عشق اور زمین – لکھو بلوچ

54

عشق اور زمین

تحریر: لکھو بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

میں نے کبھی بہت سے خواب دیکھے تھے، جن میں تم بھی تھی اور میری زمین بھی۔ میں سوچتا تھا کہ ایک دن ہم دونوں ایک ہی راستے پر چلیں گے، ایک ہی آسمان کے نیچے، ایک ہی منزل کی طرف۔ مگر زندگی نے شاید ہمارے لیے الگ فیصلے لکھ رکھے تھے۔

آج بھی میں تم سے محبت کرتا ہوں، مگر ایک حقیقت ہمیشہ اس محبت سے بڑی رہی، اور وہ میری زمین، میرا وطن ہے۔ تم جانتی تھی کہ میری پہلی محبت میری مٹی ہے۔ میں نے تم سے کبھی یہ بات چھپائی نہیں۔ پھر بھی ایک دن تم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ مجھے تمہارے جانے کا اتنا دکھ نہیں جتنا اس بات کا ہے کہ تم میرے خوابوں کی ساتھی نہ بن سکی۔

کبھی کبھی دل خاموشی سے سوچتا ہے، کاش تم میرے ساتھ ہوتے۔ کاش جب میں اپنے وطن کی طرف رخصت ہوتا تو تم میری آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتی اور کہتے: “واپس ضرور آنا۔”

میں اکثر اپنے خیالوں میں ایک منظر دیکھتا ہوں۔ ہم دونوں پہاڑوں کی خاموش چوٹی پر تنہا بیٹھے ہیں۔ میرے ہاتھ میں توپک ہے اور تم میرے قریب بیٹھی ہو۔ دور ہوا چل رہی ہے، فضا میں خاموشی ہے، مگر ہمارے دلوں میں اپنی سرزمین کی محبت گونج رہی ہے۔ میں تمہاری مسکراہٹ دیکھتا ہوں اور دل میں سوچتا ہوں کہ اگر زندگی کی آخری سانس بھی اسی مٹی کے لیے ہو تو یہ سودا مہنگا نہیں۔

اگر کبھی ایسا لمحہ آئے کہ میرے پاس صرف آخری میگزین رہ جائے، آخری گولی باقی ہو، تو شاید میں مسکرا کر کہوں
“یہ آخری سانس بھی میرے وطن کے نام کربان۔”

اور اس لمحے اگر تم میرے ساتھ ہوتیں تو شاید تمہاری آنکھوں میں آنسو ہوتے، مگر تمہاری مسکراہٹ مجھے ہمت دیتی کہ میں اپنے وعدے سے پیچھے نہ ہٹوں۔

زندگی میں محبت بھی ایک جنگ ہے، اور وطن سے عشق بھی ایک جنگ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک میں انسان کسی ایک دل کے لیے لڑتا ہے، اور دوسرے میں پوری سرزمین کے لیے۔ میری قسمت نے شاید مجھے دوسری جنگ کے لیے چن لیا۔

مجھے دشمن کی گولی سے کبھی ڈر نہیں لگا، کیونکہ وہ صرف میرا جسم زخمی کر سکتی ہے، حوصلہ نہیں۔ مگر اگر کوئی گولی سینہ چیر کر گزرے، تو شاید اس لمحے دل بے اختیار تمہارا نام لے۔ پھر بھی میں نہیں چاہوں گا کہ دشمن کو کبھی معلوم ہو کہ میری آخری دھڑکن میں کس کا نام بسا تھا۔ میری محبت میرے دل کا راز ہے، اور میری پہلی وفاداری ہمیشہ میری زمین، میرا وطن رہے گا۔

تم تو میرا ساتھ چھوڑ کر چلی گئی، مگر تمہاری یاد آج بھی کہیں نہ کہیں دل میں باقی ہے۔ وہ یاد کبھی مسکراہٹ بن جاتی ہے، کبھی خاموش آنسو۔ لیکن میری محبت اپنی زمین سے آج بھی پہلے دن کی طرح قائم ہے۔

شاید ایک دن لوگ میرا نام بھول جائیں، مگر اگر میری مٹی مجھے اپنے سینے میں جگہ دے دے تو یہی میری سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ کیونکہ آخرکار انسان کو وہی مٹی اپنے پاس بلا لیتی ہے جس سے وہ سچی محبت کرتا ہے۔

اور اگر کبھی میری کہانی لکھی جائے تو اس میں یہ ضرور لکھنا:
“اس نے محبت بھی سچی کی تھی، مگر اپنی زمین سے محبت کو کبھی کسی محبت پر قربان نہیں کیا۔”


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