شعور کی تلاش اور بیانیے کی گرفت – سفر خان بلوچ (آسگال)

6

شعور کی تلاش اور بیانیے کی گرفت

تحریر: سفر خان بلوچ (آسگال)

دی بلوچستان پوسٹ

انسان اپنی زندگی میں بے شمار خیالات، عقائد اور بیانیے اختیار کرتا ہے، لیکن ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے خیالات واقعی اس کے اپنے ہوتے ہیں اور کتنے وہ محض دوسروں سے اخذ کرکے دہرا رہا ہوتا ہے؟ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی نظریے، موقف یا بیانیے کو پوری قوت سے پیش کرتے ہیں، اگر ہم سے پوچھا جائے کہ ہم یہ کیوں کہہ رہے ہیں، اس کی بنیاد کیا ہے، یا اس کے حق میں ہمارے پاس کون سی دلیل موجود ہے، تو ہمارے پاس کوئی واضح جواب نہیں ہوتا۔ اس لمحے احساس ہوتا ہے کہ شاید ہم خود اپنے الفاظ کے خالق نہیں بلکہ صرف ان کے راوی ہیں۔ انسانی ذہن ایک ایسی زمین کی مانند ہے جس میں بچپن سے خیالات کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ خاندان، معاشرہ، مذہب، سیاست، تعلیمی ادارے، دوست احباب اور ذرائع ابلاغ مسلسل ہمارے ذہن کی تشکیل کرتے رہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہم ان خیالات کو اس قدر اپنا سمجھنے لگتے ہیں کہ ہمیں یہ احساس بھی نہیں رہتا کہ ان میں سے بہت سے خیالات دراصل ہمارے ذاتی غور و فکر کا نتیجہ نہیں بلکہ دوسروں کی سماجی اثرات کے چاپ ہیں۔ یوں ہم ایک ایسے بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں جس کی حقیقت اور بنیاد سے خود بھی پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔

میں نے کئی بار لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بعض افراد لاشعوری طور پر بلوچ قومی جدوجہد یا جنگ کا حصہ بن گئے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ جملہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر ایک نہایت گہرا فلسفیانہ سوال پوشیدہ ہے۔ اگر کوئی شخص کسی تحریک یا نظریے کا حصہ “لاشعوری طور پر” بنتا ہے، تو سب سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ شعور اور لاشعور سے ہماری مراد کیا ہے؟ کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ شعور کی حقیقت کیا ہے؟ کیا فلسفہ، نفسیات اور سائنس اس سوال پر مکمل اتفاق کر چکے ہیں؟ قدیم یونانی فلسفی سقراط کا مشہور قول ہے: “میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔” اس جملے کا مقصد لاعلمی کا اظہار نہیں بلکہ شعور کی ابتدا کو بیان کرنا ہے۔ سقراط کے نزدیک حقیقی شعور اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی لاعلمی کو پہچان لیتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے، وہ اکثر سب سے زیادہ فکری جمود کا شکار ہوتا ہے۔ اسی طرح فرانسیسی فلسفی رینے ڈیکارٹ نے کہا تھا: “میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں۔” لیکن یہاں بھی سوال باقی رہتا ہے کہ کیا ہر سوچ ہماری اپنی ہوتی ہے؟ اگر ہماری سوچ دوسروں کے دیے ہوئے تصورات کا مجموعہ ہو تو کیا ہم واقعی آزادانہ سوچ رہے ہیں یا صرف پہلے سے موجود خیالات کی بازگشت بن چکے ہیں؟ جرمن فلسفی فریڈرک نطشے نے اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ سوال اٹھایا کہ انسان کی بہت سی اقدار اور اخلاقی تصورات دراصل معاشرے کی پیداوار ہوتے ہیں۔ انسان انہیں اپنی آزادانہ رائے سمجھتا ہے، حالانکہ وہ محض اجتماعی عادات اور روایات کا تسلسل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نطشے بار بار انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ہر موروثی خیال پر سوال اٹھائے اور خود اپنے لیے سچ کی تلاش کرے۔ نفسیات میں بھی شعور اور لاشعور کی بحث انتہائی اہم ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ کے مطابق انسانی شخصیت کا بڑا حصہ لاشعور سے تشکیل پاتا ہے۔ ہماری بہت سی خواہشیں، فیصلے اور ردِعمل ایسے محرکات سے جنم لیتے ہیں جن کا ہمیں خود بھی شعوری ادراک نہیں ہوتا۔ اگر فرائیڈ کی بات درست مان لی جائے تو پھر کسی شخص کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ “لاشعوری طور پر” کسی بیانیے کا حصہ ہے، محض الزام نہیں بلکہ ایک نفسیاتی امکان بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ صرف اسی صورت میں کیا جاسکتا ہے جب ہم اس کے فکری سفر اور دلائل کو سمجھیں، نہ کہ محض اس کے اختلاف یا اتفاق کی بنیاد پر۔

یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔ اگر میں کسی شخص کو یہ کہوں کہ “تم لاشعوری طور پر فلاں نظریے کا حصہ ہو”، تو کیا میں خود مکمل شعور کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں؟ یا ممکن ہے کہ میرا یہ دعویٰ بھی کسی دوسرے بیانیے کا اثر ہو جسے میں نے بغیر تنقیدی جائزے کے قبول کر رکھا ہو؟ اگر ایسا ہے تو پھر میرا یہ جملہ بھی اسی مسئلے کا حصہ بن جاتا ہے جس پر میں تنقید کر رہا ہوں۔ اس لیے اصل مسئلہ کسی خاص سیاسی یا سماجی بیانیے کا نہیں بلکہ انسان کے اپنے فکری رویے کا ہے۔ شعور صرف معلومات کا نام نہیں، بلکہ اپنے خیالات کی بنیاد کو جانچنے، اپنے عقائد پر سوال اٹھانے، مخالف نقطۂ نظر کو سننے اور ہر دعوے کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھنے کا نام ہے۔ جو شخص اپنے نظریات پر تنقیدی نظر ڈالنے کی ہمت رکھتا ہے، وہ شعور کے زیادہ قریب ہوتا ہے، جبکہ جو صرف سنے ہوئے جملوں کو دہراتا ہے، خواہ وہ کسی بھی جماعت، مجلس، ریاست یا تحریک سے تعلق رکھتا ہو، وہ شعور کے بجائے تقلید کے دائرے میں رہتا ہے۔ شاید اسی لیے حقیقی شعور کسی خاص نظریے کا نام نہیں بلکہ سوال کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ جب انسان یہ پوچھنا شروع کرتا ہے کہ “میں یہ کیوں سوچتا ہوں؟”، “یہ خیال میرے اندر کہاں سے آیا؟”، “کیا میں نے اسے خود پرکھا ہے یا صرف دوسروں سے سنا ہے؟” تو وہ شعور کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔ اور جب تک یہ سوال زندہ رہتے ہیں، انسان محض بیانیوں کا قیدی نہیں بنتا بلکہ اپنی فکر کا معمار بننے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر بیانیہ درست یا غلط ہونے سے پہلے ایک سوال کا محتاج ہے، اور ہر سوال شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر ہم اپنے خیالات، اپنی زبان اور اپنے عقائد کا احتساب نہیں کرتے تو ممکن ہے ہم ساری زندگی دوسروں کے الفاظ کو اپنی آواز سمجھتے رہیں۔ لیکن جس دن انسان اپنے ہی یقین پر سوال اٹھانے کی جرأت کر لیتا ہے، اسی دن اس کے شعور کی حقیقی ابتدا ہوتی ہے۔

