روس کی سرحدی ریاست بیلگوروڈ میں آج جمعے کو یوکرینی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب یوکرین کے شہر زاپوریژیا میں روسی بمباری کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہو گئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
ادھر یوکرین، یورپ اور امریکہ کے حکام جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پر غور کرنے کی غرض سے آج میامی میں ملاقات کر رہے ہیں۔ جس میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ’’نئے خیالات‘‘ پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
یہ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب رواں ہفتے یوکرین پر روسی حملوں میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جمعرات کی شام اس ملاقات کی تصدیق کی۔ اس سے قبل مشرقی یوکرین کے محاذِ جنگ کے قریب واقع شہر کراماتورسک میں بسوں پر روسی حملے میں 30 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
جبکہ روسی میزائل نے شمالی علاقے چیرنیہیو میں پانچ منزلہ رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ بچوں سمیت 22 یوکرینی شہری ہلاک ہوئے تھے۔
زیلنسکی کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران یوکرین پر روسی حملوں میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
میامی میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں زیلنسکی نے کیا کہا؟
زیلنسکی نے کہا، ’’یوکرین کی مذاکراتی ٹیم کل امریکہ میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کرے گی۔ توقع ہے کہ یہ اجلاس دو روز جاری رہے گا۔ ہمیں امید ہے کہ یورپی حکام کی ایک ٹیم بھی ہمارے مذاکراتی گروپ میں شامل ہوگی۔‘‘
یوکرینی صدر کے مطابق ان کے چیف آف اسٹاف اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
مذاکرات سے واقف ایک امریکی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اجلاس میں ’’نئے خیالات اور تجاویز‘‘ پر بات ہوگی، جن پر امریکی مذاکرات کاروں نے حالیہ دورے کے دوران روسی اور یوکرینی حکام کے ساتھ کام شروع کیا تھا۔
امریکی ذریعے نے کہا، ’’سب کو موسمِ سرما کی فکر ہے۔ اگر جنگ نہ رکی تو یہ موسمِ سرما بہت کٹھن ہوگا۔‘‘
زیلنسکی کی امریکہ پر تنقید
شہری ہلاکتوں میں اضافے اور جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات کے سبب زیلنسکی نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ یوکرین کو ایلون مسک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک تک زیادہ رسائی دینے کی ان کی درخواست منظور کرے۔ ان کے مطابق اس سے یوکرین کو روسی بیلسٹک میزائل داغنے والے لانچروں کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
زیلنسکی نے کہا، ’’یوکرین کے لیے اسٹارلنک کھول دیں۔ جب آپ ایران کے معاملے میں کارروائی کر رہے تھے تو آپ نے اسے کھولا تھا۔ میں نے کھل کر کہا ہے کہ یہ سہولت ہمیں دیں، ہمارے آسمانوں کے دفاع اور وہاں برتری حاصل کرنے میں مدد کریں۔ اس کے بعد پوٹن مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیں گے۔‘‘
زیلنسکی نے امریکہ پر روس کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے میں عدم دلچسپی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹارلنک تک رسائی دینے کے لیے واشنگٹن کو کوئی خرچ نہیں اٹھانا پڑے گا۔
زیلنسکی نے روسی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ توقع ہے کہ یوکرینی حکام میامی میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکی نمائندوں کے سامنے یہ مطالبہ بھی رکھیں گے۔


















































