر اب ایک بار پھر اِن کی بندش نے تعلیمی تسلسل کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔

زاہد جان مندوخیل کا مزید کہنا ہے کہ ’پاکستان میں سالانہ تدریسی دن پہلے ہی قریباً 150 رہ گئے ہیں اور بار بار کی تعطیلات طلبہ کی کارکردگی اور رویے پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔‘

انہوں نے ہائبرڈ نظام کی تجویز دی کہ پری سکول کے لیے ہفتے میں ایک روز، پرائمری کے لیے دو روز اور سکینڈری اور کالج کی سطح پر تین روز فزیکل کلاسوں کی اجازت دی جائے جبکہ باقی دن آن لائن پڑھائی ہو۔

زاہد جان مندوخیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سے تعلیمی سلسلہ بھی چلتا رہے گا اور موجودہ بحران کے اثرات بھی کم ہوں گے۔

آل پاکستان پرائیویٹ سکول فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا کے مطابق مستقبل میں حکومتی فیصلے کے اثرات منفی مرتب ہوں گے۔ پاکستان میں پہلے ہی قریباً 2 کروڑ 80 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور تعلیمی اداروں کی بندش سے یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے مطابق 5 سے 16 سال تک کے بچوں کو تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اس لیے یہ ایک بنیادی حق ہے جسے اس طرح چھینا نہیں جا سکتا۔

کاشف مرزا کہتے ہیں کہ مکمل بندش کے بجائے ہفتہ وار چُھٹیاں بڑھائی جائیں جیسا کہ سرکاری دفاتر میں کیا گیا ہے۔ اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو تنظیم قانونی چارہ جوئی اور احتجاج پر مجبور ہوگی۔‘