ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 151.8 ملین ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے لیے ’ہنگامی‘ اختیار استعمال کیا گیا ہے تاکہ کانگریس کی نظرِ ثانی کی شرط کو ختم کیا جا سکے، جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف پولیٹیکل-ملٹری افیئرز کے مطابق اس مجوزہ فروخت میں بارہ ہزار BLU-110A/B جنرل پرپز بم باڈیز شامل ہیں، جن کا وزن ایک ہزار پاؤنڈ ہے۔ اس کے ساتھ انجینئرنگ، لاجسٹکس اور تکنیکی معاونت کی خدمات بھی فراہم کی جائیں گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیرِ خارجہ نے یہ طے کیا ہے اور تفصیلی جواز فراہم کیا ہے کہ ایک ہنگامی صورتحال موجود ہے جس کے تحت اسرائیل کو فوری طور پر یہ دفاعی سازوسامان فراہم کرنا ضروری ہے۔‘
یہ اقدام آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کی شق 36(b) کے تحت کانگریسی نظرِ ثانی کی شرط کو ختم کرتا ہے۔
اس منصوبے کا مرکزی کنٹریکٹر Repkon USA ہوگا، جو گارلینڈ، ٹیکساس میں واقع ہے۔ بم باڈیز کی کچھ تعداد امریکی فوجی ذخائر سے فراہم کی جائے گی۔
یہ منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس جنگ میں اب تک 1,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای، 150 سے زائد سکول کی طالبات اور اعلیٰ فوجی حکام شامل ہیں۔
اس جنگ نے خطے میں وسیع پیمانے پر عدم استحکام پیدا کر دیا ہے اور ایران نے جوابی حملے کرتے ہوئے امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مجوزہ فروخت سے امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کو تقویت ملے گی، کیونکہ یہ ایک اہم علاقائی اتحادی کی سلامتی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی، جو مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
’یہ فروخت اسرائیل کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنائے گی، اس کی داخلی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرے گی اور علاقائی خطرات کے خلاف ایک مؤثر رکاوٹ ثابت ہوگی۔‘
















