یہاں ایک اور بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شعور کا دائرہ صرف ان لوگوں تک محدود ہے جو کتابیں پڑھتے ہیں، فلسفہ پڑھتے ہیں یا علمی مباحث میں حصہ لیتے ہیں؟ کیا زیادہ مطالعہ کرنے والا شخص لازماً زیادہ شعور رکھنے والا ہوتا ہے، اور کیا وہ شخص جو رسمی تعلیم یا کتابی علم سے دور ہے، شعور سے محروم سمجھا جائے گا؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ اکثر ہم شعور کو صرف معلومات، تعلیم یا مطالعے کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ شعور اس سے کہیں زیادہ وسیع تصور ہے۔ کتابیں انسان کے شعور کو وسعت دے سکتی ہیں، نئے زاویے فراہم کر سکتی ہیں اور سوچنے کے نئے راستے کھول سکتی ہیں، لیکن محض کتابیں پڑھ لینا اس بات کی ضمانت نہیں کہ انسان لازماً حقیقت کو بہتر طور پر سمجھنے لگا ہے۔ بعض اوقات بہت زیادہ علم رکھنے والا شخص بھی اپنے تعصبات، خواہشات اور پہلے سے قائم شدہ خیالات کا قیدی بن سکتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ جو شخص کم پڑھا لکھا ہو وہ شعور سے خالی ہو۔ ایک عام انسان اپنے تجربات، مشاہدات اور زندگی کے حالات سے بھی ایک خاص قسم کا شعور حاصل کرتا ہے۔ شعور صرف الفاظ، نظریات یا کتابوں میں موجود نہیں بلکہ انسان کے سوال کرنے، سمجھنے اور اپنے عمل کا جائزہ لینے کی صلاحیت میں بھی موجود ہوتا ہے۔ لیکن یہاں ایک اور پیچیدہ مسئلہ سامنے آتا ہے۔ بعض لوگ ہر عمل، ہر نظریے اور ہر دوسرے شخص کے رویے پر تنقید کرنے کو شعور کی علامت سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ دوسروں کے خیالات میں خامیاں تلاش کر سکتے ہیں، اس لیے وہ زیادہ باشعور ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے کبھی اپنی تنقید کا بھی تنقیدی جائزہ لیا ہے؟ کیا انہوں نے کبھی یہ سوچا ہے کہ جس عمل کو وہ “لاشعوری عمل” قرار دے رہے ہیں، اس فیصلے تک پہنچنے میں ان کا اپنا شعور کس حد تک شامل ہے؟ لہٰذا جب کوئی شخص کسی دوسرے کے عمل کو فوراً لاشعوری قرار دیتا ہے، تو اسے پہلے اپنے شعور کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ کیا وہ واقعی اس شخص کے حالات، تجربات، محرکات اور فکری پس منظر کو سمجھتا ہے؟ یا وہ صرف اپنے محدود زاویے سے ایک فیصلہ صادر کر رہا ہے؟ کیونکہ ممکن ہے جس عمل کو وہ لاشعوری سمجھ رہا ہے، اس کے پیچھے ایک مختلف تجربہ، ایک مختلف فہم یا ایک مختلف شعوری عمل موجود ہو۔ اصل شعور شاید یہی ہے کہ انسان صرف دوسروں کے خیالات کا تجزیہ نہ کرے بلکہ اپنے خیالات، اپنے فیصلوں اور اپنی تنقید کا بھی احتساب کرے۔ دوسروں کو غلط ثابت کرنا آسان ہے، لیکن اپنے یقین پر سوال اٹھانا مشکل ہے۔ حقیقی فکری پختگی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان یہ تسلیم کرنے کی صلاحیت پیدا کرے کہ ممکن ہے وہ خود بھی کسی معاملے میں مکمل طور پر درست نہ ہو۔ اس لیے شعور کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ انسان کتنی کتابیں پڑھتا ہے یا کتنے نظریات جانتا ہے، بلکہ اس بات سے ہے کہ وہ اپنے علم، اپنی رائے اور اپنے فیصلوں کو کس حد تک جانچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جو شخص دوسروں کے شعور پر سوال اٹھاتا ہے، اسے سب سے پہلے اپنے شعور کی بنیادوں کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے دوسروں کو لاشعوری قرار دینے کا عمل بھی کبھی کبھی ایک غیر محسوس لاشعوری عمل بن جائے۔

