جیونی: پاکستانی فورسز کا گاؤں پر دھاوا، مکینوں پر تشدد، دو بھائیوں سمیت تین افراد جبری لاپتہ

27

پاکستانی فورسز نے تین افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کی تحصیل جیونی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق رواں سال کے آغاز سے جیونی کے علاقے روبار میں پاکستانی فورسز کی جانب سے سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ گاؤں، جس کی آبادی تقریباً دو ہزار نفوس پر مشتمل ہے، گزشتہ کئی روز سے پاکستانی فورسز کی کارروائیوں کی زد میں ہے، جہاں مکینوں کو تشدد اور لوٹ مار کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق فورسز ہر رات گھروں میں داخل ہو کر مکینوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہیں اور گھروں میں موجود قیمتی سامان تحویل میں لے لیتی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 6 جنوری کو پاکستانی فورسز نے ایک گھر پر چھاپا مار کر وہاں موجود دو بھائیوں، 35 سالہ آصف عیسیٰ اور 28 سالہ پیری عیسیٰ ولد عیسیٰ، کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

اس کے اگلے روز 7 جنوری کو، اسی علاقے سے 33 سالہ شاہ بخش ولد عمر کو بھی حراست میں لے کر لاپتہ کردیا گیا۔

مکینوں کے مطابق جیونی کا علاقہ روبار تاحال پاکستانی فورسز کے سرچ آپریشن کی زد میں ہے، شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جارہا ہے، جبکہ حراست میں لیے گئے تینوں نوجوان تاحال منظرِ عام پر نہیں آ سکے ہیں۔