‎ریاست بلوچوں کو یہ باور کرا رہی ہے کہ ان کے وجود خطرہ ہے، اسی لیے بلوچوں کے خلاف نسلی تعصب، جبری بے دخلی و نسل کشی کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔ شبیر بلوچ

59

‎بلوچ اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کے سابق چیئرمین شبیر بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کراچی میں آئے روز چھاپے، جبری گمشدگیاں، فیک انکاؤنٹرز، گھروں کی چادر و چار دیواری کی پامالی اور عورتوں و بچوں سمیت عام شہریوں پر ریاستی تشدد محض بلوچ دشمنی کا اظہار نہیں بلکہ بلوچ عوام کو اجتماعی طور پر دبانے، ان کی سیاسی و سماجی زندگی کو مفلوج کرنے اور بلوچ نسل کشی کی ایک سنگین شکل ہے۔ ہزاروں بلوچ شہریوں کو آج خوف، عدم تحفظ اور گھٹن زدہ ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہیں۔ ریاست بلوچوں کو یہی تاثر دے رہی ہے کہ تمہارا وجود ہمارے لیے خطرے کا باعث ہیں، اسی لیے بلوچوں کے خلاف ہر جگہ نسلی تعصب، جبری طور پر زمین سے بے دخل کرنا اور نسل کشی کی پالیسی پر عمل درآمد کرنا ریاست کے لیے لازم بنتا جارہا ہے، جس کی بنا پر وہ کہیں بھی بلوچوں کو یکساں شناخت کی بنیاد پر روا نہیں رکھ رہی۔ ایک طویل ظلم و جبر کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اب ریاست کے لیے بلوچ بالکل ناقابلِ برداشت ہیں۔

‎انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے کراچی میں آباد بلوچ عوام کو ریاستی اداروں کے ہاتھوں جبر، گرفتاریوں، گمشدگیوں اور مسلسل ہراسانی کا سامنا رہا ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں صورتحال نے ایک خطرناک حد تک شدت اختیار کر لی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رات کا کوئی پہر ایسا نہیں گزرتا جب کسی بلوچ بستی میں چھاپے، گرفتاری یا جبری گمشدگی کی خبر سامنے نہ آتی ہو۔ صرف دو ہفتوں کے دوران درجنوں نوجوانوں کے جبری لاپتہ کیے جانے اور بلوچ آبادیوں میں مسلسل چھاپہ مار کارروائیوں کی اطلاعات نے خوف و ہراس کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ان جبری گمشدگان میں صرف ماڑی پور سے معزور اللہ بخش بلوچ ، عامر ، عزیز اور صابر سمیت آٹھ نوجوانوں سے زائد شامل ہیں اور اسی طرح دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں جبری گمشدگیاں رپورٹ ہوئی ہیں ۔

انہوں نے کہا عورتوں اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کو معمول بنا دینا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔

‎شبیر بلوچ اپنے بیان میں نے کہا کہ میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کراچی میں نام نہاد ’’کاؤنٹر ٹیررازم‘‘ کے نام سے بلوچ عوام کو اجتماعی طور پر تشدد کا نشانہ بنانا ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ ماڑی پور، لیاری، گلشن اقبال، گلشن جوہر، ملیر، کٹور اور دیگر بلوچ آبادیوں میں حالیہ چھاپہ مار کارروائیاں، گرفتاریاں، تشدد اور جبری گمشدگیاں تشویشناک ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ نام نہاد ’’دانشوروں‘‘ اور ’’انسانی حقوق‘‘ کے دعویدار حلقوں کی خاموشی مسلسل بڑھتے ہوئے اس جبر کو معمول بنانے میں مدد دے رہی ہے۔ ظلم کے سامنے خاموشی غیر جانبدار ہونا نہیں ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت، خوف اور جبر کسی قوم کے سیاسی شعور کو ختم نہیں کر سکتے۔ آئے روز عام بلوچ عوام کو فیک انکاؤنٹرز، جبری گمشدگیوں اور تشدد کے ذریعے کچلنا، اصل میں ایک بنیادی اور اہم سوال کھڑا کرتا ہے کہ بلوچ عوام کو اب ان حالات میں کیا کرنا چاہیے؟ پڑھے لکھے نوجوانوں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنانا، اصل میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست خود بلوچ عوام کو تشدد کی جانب مائل کر رہی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ جتنا زیادہ آپ بلوچ عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑیں گے، بلوچ اتنی ہی زیادہ شدت کے ساتھ آپ کے خلاف مزاحمت کا راستہ اپنائیں گے۔ کیونکہ جبر کا راستہ کبھی پائیدار حل نہیں ہوتا۔ جتنا زیادہ کسی قوم کو دبایا جائے گا، اتنا ہی اس کے اندر اپنی شناخت اور وجود کے لیے آواز بلند کرنے کا شعور مضبوط ہوگا۔ بلوچ عوام کو طاقت کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش ماضی کے ان تلخ تجربات کو دہرانے کے مترادف ہے جن سے ریاست کو سبق سیکھنا چاہیے۔