ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں منگل کی شب ایک مبینہ پولیس مقابلے میں چار نوجوانوں کے مارنے کا دعوی سامنے آیا ہے۔ سندھ پولیس کے محکمہ سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ مارے گئے افراد کا تعلق بلوچ مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سے تھا اور وہ ایک کارروائی کے دوران مارے گئے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن اظفر مہیسر کے مطابق کارروائی گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پولیس ٹیم ایک گھر پر پہنچی تو وہاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں چار افراد مارے جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
مارے گئے تین افراد کی شناخت جلیل ولد نور محمد، نیاز قادر ولد قادر بخش اور حمدان عرف حکیم ولد محمد علی کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ ایک شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
تاہم واقعے کے فوراً بعد اہلِ خانہ نے پولیس کے مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے اسے مشکوک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مارے گئے افراد پہلے سے لاپتہ تھے اور ان کی بازیابی کے لیے عدالتوں میں درخواستیں بھی دائر کی جا چکی تھیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ سی ٹی ڈی کی کسی کارروائی پر سوالات اٹھے ہوں۔ ماضی میں بھی بلوچستان اور کراچی میں مبینہ مقابلوں کے بعد جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جن کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

















































