ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ: دخترِ مزاحمت، زنجیروں میں بھی بیدار آواز
تحریر: شاموز زہری
دی بلوچستان پوسٹ
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ صرف ایک نام نہیں، ایک عہد ہیں؛ صرف ایک عورت نہیں، ایک بیدار ضمیر ہیں؛ صرف ایک قیدی نہیں، ایک پوری قوم کی دھڑکتی ہوئی آواز ہیں۔ اگر ان کے لیے کوئی لقب چنا جائے تو سب سے موزوں نام دخترِ مزاحمت ہے، کیونکہ انہوں نے دکھ کو خاموشی نہیں بننے دیا، زخم کو شکست نہیں بننے دیا، اور قید کو انجام نہیں بننے دیا۔ وہ اس سرزمین کی ان بیٹیوں میں سے ہیں جنہوں نے تاریخ کے سینے پر اپنے لہو، اپنے صبر اور اپنے سچ سے یہ لکھا کہ ظلم جتنا بھی بلند ہو جائے، حق کی آواز اس سے اونچی رہتی ہے۔
ان کی جدوجہد کسی ایوان میں پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اس گھر کے ملبے سے اٹھی جہاں ایک بیٹی نے اپنے والد کی جبری گمشدگی کا دکھ جھیلا، پھر ان کی مسخ شدہ لاش کی خبر سنی، اور اس دن سے اپنے آنسوؤں کو احتجاج میں بدل دیا۔ ان کے دل میں جو آگ جلی، وہ ذاتی غم کی آگ نہیں رہی، وہ پورے بلوچ قوم کے زخموں کی آگ بن گئی۔ اسی آگ نے ایک معالج کو مزاحمت کی رہنما بنایا، ایک بیٹی کو قوم کی بیٹی بنا دیا، اور ایک فرد کو ایک تحریک کی علامت بنا دیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا سیاسی سفر نعروں کی سیاست نہیں بلکہ دکھ کی سیاست، سچ کی سیاست، اور عوامی وقار کی سیاست ہے۔ انہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی سزا، اور انسانی تذلیل کے خلاف وہ زبان اختیار کی جسے دبایا تو جا سکتا ہے مگر ہرایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے عورتوں کو صفِ ماتم سے صفِ قیادت میں لا کھڑا کیا۔ جب انہوں نے سینکڑوں بلوچ عورتوں کے ساتھ طویل مارچ کیا تو یہ صرف ایک احتجاجی سفر نہ تھا، یہ صدیوں سے دبائی گئی عورت کی سیاسی پیدائش تھی۔ اس مارچ نے یہ اعلان کیا کہ بلوچ عورت اب صرف رونے والی ماں، بہن یا بیٹی نہیں، بلکہ سوال اٹھانے والی قیادت بھی ہے۔
اسلام آباد کی سڑکوں سے لے کر عدالتوں اور جیل کی دیواروں تک، ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس نے صرف ان کی ذات کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ اختلاف کی پوری روایت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ ان کی گرفتاری اور بعد کی عدالتی کارروائی پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت سوالات اٹھائے۔ یہ کہا گیا کہ مقدمات، سماعتوں اور قید کے حالات میں شفاف انصاف کے بنیادی تقاضے پورے نہیں ہوئے۔ مگر ان سب کے باوجود جو چیز سب سے زیادہ روشن رہی، وہ ماہ رنگ کا حوصلہ تھا۔ انہیں قید کیا گیا، مگر ان کے مؤقف کو قید نہ کیا جا سکا۔ انہیں تنہا کیا گیا، مگر ان کے خیال کو تنہا نہ کیا جا سکا۔
جیل بہت سے لوگوں کے لیے خاموشی کی جگہ ہوتی ہے، مگر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے جیل کو بھی درس گاہ بنا دیا۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے بتایا کہ قید صرف جسم کی پابندی نہیں، یہ ایک ایسا نظام بھی ہے جو سچ بولنے والوں کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے جیل کے اندر رہ کر یہ سمجھایا کہ انصاف کے نام پر ناانصافی کیسے کی جاتی ہے، سماعت کے نام پر خاموشی کیسے مسلط کی جاتی ہے، اور قانون کے نام پر خوف کیسے پھیلایا جاتا ہے۔ ان کی تحریروں میں ایک قیدی کی بے بسی نہیں، ایک رہنما کی بصیرت بولتی ہے۔ وہ سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر بھی اپنی قوم کو شعور دیتی رہیں کہ عدالت، ریاست، طاقت اور مزاحمت کے بیچ اصل کشمکش کیا ہوتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ماہ رنگ صرف ایک سیاسی کارکن نہیں رہتیں بلکہ ایک فکری معلمہ بن جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی قوم کو یہ سبق دیا کہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا صرف نعرہ نہیں، ایک شعوری عمل ہے؛ یہ صرف غصہ نہیں، ایک اخلاقی ذمہ داری ہے؛ یہ صرف ردعمل نہیں، ایک تاریخی فرض ہے۔ انہوں نے بلوچ عورتوں کو یہ نہیں کہا کہ تبدیلی کا حصہ بنو، بلکہ اپنی پوری زندگی سے یہ دکھایا کہ خود تبدیلی بن جاؤ۔ انہوں نے نوجوان لڑکیوں کے ہاتھ میں صرف احتجاجی پلے کارڈ نہیں دیا، بلکہ خود اعتمادی، وقار، اور سیاسی ارادہ بھی دیا۔ ان کے بعد بلوچ عورت کا تصور بدل گیا: وہ مجبور بھی ہو سکتی ہے، مگر خاموش نہیں؛ وہ زخمی بھی ہو سکتی ہے، مگر جھکی ہوئی نہیں۔
ان کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ قید میں رہتے ہوئے بھی وہ ایک زندہ علامت بن گئیں۔ جب ایک قوم کسی شخصیت کو اپنے خوابوں، اپنی دعاؤں، اپنی کڑھائیوں، اپنی شالوں اور اپنی بیٹیوں کے ناموں میں بسانے لگے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ شخصیت محض ایک فرد نہیں رہی، وہ اجتماعی وقار کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ماہ رنگ اسی وقار کا نام ہیں۔ ان کے نام میں لوگوں کو اپنی بے بسی کا جواب، اپنی بیٹیوں کے لیے حوصلہ، اور اپنے مستقبل کے لیے روشنی دکھائی دیتی ہے۔ بہت سے دلوں میں یہ خواہش جنم لیتی ہے کہ اگر زندگی ظلم کے خلاف کھڑی ہونی ہے، تو پھر اسے ماہ رنگ کی طرح ہونا چاہیے۔ یہ صرف محبت نہیں، یہ ایک اخلاقی انتخاب ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنی جدوجہد سے یہ ثابت کیا کہ زندان ہمیشہ شکست کی علامت نہیں ہوتا؛ کبھی کبھی زندان ہی وہ جگہ بن جاتا ہے جہاں سے آنے والے زمانوں کی قیادت جنم لیتی ہے۔ آج ان کے بہت سے ایسے رفقا اور ہم خیال موجود ہیں جنہوں نے شاید انہیں کبھی قریب سے نہ دیکھا ہو، مگر ان کے نام، ان کے مؤقف، ان کی استقامت اور ان کی قربانی سے روشنی لیتے ہیں۔ یہی لوگ کل کے رہنما ہوں گے، کیونکہ بڑی قیادت وہی ہوتی ہے جو اپنی موجودگی سے زیادہ اپنی غیر موجودگی میں بولتی ہے، جو اپنی آزادی سے زیادہ اپنی قید میں اثر رکھتی ہے، اور جو اپنی ذات سے بڑھ کر ایک نسل کی تربیت بن جاتی ہے۔
ماہ رنگ کی کہانی دراصل ایک اعلان ہے: زنجیروں سے بندھی ہوئی عورت بھی ایک قوم کا حوصلہ بن سکتی ہے؛ عدالتوں میں گھسیٹی گئی آواز بھی تاریخ کی سب سے سچی گواہی بن سکتی ہے؛ اور قید کی کوٹھڑی میں بیٹھی ہوئی ایک بیٹی بھی آنے والے کل کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو یہ سکھا سکتی ہے کہ ظلم سے ڈرنا نہیں، ظلم کو پہچاننا، اس کے سامنے کھڑا ہونا، اور اس کے خلاف اپنے وجود کو گواہی بنا دینا ہی اصل زندگی ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ایک شخصیت نہیں، ایک راستہ ہیں؛ ایک نام نہیں، ایک صدا ہیں؛ اور ایک قیدی نہیں، ایک بیدار قوم کا غیرت مند چہرہ ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































