جان محمد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کے بعد ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا، بی وائی سی

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ جان محمد کو 24 جنوری 2026 کو تربت کے علاقے جوسک سے حراست میں لیا گیا تھا۔ تین ماہ سے زائد عرصے تک ان کے اہلخانہ خوف اور اذیت میں ان کی بحفاظت واپسی کے منتظر رہے، مگر بعدازاں ان کی تشدد زدہ لاش ضلع کیچ کے علاقے بانک چڈائی میں پھینکی گئی۔ ان کے جسم پر گولیوں کے نشانات اور شدید تشدد کے واضح آثار موجود تھے۔ اہلخانہ نے ان کی شناخت ان کے اسٹوڈنٹ آئی ڈی کارڈ کے ذریعے کی۔

انہوں نے کہا کہ جان محمد کوئی مجرم نہیں تھے بلکہ ایک نوجوان طالبعلم تھے، جن کے خواب اور تعلیم کا حق اس وقت چھین لیا گیا جب وہ ابھی آٹھویں جماعت کے طالبعلم تھے۔ کسی بھی قانون، آئین یا انسانی اصول کے تحت بغیر عدالت، مقدمے یا قانونی کارروائی کے ایک طالبعلم کو جبری لاپتہ کرکے قتل کرنا جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس بہیمانہ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق اور انصاف کے منہ پر ایک سیاہ دھبہ قرار دیا۔ تنظیم نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسے ملک میں، جہاں کئی 18 سالہ نوجوانوں کے پاس قومی شناختی کارڈ تک موجود نہیں، وہاں ایک بچے کو بغیر کسی قانونی عمل کے جبری لاپتہ، تشدد کا نشانہ اور قتل کیسے کیا جاسکتا ہے؟

تنظیم کے مطابق عالمی برادری کی خاموشی بلوچ خاندانوں کے دکھ اور اذیت میں مزید اضافہ کررہی ہے۔ مائیں آج بھی اپنے بیٹوں کی راہ دیکھ رہی ہیں، جبکہ خاندانوں کو انصاف کے بجائے اپنے پیاروں کی لاشیں مل رہی ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوام متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بلوچ عوام کی زندگی، وقار اور مستقبل کو مزید خوف اور تشدد کے ذریعے کچلا نہیں جانا چاہیے