ریاست کی ناکامی کا نوحہ
تحریر: نمیران جان
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچستان میں ریاست اور شہری کے درمیان “سماجی معاہدہ” ناکام ہو چکا ہے۔ 12 اگست 2025 کو سوراب کے علاقے گدر گوندان میں ہونے والے فضائی حملے نے اس ناکامی پر آخری مہر ثبت کر دی۔ اس حملے میں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ ہلاک ہوئے۔ سرکاری بیانیہ نے اسے “انسدادِ دہشت گردی آپریشن” قرار دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گھر، سکول اور قبرستان بھی ہدف بنتے ہیں؟ یہ واقعہ الگ تھلگ نہیں ہے۔ یہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر، سیاسی بے دخلی اور انسانی حقوق کی پامالی کی ایک اور کڑی ہے۔
سوراب کوئی سرحدی علاقہ نہیں۔ گدر گوندان اس کا ایک عام علاقہ ہے جہاں بنیادی سہولیات تک ناپید ہیں۔ پانی نہیں، سکول نہیں، ہسپتال نہیں۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی، روزگار ندارد۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے دربدر ہیں۔ لیکن جب آواز اٹھتی ہے تو جواب میں بم آتا ہے۔ سیاسی ماہرین اسے “Targeted Neglect” کہتے ہیں۔ یعنی پہلے سیاسی اور معاشی طور پر نظر انداز کرو، پھر سیکیورٹی کے نام پر کچل دو۔ یہاں ریاست “Protector” نہیں رہی، وہ “Administrator of Violence” بن گئی ہے۔ جب ریاست کسی خطے کو ترقی اور نمائندگی سے محروم رکھے اور پھر اسی محرومی پر بندوق کا جواب دے تو اسے امن و امان کا مسئلہ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ریاست کی اپنی ناکامی کا اعتراف ہے۔
سوراب کے علاقے گدر گوندان میں جیٹ طیارے استعمال کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ریاست اب بلوچستان کے مسئلے کو صرف قانون و نظم کا معاملہ نہیں مان رہی۔ یہ پہلا فضائی حملہ نہیں ہے، اس سے پہلے مولا، خضدار میں ڈرون حملوں میں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ ہر رات خضدار، مستونگ اور دیگر علاقوں میں میزائل اور گولوں سے حملے ہوتے ہیں جن کی آواز دور تک سنائی دیتی ہے۔ نمبر ون فوج کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ اب بلوچ گوریلا کمانڈرز سے مقابلہ کرنے کے بجائے عام بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان حملوں سے تباہی کے ساتھ بلوچ عوام کے دلوں میں ریاست کے خلاف نفرت بھی مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ اس لیے فضائی طاقت وقتی دباؤ تو ڈال سکتی ہے، مگر مسئلے کی اصل وجہ کو حل کرنے میں ناکام ہے۔
یہ مسئلہ نیا نہیں۔ یہ 1948 کے الحاق کے بعد سے چل رہا ہے۔ اس کے بعد 1948، 1958، 1962، 1973 اور 2004 میں بڑے فوجی آپریشن ہو چکے۔ ہر بار کہا گیا کہ “اب مسئلہ حل ہو گیا”۔ ہر بار زخم مزید گہرے ہوئے۔ مورخ ڈاکٹر عنایت اللہ بلوچ اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ بلوچستان کا بنیادی تنازعہ “وسائل پر اختیار اور سیاسی خودمختاری” کا ہے۔ گیس، سونا، تانبا، کوئلہ سب یہاں ہے۔ لیکن اس کے مالک یہاں کے لوگ نہیں۔ جب مذاکرات کا دروازہ بند ہوا تو ریاست نے “فوجی آپشن” کو مستقل پالیسی بنا لیا۔ جیوپولیٹکس کے تجزیہ کار ڈاکٹر مالکم رفیق کے مطابق بلوچستان کو اسلام آباد ہمیشہ “Strategic Depth” کے طور پر دیکھتا ہے، نہ کہ “Political Entity” کے طور پر۔ اسی لیے یہاں کے انسانوں کی قیمت زمین اور بندرگاہوں سے کم لگتی ہے۔ گوندان کا خون اسی سوچ کا نتیجہ ہے جہاں زمین اہم ہے اور اس پر بسنے والے غیر اہم۔
