آپریشن ھیروف: بی ایل اے نے مزید چھ سرمچاروں کے تفصیلات جاری کردئے

154

تنظیم کی جانب سے گذشتہ ماہ آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے میں شامل جانبحق اور فدائین سرمچاروں کے تصاویر و تفصیلات جاری کئے جارہے ہیں، تنظیم نے مزید چھ سرمچاروں کے تفصیلات شائع کئے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ ہکل کی جانب سے شائع کردہ تفصیلات کے مطابق آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلہ میں حصہ لینے والے گدر سوراب کے رہائشی فدائی سعد مینگل عرف شیہک ولد غوث بخش نے نومبر 2023 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور جنوری 2025 میں مجید برگیڈ کا حصہ بنے۔

تنظیم کے مطابق فدائی سعد بلوچ آپریشن ہیروف فیز دو میں نوشکی میں اڈہ کیمپ ہیڈکوارٹر کے محاذ پر آپریشن کمانڈر تھا، اس نے بحیثیت آپریشن کمانڈر اور ایک فدائی سرمچار منظم حکمتِ عملی، فولادی ضبط اور خاموش مگر مؤثر پیش قدمی کے ذریعے دشمن پر ایسی کاری ضربیں لگائیں کہ آپریشن ہیروف کے چھ روزہ معرکے میں دشمن کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

فدائی سعد بلوچ آپریشن درۂ بولان فیز دو میں بھی شامل تھا، جہاں اس نے اپنی غیر معمولی جنگی صلاحیتوں کے ذریعے معرکے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ 

تنظیم نے بتایا ہے کہ فدائی سعد بلوچ نے بی ایل اے میں شمولیت کے بعد بولان کے محاذ پر خدمات سرانجام دیں، بولان کے محاذ پر اس نے بطور ٹریننگ استاد بھی خدمات انجام دیں، وہ محاذ پر ہر کارروائی سے پہلے زمینی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیتا، رسد اور رابطے کو مربوط رکھتا اور درست وقت پر فیصلہ کن ضرب لگانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ 

محدود وسائل میں مؤثر کام کرنا، طویل مورچہ بندی برقرار رکھنا اور دباؤ کے ماحول میں نظم قائم رکھنا اس کی نمایاں خصوصیات تھیں۔

وہ جنگِ آزادی کا ایک پُرعزم اور باشعور سپاہی تھا جس نے جدوجہد کو محض فریضہ نہیں بلکہ اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا تھا۔ اسی عزم اور یقین کے ساتھ اس نے نوشکی کے محاذ پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

بی ایل اے میڈیا ونگ کے مطابق زہری سموانی کے رہائشی فدائی عنایت عرف توکلی، ولد امام دین سرمستانی نے جنوری 2024 میں بی این اے میں شمولیت کی اور فروری 2025 میں مجید برگیڈ کا حصہ بنیں۔

فدائی عنایت نے بی ایل اے میں شمولیت کے بعد ایک سال تک شہری محاذ پر اپنی خدمات سرانجام دیں، انہوں نے بہادری اور پختگی کے ساتھ اپنی شہری ذمہ داریاں نبھائیں اور بعد ازاں تنظیمی فیصلے کے تحت 2025 کے آغاز میں پہاڑی محاذ ناگاہو منتقل ہوئے۔ 

تنظیم کے مطابق خضدار کے علاقے زہری کی سرزمین سے تعلق رکھنے والا توکلی اپنے اندر ایک خاموش مگر آہنی عزم رکھتا تھا، پہاڑی محاذ کا حصہ بننے کے بعد اس نے دشوار گزار پہاڑوں اور مسلسل خطرات کے درمیان اپنے کردار کو مزید مضبوط کیا۔ 

مجید بریگیڈ میں شمولیت کے بعد اس نے قربانی اور مزاحمت کے فلسفے کو اپنی عملی زندگی میں ڈھال دیا ناگاہو کے محاذ پر وہ ایک ایسے سرمچار کے طور پر ابھرا جو ہر لمحہ جدوجہد کے لیے تیار رہتا تھا، جس کے قدم پیچھے ہٹنا نہیں جانتے تھے اور جس کا یقین تھا کہ آزادی کی منزل قربانی اور استقامت کے راستے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

