بلوچستان کے ضلع بارکھان سے گزشتہ رات بارکھان نوجوان اتحاد کے وائس چیئرمین عزیز اللہ کھیتران بلوچ کو رات تقریباً ایک بجے ان کے گھر سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ مقامی افراد کے مطابق فورسز اہلکار انہیں اپنے ہمراہ لے گئے، جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
اسی رات عزیز اللہ کے کزن میرجان کو بھی بارکھان شہر میں ان کے ٹال (کاروباری مقام) سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ دونوں واقعات کے بعد علاقے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جبکہ اہل خانہ کو ان کی سلامتی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔
دوسری جانب جبری گمشدگی کے شکار چار افراد کی بازیابی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
واشک کے علاقے بسیمہ سے تعلق رکھنے والے نذیر احمد ولد علی حسن، جنہیں 17 فروری 2026 کو بسیمہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، 24 فروری 2026 کو بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
اسی طرح افضل ولد صوالی، سکنہ آپسر تربت (ضلع کیچ)، جنہیں 29 جنوری 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، 24 فروری 2026 کو آپسر تربت میں بازیاب ہو گئے ہیں۔
مزید برآں، نوانو زامران کے رہائشی نجیب اللہ ولد معتبر محمد حسن، جو 18 فروری 2026 کو گلی کوچہ سے جبری طور پر لاپتہ ہوئے تھے، بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق نبیل ارمان بلوچ کو گزشتہ روز اسلام آباد سے جبری طور پر اغواء کیا گیا تھا، تاہم آج ان کی بحفاظت بازیابی کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ان کے قریبی ساتھیوں نے ان کی واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت محفوظ ہیں۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری گمشدگیوں کے واقعات تسلسل کے ساتھ رپورٹ ہو رہے ہیں۔



















































