بی ایل اے کے زیرِ حراست اہلکاروں کے لیے دیے گئے الٹی میٹم کا آج آخری دن ہے۔
تفصیلات کے مطابق 31 جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کے دوران بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے اورناچ میں پاکستانی فوج کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا تھا۔
بی ایل اے کے مطابق اس حملے میں درجنوں پاکستانی فورسز اہلکار ہلاک کیے گئے جبکہ بی ایل اے کے اس آپریشن کے دوران 17 اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے دس اہلکاروں کو بلوچ یا مقامی ہونے کی بنیاد پر تنبیہ دے کر رہا کردیا گیا۔
اس حوالے سے تنظیم کے ترجمان نے تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ سات اہلکار جو پاکستانی فوج کے ریگولر یونٹس سے وابستہ تھے ان کے خلاف بلوچ قومی عدالت میں باضابطہ سماعت عمل میں لائی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ اس عدالتی کارروائی کے دوران ان پر جنگی جرائم، شہری آبادیوں کے خلاف کارروائیوں، جبری گمشدگیوں میں معاونت اور بلوچ نسل کشی کے عمل میں عملی شرکت کے الزامات عائد کیئے گئے۔
عدالتی عمل کے دوران ملزمان کو صفائی کا موقع دیا گیا، شواہد پیش کیئے گئے، اور اقبالِ جرم کے بیانات ریکارڈ پر لائے گئے۔ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے انہیں الزامات کا مرتکب قراردیا ہے۔
بی ایل اے نے ان سات زیرِ حراست پاکستانی فوجی اہلکاروں کی ویڈیوز اور تفصیلات جاری کرتے ہوئے حکام کو سات دن کا الٹی میٹم دیا تھا اور قیدیوں کے تبادلے کی شرط رکھی تھی، جس کی مدت آج ختم ہورہی ہے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے بی ایل اے کے دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، نہ ہی واقعے کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید کی گئی ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق آج پاکستانی فوج نے خضدار، اورناچ اور لسبیلہ کے پہاڑی سلسلوں میں بڑے پیمانے پر فضائی آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچ لبریشن آرمی نے 2022 میں پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل لائک بیگ مرزا کو زیارت کے قریب حراست میں لے کر قیدی تبادلے کی پیشکش کی تھی، تاہم پاکستانی فوج نے آپریشن شروع کردیا تھا جس کے بعد بی ایل اے نے لیفٹیننٹ کرنل کو ہلاک کردیا تھا۔
اسی طرح 2025 میں بی ایل اے نے جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد زیرِ حراست پاکستانی فوجیوں کی رہائی کے بدلے لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن پاکستانی فورسز نے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں بی ایل اے نے تمام زیرِ حراست اہلکاروں کو قتل کردیا تھا۔

















































