‎آزادی کی سفر میں ایک مسافر
- زگرین بلوچ

54

‎آزادی کی سفر میں ایک مسافر


تحریر: زگرین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

‎آزادی ایک منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے اور اس سفر میں انسان خود اپنی تلاش پر نکلتا ہے۔ میں خود کو اسی سفر کا ایک مسافر سمجھتا ہوں۔ ایسا مسافر جو راستوں کی سختی سے گھبراتا نہیں بلکہ ان میں اپنے وجود کی معنویت تلاش کرتا ہے۔

‎ایک مسافر جانتا ہے کہ آزادی کا راستہ طویل بھی ہوگا اور کٹھن بھی ہوگا مگر وہ اس یقین کے ساتھ قدم بڑھاتا ہے کہ وقار کے بغیر زندگی محض سانس لینے کا عمل ہے، جینا نہیں ہے۔ آزادی دراصل انسان کے باطن کی وہ پکار ہے جو اسے بے حسی، خوف اور مصلحت سے اوپر اٹھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان اپنے وجود سے سوال کرتا ہے، میں کون ہوں؟ اور میری شناخت کیا ہے؟

‎میں نے اس جدوجہد کا انتخاب اس بنیادی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے کہ قابض دشمن نے ہماری سرزمین پر قبضہ جما رکھا ہے اور مجھے سمیت پوری قوم کو غلامی کی زندگی پر مجبور کردیا ہے۔ غلامی کی حالت کیا ہوتی ہے اس کی اذیت اور محرومی کو الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ صرف زمین پر قبضے تک محدود نہیں بلکہ ہماری قومی شناخت، ہماری ثقافت، ہماری زبان اور ہمارے گھروں کی عزت و آبرو تک اس کے اثرات پہنچ چکے ہیں، غلامی کی اس فضا میں کوئی بھی چیز محفوظ نہیں رہتی ہے۔ ایک باشعور انسان کی عقل اسے یہ سوچنے پر ضرور آمادہ کرتی ہے کہ غلامی کو خاموشی سے قبول کر لینے کے بجائے اس کے خلاف جدوجہد کرنا کہیں زیادہ باوقار اور بہتر راستہ ہے۔ اسی احساس کے تحت میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ قومی جنگ مجھ پر فرض ہے۔ بحیثیت ایک بلوچ، میری خوشیوں سے لیکر میرے غم تک، میری گلزمین سے لیکر میری شناخت تک ہر وہ شے پر قابض قوت کا سایہ موجود ہے جو مجھے ہر روز، ہر قدم پر، بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ میں ایک محکوم اور غلام ہوں۔

‎ایسی صورتحال میں میرے لیے ممکن نہیں کہ میں صرف زبانی طور پر اس جنگ کی حمایت کروں بلکہ میں اسے اپنے اوپر ایک فرض اور ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس کا حصہ بننا ضروری سمجھتا ہوں۔ کیونکہ اگر ہم اس جدوجہد سے منہ موڑ لیں تو ہمیں نہ صرف اپنی غلامی کو قبول کرنا ہوگا بلکہ اپنی قومی شناخت اور اپنے وجود سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔

‎یہ جنگ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں خاموشی یا غیر جانبداری کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے یا تو آزادی اور خودمختاری کیلئے کھڑا ہونا ہوگا یا پھر غلامی کی زنجیروں کو اپنی قسمت مان کر جینا ہوگا اور اس لئے میں نے قومی آزادی کے سفر میں ایک مسافر بننے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ میرے نزدیک باعزت زندگی ہی اصل زندگی ہے اور میں ایک مسافر کی حیثیت سے یہی سمجھتا ہوں کہ منزل سے زیادہ اہم وہ شعور ہے جو اس سفر میں پیدا ہوتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