کوہ سلیمان میں جبری گمشدگیاں اور طویل خاموشی
تحریر: سمیعہ بزدار
دی بلوچستان پوسٹ
کوہ سلیمان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بلوچستان کی طرح عرصہ دراز سے جاری ہے ( کیونکہ کوہ سلیمان بلوچستان کا شہہ رگ ہے ) مگر حالیہ سلسلہ جو ایک سال سے طول پکڑتا جارہا ہے وہ 2 جولائی 2025 کی شب سے شروع ہوتا ہے 2 جولائی کی رات تونسہ شریف میں ایک سٹوڈنٹ فلیٹ سے کوہ سلیمان کے تین نوجوان سی ٹی ڈی اور پنجاب پولیس نے اٹھا کر لاپتہ کر دیئے ان تینوں نوجوانوں میں ایک فرسٹ ائیر کا طالب علم افتخار بزدار ، سیاسی تنظیم بلوچ راج کے سینئر ممبر جمعہ خان اور سماجی کارکن محمد خان بزدار تھے۔ افتخار بزدار ایک دن کے بعد ملتان س بازیاب ہوگئے ، مگر جمعہ خان اور محمد خان بزدار ایک طویل عرصہ لاپتہ ہونے کے بعد 11 فروری 2026 کو کوئٹہ ھدہ جیل کے ڈیٹینشن سنٹر میں ظاہر کیئے گئے جو تاحال وہیں قید ہیں ان پر کوئی چارجز نہیں ، کوئی ایف آئی آر نہیں ، ان کا کوئی ٹرائل نہیں کیا جارہا ، صرف قید ،جو ناکردہ گناہوں کا سزا کاٹ رہے ہیں۔
معذرت ان نوجوانوں سے قبل 30 جون 2025 کو ، کوہ سلیمان کے نوجوان علی بزدار کو فیصل آباد میں ایک پولٹری فارم سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا جنہیں چار ماہ کے بعد 11 اکتوبر 2025 کو فیصل آباد سنٹرل جیل میں لایا گیا ان پر بے بنیاد ایف آئی آر درج کرکے بارودی مواد کا الزام لگایا گیا جو تاحال قید ہیں عدالت کی جانب سے علی کے ضمانت کی درخواست خارج کردی گئی ۔
ثاقب بزدار کویٹہ جناح روڈ خیبر بینک سے 27 اگست کو لاپتہ کردیئے گئے مگر ثاقب بزدار کی خوش قسمتی ہے کہ وہ 13 اکتوبر کی رات بحفاظت بازیاب ہوگئے۔
مگر چند عرصہ بعد ثاقب کے ایک عزیز شوزیب سلیم بزدار 24 اگست 2025 کو لاہور سے لاپتہ کردئیے گئے جہاں وہ پڑھ رہے تھے ایک طویل عرصہ جبری طور پر لاپتہ ہونے کے بعد مئی 2026 کو شوزیب بازیاب ہوگئے۔
17 ستمبر 2025 کو کوہ سلیمان کے نامور گلوکار زبیر بلوچ کو دھوکے سے ایک شادی پر مدعو کرکے لاپتہ کردیا گیا مگر کچھ ہی عرصے کے بعد ان کو مسلح تنظیموں کیلئے فنڈنگ کے جرم میں فیصل آباد جیل میں قید کردیا گیا جو تاحال پابند سلاسل ہیں۔
یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا 2 نومبر 2025 کی رات ڈیرہ غازی خان شہر ماڈل ٹاؤن اور بھٹہ کالونی میں تین گھروں پر سی ٹی ڈی اور پنجاب پولیس کی جانب سے دھاوا بولا گیا جہاں سے اشرف بزدار ، عثمان لیغاری ان کے بھائی داؤد لیغاری اور ان کے کزن حاکم لیغاری کے گھروں پر دھاوا بولا گیا جہاں سے یہ چار نوجوان لاپتہ کیئے گئے جو تاحال لاپتہ ہیں۔
اس سال 15 فروری کو ایک بار پھر اس تسلسل کو بڑھایا گیا کوہ سلیمان فاضلہ کچھ کے چار نوجوان غلام دین ، جلیل احمد ، محمد اسماعیل اور لطیف بزدار کو ملتان سے سی ٹی ڈی نے اٹھائے یہ چاروں نوجوان ایک پولٹری فارم میں کام کررہے تھے ان میں دو نوجوان غلام دین بزدار اور جلیل بزدار 20 مارچ کو فیصل آباد سے بازیاب ہوگئے پانچ دن کے بعد 25 مارچ کو لطیف اور اسماعیل کو فیصل آباد جیل میں ظاہر کیا گیا جہاں ان معصوم نوجوانوں پر بارودی مواد کا الزام لگا کر پابند سلاسل کیا گیا جو تاحال فیصل آباد سنٹرل جیل میں قید ہیں۔
اس سال کا ایک اور بھیانک دن ، 12 اپریل 2025 کو ڈیرہ غازی خان میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سابقہ بلوچ سٹوڈنٹ کونسل کے چیئرمین زبیر بلوچ کے گھر پر سی ٹی ڈی اور پولیس نے دھاوا بول کر زبیر بلوچ اور ان کے کزن سعید بلوچ کو اٹھا کر لاپتہ کیا گیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔
کوہ سلیمان میں جبری گمشدگیوں پر سیاسی تنظیموں اور سول سوسائٹی سمیت دیگر انسان دوست تنظیموں کی خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے جہاں آئے روز نوجوان جبری طور پر لاپتہ کیئے جارہے ہیں مگر اس جبری گمشدگیوں میں تیزی کے سلسلے کو ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہیں جہاں سینئر سیاسی کارکن اٹھا کر لاپتہ کیئے گئے ہیں وہاں خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے،
ریاست اس خاموشی سے مزید اپنے پنجوں کو مضبوطی سے گاڑھ رہا ہے اب تو دن کے روشنی میں سی ٹی ڈی اور پنجاب پولیس ہمارے گھروں پر حملہ کررہا ہے 22 جون کو تونسہ شریف میں مبین بلوچ کو دن کے 2 بجے ان کے گھر سے سی ٹی ڈی نے حملہ کرکے انہیں لاپتہ کردیا گیا دو ہفتے لاپتہ ہونے کے بعد وہ اب بازیاب ہوگئے ان کے ساتھ تونسہ سے تین اور نوجوان لاپتہ کیئے گئے جو تاحال لاپتہ ہیں۔
کوہ سلیمان ، ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف میں یہ وہ کیسز ہیں جو رپورٹ ہوچکے ہیں مگر حقیقی فگر اس سے کہیں زیادہ ہے جہاں لوگوں کو ڈرا دھمکا کر چپ کروایا جاتا ہے تاکہ لوگ خاموش رہیں آواز نہ اٹھائیں مگر میری درخواست ہے لوگ اپنے پیاروں کے کیسز مختلف فورمز پر اٹھائیں ان کے بازیابی کی اپیل کریں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