توکلی کا عزم اس حقیقت کی علامت بن گیا کہ جب ایک سرمچار اپنی دھرتی کی آزادی کو اپنی زندگی سے بھی زیادہ عزیز سمجھتا ہے تو وہ تاریخ میں مزاحمت کی ایک زندہ علامت بن جاتا ہے۔

فدائی عنایت توکلی آپریشن ہیروف فیز دو میں نوشکی کے محاذ پر موجود تھا، جہاں اس نے بہادری، ہمت اور جنگی صلاحیتوں کی مثال قائم کرتے ہوئے دشمن پر ایسی کاری ضربیں لگائیں جن کی گونج بلوچستان کی آزادی تک سنائی دیتی رہے گی، فدائی عنایت نے نوشکی کے محاذ پر آزادی کے عظیم مقصد کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

تنظیم نے اپنے ایک اور سرمچار کے حوالے سے بتایا ہے کہ آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلہ میں حصہ لینے والے فدائی سہیل احمد عرف سنگر ولد رسول بخش سمالانی، سکنہ کلی جمالدینی نوشکی نے فروری 2025 میں تنظیم کا حصہ بنے اور مئی میں مجید برگیڈ میں شامل ہوئے۔

تنظیم کے مطابق فدائی سہیل احمد کا تعلق نوشکی کی اُس مزاحمتی سرزمین سے تھا جس کی مٹی نے ہمیشہ مزاحمت، استقامت اور قربانی کے کرداروں کو جنم دیا ہے، اسی مٹی کی آغوش میں پرورش پانے والا سہیل احمد جب قومی آزادی کی جدوجہد میں مسلح مزاحمت کا حصہ بنا تو وہ محض ایک فرد نہ رہا بلکہ اپنے منتخب کردہ نام “سنگر” کی مانند جدوجہد کا ایک مضبوط مورچہ بن گیا۔ 

اس کی شخصیت میں خاموش عزم، گہری وابستگی اور اپنی دھرتی سے بے لوث محبت نمایاں تھی اسی فکری پختگی اور انقلابی یقین کے باعث اس نے بی ایل اے میں شمولیت کے فوراً بعد مجید بریگیڈ کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا، تاکہ اپنی زندگی کو قومی آزادی کے لیے وقف کر سکے۔

فدائی سہیل احمد عرف سنگر آپریشن ہیروف فیز دو میں نوشکی کے محاذ پر موجود تھے، جہاں انہوں نے ہیروفی لشکر کے ساتھ مل کر دشمن کے خلاف ایک منظم، شدید اور فیصلہ کن معرکہ لڑا۔ 

اس طویل اور کٹھن لڑائی میں سنگر ثابت قدمی کے ساتھ آخری لمحے تک محاذ پر ڈٹے رہے۔ 

تنظیم نے کہا انہوں نے قربانی کے فلسفے کو عملی شکل دیتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور یوں جنگِ آزادی کی تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے امر کر دیا، سنگر کی شہادت اس عزم کی علامت بن گئی کہ آزادی کی راہ میں اٹھنے والا ہر قدم تاریخ کے اوراق پر ایک نئی داستان رقم کرتا ہے۔

ہکل میڈیا کے مطابق کڈی ڈیدار نوشکی کے رہائشی شہید فدا حسین جمالدینی عرف عامر ولد محمد عمر دسمبر 2023 میں بی ایل اے میں شامل ہوئے نوشکی کے سنگلاخ میدانوں سے ابھرنے والے فدا حسین جمالدینی، جنہیں ساتھیوں میں عامر کی پہچان ملی، خاموش مگر مخلص جہدکارتھے۔ انہوں نے شہری نیٹ ورک میں رہتے ہوئے انتہائی مہارت اور رازداری سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ 

