گزشتہ سال یکم دسمبر کو خضدار سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والی خاتون، فرزانہ بلوچ، کو آج خودکش بمبار کے طور پر میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔
یاد رہے کہ فرزانہ زہری دختر محمد بخش زہری کو یکم دسمبر 2025 کی شب خضدار میں اُس وقت پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا تھا، جب وہ اسپتال سے واپس اپنے گھر جا رہی تھیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر حکام نے آج اس خاتون کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے ایک کارروائی میں اس کی گرفتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ فررزانہ تحریک طالبان کے ایک کمانڈر کے ساتھ رابطے میں رہی تھیں، اور انہیں بتایا گیا تھا کہ بی وائی سی کی ڈاکٹر صبیحہ بلوچ سے ملاقات کے بعد انہیں خودکش حملے کی تربیت دی جائے گی۔
فرزانہ بلوچ کی پریس کانفرنس اور اس متنازعہ پریس کانفرس پر بلوچ سوشل میڈیا صارفین کا مؤقف ہے کہ ریاست اس سے قبل بھی کئی لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے ان کا میڈیا ٹرائل کرتی رہی ہے۔

















































