بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق گریشہ، خضدار سے تعلق رکھنے والے ۲۵ سالہ کسان برکت بلوچ، ولد عظیم، ڈیتھ اسکواڈ کے حملے میں زخمی ہونے کے ۱۲ روز بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔
بی وائی سی بیان کے مطابق ۱۷ ستمبر ۲۰۲۶ کو برکت عظیم اپنے دوست عالم خان، ولد داد بخش، کے ہمراہ ایک شادی میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ گریشہ میں ڈیتھ اسکواڈ نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس حملے میں عالم خان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ برکت عظیم شدید زخمی ہوئے۔
برکت کو فوری طور پر کراچی کے سول ٹراما اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ ۱۲ روز تک زیرِ علاج رہے اور حملے میں پہنچنے والے شدید زخموں سے زندگی کی جنگ لڑتے رہے۔ ۲۸ ستمبر کو وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک ہی حملے میں دو دوستوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ دوسرا ۱۲ روز تک اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد زخموں کی وجہ سے چل بسا۔ اب دو خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو چکے ہیں اور ان کے بچے ایک ایسے نقصان کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جس کا ازالہ ممکن نہیں۔
انہوں نے کہاکہ عالم خان کا قتل اور اس کے بعد برکت عظیم کی ہلاکت کو الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ بلوچستان میں بلوچ شہریوں کے خلاف ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کے ایک انتہائی تشویشناک سلسلے کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے ساتھ جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہاکہ تنظیم قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے فوری طور پر خاموشی توڑنے اور مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
آخر میں کہاکہ بلوچستان میں بڑھتے ہوئے انسانی حقوق کے بحران کے پیشِ نظر آزادانہ اور غیر جانب دار تحقیقات، ذمہ داران کا احتساب اور بلوچ شہریوں کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ عالمی برادری کو جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور ٹارگٹڈ تشدد کے واقعات کو بلا روک ٹوک جاری رہنے اور سزا سے استثنیٰ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔



















