جب آپریشن ہیروف کی پکار آئی، تو عامر نے اپنی تمام تر توانائیاں نوشکی کے محاذ پر دشمن کی پیش قدمی روکنے کے لیئے صرف کردیں، انہوں نے اپنی آخری سانس تک استقامت کا مظاہرہ کیا اور جامِ شہادت نوش گئے۔

ہکل میڈیا کے مطابق تنظیم کے ایس ٹی او ایس کے رکن شہید عصمت اللہ کبدانی عرف کندیل ولد حاجی عبداللہ کبدانی، سکنہ شیخ زائد ہسپتال خاران نے سال 2025 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی۔

تنظیم نے انکے حوالے سے بتایا ہے کہ خاران کے علمی و فکری ماحول سے وابستہ عصمت اللہ کبدانی، جنہیں گوریلا حلقوں میں ‘کندیل’ (روشنی) کے نام سے پکارا گیا اپنی مٹی کے وہ سپوت تھے جنہوں نے اندھیروں کے خلاف چراغ بننا قبول کیا۔ 2025 میں تحریک کا حصہ بننے کے بعد، عصمت اللہ نے اپنی غیر معمولی ذہانت اور تکنیکی مہارت کی بنیاد پر بی ایل اے کے خصوصی یونٹ ‘ایس ٹی او ایس’ میں اپنی جگہ بنائی۔ 

ان کا انتخاب اس بات کی دلیل تھی کہ وہ محض ایک جذباتی نوجوان نہیں بلکہ ایک پختہ کار شعور کے حامل جہدکار تھے، جو جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر دشمن کو زک پہنچانے کا ہنر جانتے تھے۔

 

کندیل کی جدوجہد خاران اور نوشکی کے محاذوں کے درمیان ایک پل کی مانند تھی وہ ان گنے چنے سپاہیوں میں شامل تھے جو مشکل ترین مشن کو سرانجام دینے کے لیئے ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ 

تنظیم نے کہا ہے کہ آپریشن ہیروف کے دوران، جب نوشکی کا میدانِ کارزار دشمن کے لیئے جہنم بن چکا تھا عصمت اللہ نے اپنی تکنیکی اور عسکری صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے حصار کو توڑا۔ 

انہوں نے اپنی سرزمین کی آزادی کے بڑے مقصد کے لیئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، اور ثابت کر دیا کہ ‘کندیل’ جب بجھتے ہیں تو ہزاروں نئے چراغوں کو روشن کرجاتے ہیں۔

بی ایل اے نے مزید ایک اور سرمچار کے شناخت کے حوالے سے بتایا ہے کہ قاضی آباد نوشکی کے رہائشی شہید فہد بلوچ عرف دیار ولد عطاء اللہ بادینی نے سال 2025 میں بی ایل اے کا حصہ بنے۔

 

تنظیم کے مطابق شہید فہد بلوچ عرف دیار نوشکی کی اُس فضا میں پروان چڑھے جہاں قومی آزادی کا سوال خاموشی سے نئی نسل کے ذہنوں میں جنم لیتا ہے۔ 

فہد نے اپنے گرد و پیش کے حالات کو محض ایک روزمرہ حقیقت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ایک وسیع تاریخی داستان کے تسلسل کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی، یہی شعوری بیداری انہیں اس مقام تک لے آئی جہاں فرد اپنی ذات کی حدوں سے نکل کر قوم کی اجتماعی تقدیر کے سوال سے جڑ جاتا ہے۔ 

مسلح مزاحمتی تحریک کے ساتھ ان کی وابستگی دراصل اسی فکری سفر کا نتیجہ تھی، جس میں آزادی کا تصور محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک نظریاتی یقین بن کر ابھرتا ہے۔

 

بی ایل اے نے آخر میں کہا شہید فہد بلوچ نے شور پارود کے محاذ پر اپنی خدمات سرانجام دیں اور آپریشن ہیروف فیز دو میں نوشکی کے محاذ پر موجود تھے، وہاں انہوں نے چھ روزہ تاریخی معرکے میں بہادری اور حکمتِ عملی کے ساتھ دشمن پر کاری ضربیں لگائیں اور اسی محاذ پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے جنگِ آزادی کی تاریخ میں امر ہو گئے۔