بلوچ لبریشن آرمی نے خاتون کمانڈر بانی بلوچ کی تفصیلات جاری کردیئے

647

بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ھیروف میں حصہ لینے والے اپنے ارکان کے تصاویر اور تفصیلات اپنے میڈیا چینل ہکل پر جاری کئے ہیں۔

ہکل پر جاری کردہ تفصیلات میں بلوچ لبریشن آرمی نے نوشکی میں آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے کے تحت پاکستانی فورسز کے کیمپ پر حملہ کرنے والی خاتون کمانڈر کی شناخت شہید فدائی کمانڈر بانی بلوچ عرف بانڑی زوجہ شہید در محمد عرف روستو والد یار خان سمالانی کے نام سے کی ہے۔

بی ایل اے کے مطابق کمانڈر بانی کا تعلق بلوچستان کے غربوگ، بولان، شاہرگ سے ہے جنہوں نے سال 2014 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور سال 2022 میں مجید برگیڈ کا حصہ بنے تھے۔

خاتون کمانڈر کے حوالے سے تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ آپریشن بیروت کے چوتھے روز 3 فروری کو نوشکی میں جھڑپوں کے دوران شہید ہوئے۔

بلوچ لبریشن آرمی نے انکے حوالے سے کہا ہے کہ کمانڈر فدائی بانی بلوچ کی زندگی محض ایک انفرادی قربانی کی کہانی نہیں بلکہ بلوچ مزاحمت کے اندر جنم لینے والی اس تنظیمی سنجیدگی اور فکری بلوغت کا استعارہ ہے جس نے بی ایل اے کو ایک نظریاتی ادارے میں ڈھالنے میں مدد دی۔

تنظیم نے کہا 2014 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد کمانڈر بانی بلوچ نے اپنی شناخت کسی بھی لمحاتی کارروائی یا مقبول واقعے کے ذریعے نہیں بنائی بلکہ ایک تسلسل کے ذریعے وضع کی۔

وہ ان کارکنان میں شامل رہیں جنہوں نے تنظیم کی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، کیمپی نظم و ضبط، اور طویل المدت مزاحمتی حکمت عملی میں مسلسل کردار ادا کیا، پہاڑوں کی سخت زندگی، مسلسل خطرات اور بنیادی سہولیات سے محرومی کے باوجود ان کی مزاحمت ذاتی قربانیوں سے آگے تنظیمی استقامت کا عنوان بنی۔

بی ایل اے کے مطابق 2022 میں مجید بریگیڈ میں شمولیت کے بعد ان کی ذمہ داریاں عسکری و اخلاقی دونوں سطحوں پر بڑھ گئیں، وہ فدائین کی تربیت، نفسیاتی ہم آہنگی، اور آپریشنل نظم کی بیک وقت نگراں بنیں، آپ رعب و خطابت سے زیادہ استدلال، اصول پسندی اور مستقل مزاجی سے ساتھیوں کو منظم کرتی تھیں۔

ان کا کردار عملی نظم و ترتیب کا مظہرتھا جس کی جھلک فدائین کی تربیت اور آپریشنل تیاریوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے شخصی سطح پر کمانڈر بانی کی زندگی میں جدوجہد ایک مشترکہ سفر تھی ان کے شریکِ حیات، شہید در محمد عرف روستو نہ صرف ایک باوفا ساتھی بلکہ تنظیم کے ان صفِ اول کے جانباز سرمچاروں میں شامل تھے جنہوں نے مشکل ترین محاذوں پر قیادت کی۔

آٹھ برس تک بانی اور در محمد نے ایک ساتھ نہ صرف زندگی بلکہ مزاحمت کی خاموشی، خطرے اور تسلسل کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹا 31 اکتوبر 2022 کو شہید در محمد دشمن فوج سے ایک گھمسان کی لڑائی میں شہید ہوئے، مگر ان کے شہادت سے کمانڈر بانی کے عزم اور سمت میں کوئی لغزش نہ آئی، اس ذاتی نقصان کو انہوں نے کسی رکاوٹ کے بجائے ایک فکری پختگی میں ڈھالا اور تنظیمی کام میں مزید سنجیدگی کے ساتھ جت گئیں۔

بی ایل اے نے خاتون کمانڈر کے زندگی اور کردار کے حوالے مزید بتایا کہ آپریشن ہیروف دوم کے دوران، کمانڈر بانی نے نوشکی میں آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کمان کی یونٹ کمانڈر کے طور پر انہوں نے تین دن تک متواتر جھڑپوں میں شرکت کی، اپنے فدائی یونٹ کو منظم رکھا اور تاوقتیکہ وہ شہید نہ ہوئیں، ہر مرحلے پر اگلی صف میں رہیں۔

تنظیم نے کہا ہے کہ اس دوران کمانڈر بانی نے خود اکیلے بارہ سے زائد فوجی اہلکاروں کو دوبدو لڑائی میں ہلاک کیا۔

تنظیم نے آخر میں کہا ہے کہ کمانڈر بانی بلوچ کی شہادت تنظیمی شعور، عسکری لیاقت اور فکری وفاداری کے امتزاج کا نقطہ عروج ہے، ان کی شخصیت بی ایل اے کے اس نئے دور کی نمائندہ ہے، جہاں مزاحمت کی قیادت مرد و عورت کی تفریق سے ماورا ایک نظریاتی اہلیت کی بنیاد پر متعین ہوتی ہے۔

ان کا سفر بلوچ قومی تحریک کے اس مرحلے کی علامت ہے جہاں قربانی، پختگی اور فکری استقامت مل کر ایک ادارہ تشکیل دیتے ہیں۔ کمانڈر بانی بلوچ کا نام اب صرف ایک فدائی کی یاد نہیں بلکہ ایک تنظیمی فکر کا حوالہ ہے۔