ریاستی بیانیہ ہر بار ایک ہی سانچے میں ڈھلتا ہے۔ “ترقیاتی منصوبے آ رہے ہیں”۔ “باہر کی سازش ہے”۔ “چند شرپسند ہیں”۔ لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ گوادر میں بندرگاہ بن گئی، لیکن مقامی ماہی گیر آج بھی کشتی کے لیے ترس رہے ہیں۔ سی پیک کی سڑکیں گزر گئیں، لیکن اندرونِ بلوچستان کے گاؤں آج بھی اندھیرے میں ہیں۔ جب ترقی کا مطلب صرف زمین ہتھیانا ہو اور انسان کو اس سے باہر رکھا جائے، تو وہ ترقی نہیں استعمار کہلاتی ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت سے کبھی کوئی قوم دیر تک نہیں دبائی گئی۔ 1954 سے 1962 تک فرانس نے الجزائر میں 10 لاکھ لوگ مارے۔ پھر بھی الجزائر آزاد ہوا۔ فرانز فینن نے ٹھیک لکھا تھا کہ “نوآبادیاتی تشدد ہی مزاحمت کو جنم دیتا ہے”۔ امریکہ جیسی سپر پاور کو ویتنام کے کسانوں نے شکست دی کیونکہ وہ اپنی مٹی کے لیے لڑ رہے تھے۔ چوبیس سال کے فوجی آپریشن کے بعد بھی انڈونیشیا مشرقی تیمور کو اپنے ساتھ نہ رکھ سکا۔ سوویت یونین افغانستان میں ہار گیا۔ ان سب واقعات کا ایک ہی سبق ہے۔ ریاستیں ٹینکوں سے نہیں، رضامندی سے چلتی ہیں۔ جس دن عوام کا اعتماد مر جائے، ریاست کھوکھلا ڈھانچہ بن جاتی ہے۔ بندوق وقتی طور پر آواز دبا سکتی ہے، لیکن سوال ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
گدر گوندان حملے کے بعد عوامی ردعمل بھی مختلف تھا۔ پہلے لوگ ماتم کرتے تھے، اب سوال کرتے ہیں۔ پہلے لاشیں اٹھاتے تھے، اب کیمرے اٹھاتے ہیں۔ سوشل میڈیا، احتجاج، لانگ مارچ۔ ریاست سمجھتی ہے کہ میڈیا بلیک آؤٹ سے مسئلہ دفن ہو جائے گا۔ لیکن اب ہر موبائل ایک رپورٹر ہے۔ ہر گھر ایک خبر ہے۔ جب ریاستی ادارے سچ چھپائیں گے تو لوگ خود سچ بولیں گے۔ اور جب سچ گلیوں میں نکل آئے تو پھر اسے گولی سے نہیں روکا جا سکتا۔
اس حملے کے بعد تین سوال ریاست کے سامنے کھڑے ہیں جن کا جواب شاید خود اس کے پاس بھی نہ ہوگا۔ پہلا سوال جواب دہی کا ہے۔ اس حملے کا حکم کس نے دیا؟ دوسرا سوال بقاء کا ہے۔ جب 78 سال کی “فوجی انضمام” کی پالیسی کے بعد بھی ریاست کو عوام کا اعتماد حاصل نہ ہو سکا، اور جب سیاسی دروازے بند کر کے صرف بندوق کھلی رہ گئی، تو کیا ریاست نے خود بلوچستان کو اپنے سے الگ نہیں کر دیا؟ اب سوال “بات چیت” کا نہیں، “ساتھ رہنے کی گنجائش” کا ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم سوال انسانیت کا ہے۔ کیا ریاست کے نزدیک بلوچ بچہ بھی “مشتبہ شہری” ہے؟ کیا عورت اور بزرگ بھی ریاست کے لیے خطرہ ہیں؟ کیا ایک قوم کو صرف اس لیے مشکوک سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے حقوق مانگتی ہے؟ جب عدالتیں خاموش، میڈیا پابند اور پارلیمنٹ بے بس ہو جائے تو پھر عوام کے پاس صرف دو راستے بچتے ہیں، مکمل خاموشی یا منظم مزاحمت۔
یہ جنگ اب صرف ایک واقعے کی نہیں رہی۔ یہ بقاء کی جنگ ہے۔ بلوچ اب ریاست کی طرف امید کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ وہ ان ایوانوں سے جواب طلب ہے جنہوں نے عہد توڑے اور وعدے پامال کیے۔ اور اب وہ مزاحمتی جدوجہد کا منتظر ہے۔ یہ مزاحمت بندوق کی نہیں، شعور کی ہے۔ یہ نعروں کی نہیں، نظریے کی ہے۔ یہ اس یقین کی ہے کہ ظلم دیرپا نہیں ہوتا۔
تاریخ کبھی ظالموں کے ساتھ نہیں کھڑی ہوتی، وہ ہمیشہ مزاحمت کے ساتھ چلتی ہے۔ بلوچستان کوئی نقشے کا ٹکڑا نہیں، یہ ایک نظریہ ہے۔ یہ اس عہد کا نام ہے کہ ہم اپنی مٹی پر غلام بن کر نہیں جئیں گے۔ ہم نے بہت انتظار کیا، بہت برداشت کیا۔ اب برداشت ختم اور سوال شروع ہو چکا ہے۔
اب معاملہ یہ ہے کہ ریاست تسلیم کرے کہ 78 سال کی جبر کی پالیسی ناکام ہو چکی۔ یا پھر مان لے کہ وہ بلوچستان کو جغرافیہ کے طور پر تو رکھنا چاہتی ہے، مگر اس کے لوگوں کو شہری تسلیم نہیں کرتی۔ دوسری صورت میں “ساتھ رہنے کی گنجائش” خود بخود ختم ہو جائے گی۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔











































