سوراب میں فضائی حملے کے خلاف بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن، پہیہ جام

34

بلوچستان کے ضلع سوراب میں گدر کے علاقے میں پاکستانی فوج کے فضائی حملے اور اس کے نتیجے میں شہریوں کی قتل کے خلاف جمعرات کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں اور مقامی افراد نے میتیں قومی شاہراہ پر رکھ کر احتجاج کیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے مطابق سوراب، خضدار، قلات، مستونگ، نوشکی اور دیگر علاقوں میں متعدد کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں۔ کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سوراب میں احتجاج کے باعث کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ پر آمدورفت خاص طور پر متاثر ہوئی، جہاں مظاہرین نے حملے میںجانبحق ہونے والے افراد کی میتیں رکھ کر احتجاج کیا۔ مقامی اطلاعات کے مطابق شاہراہ کے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں بن گئیں۔

مقامی ذرائع اور مظاہرین کے مطابق 12 اگست کو سوراب کے علاقے گدر گندان میں ایک فضائی کارروائی کے دوران بمباری ہوئی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت20 سے زائد افراد جان بحق اور 16 زخمی ہوئے۔

حملے کے بعد جانبحق ہونے والے افراد کے لواحقین اور مقامی باشندوں نے میتیں سوراب کے مرکزی چوک میں کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ پر رکھ دیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔ شاہراہ کی بندش سے بلوچستان کے اندرونی علاقوں کو کراچی اور کوئٹہ سے ملانے والی اہم زمینی رابطہ منقطع ہوکر رہ گیا ہے۔