ایک لمحے کے لیے اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ بعض نوجوان قومی تحریک میں لاشعوری طور پر شامل ہو رہے ہیں، تب بھی ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ کسی انسان کے فیصلے کو لاشعوری قرار دینے کا معیار کیا ہے؟ کیا صرف یہ حقیقت کافی ہے کہ کسی شخص کا فیصلہ ہمارے نقطۂ نظر سے غلط، جذباتی یا خطرناک معلوم ہوتا ہے؟ یا شعور اور لاشعور کا تعلق کسی فیصلے کے نتائج سے نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ انسان اپنے عمل، اس کے مقصد اور اس کے ممکنہ انجام کو کس حد تک سمجھتا ہے؟ یہاں ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف ایک شخص ہے جو ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر موبائل اسکرین کے سامنے مختلف بیانیوں کو دہرا رہا ہے اور دوسروں کے فیصلوں کو لاشعوری قرار دے رہا ہے۔ دوسری طرف ایک ایسا شخص ہے جس نے طویل غور و فکر کے بعد ایک راستہ منتخب کیا ہے، اپنے فیصلے کے نتائج کو سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ اس سفر کا اختتام کہاں تک جا سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں شعور کی کیفیت کو کس بنیاد پر پرکھا جائے؟ کیا صرف کتابیں پڑھ لینا، چند نظریات یاد کر لینا یا دوسروں کے خیالات پر تنقید کرنا شعور کی علامت ہے؟ یا پھر شعور اس گہرے ادراک کا نام ہے جس میں انسان اپنے فیصلے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور اس کے ممکنہ نتائج کو جانتے ہوئے بھی ایک راستہ اختیار کرتا ہے؟ اگر ایک شخص یہ جانتے ہوئے کہ اس کے فیصلے کا ممکنہ آخری نتیجہ موت ہو سکتا ہے، پھر بھی اپنے راستے کا انتخاب کرتا ہے، تو اس عمل کو محض لاشعوری کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ ممکن ہے اس کے فیصلے سے اختلاف کیا جائے، اس کی حکمت عملی پر تنقید کی جائے یا اس کے نظریے کو رد کیا جائے، لیکن اس کے اندر موجود شعوری انتخاب کے امکان کو صرف اختلاف کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں فلسفے کا ایک بڑا سوال سامنے آتا ہےکیا شعور کا تعلق صحیح فیصلہ کرنے سے ہے یا اپنے فیصلے کی ذمہ داری سمجھنے سے؟ کیونکہ تاریخ میں کئی ایسے افراد گزرے ہیں جن کے فیصلوں سے اختلاف کیا گیا، مگر ان کے شعوری عزم پر سوال نہیں اٹھایا گیا۔ مثلاً سقراط کو ہی دیکھیں۔ جب ایتھنز کی عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی اور اسے زہر کا پیالہ پینے کا حکم دیا گیا، تو سقراط کے پاس فرار کا راستہ موجود تھا۔ وہ اپنی جان بچا سکتا تھا، لیکن اس نے اپنے اصول، اپنے فلسفے اور اپنے یقین کے مطابق فیصلہ کیا کہ وہ شعوری اصول اور نظریے سے انحراف نہیں کرے گا۔ اگر ہر ایسا فیصلہ جو موت کی طرف لے جائے “لاشعوری” قرار دیا جائے، تو پھر سقراط کا فیصلہ بھی اسی تعریف کے تحت لاشعوری قرار پائے گا۔ لیکن کیا سقراط واقعی لاشعوری تھا؟ یا وہ ایک ایسا شخص تھا جو اپنے فیصلے کے نتائج کو پوری طرح سمجھتے ہوئے بھی اپنے یقین کے ساتھ کھڑا رہا؟ یہی سوال ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم شعور کی تعریف کو دوبارہ دیکھیں۔ شاید اصل فرق یہ نہیں کہ کون سا شخص کون سا راستہ اختیار کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ شخص اپنے راستے کو کس حد تک سمجھتا ہے۔ ایک شخص غلطی کے باوجود شعوری ہو سکتا ہے، اور دوسرا شخص درست بات کرتے ہوئے بھی لاشعوری ہو سکتا ہے، اگر وہ بغیر سمجھے صرف دوسروں کے خیالات دہرا رہا ہو۔ اس لیے کسی بھی انسان کے عمل کو لاشعوری قرار دینے سے پہلے ہمیں اپنے اندر یہ سوال پیدا کرنا چاہیے: کیا ہم واقعی اس شخص کے شعور کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں یا صرف اپنے شعور کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ حقیقی شعور شاید یہی ہے کہ انسان اپنے مخالف کے فیصلے کو بھی سمجھنے کی کوشش کرے، چاہے وہ اس سے اتفاق نہ کرے۔ کیونکہ شعور کا پہلا اصول یہ ہے کہ انسان یہ تسلیم کرے کہ حقیقت صرف اس کے اپنے نقطۂ نظر تک محدود نہیں۔ اگر ایک انسان اپنے مقصد، اپنے راستے اور اپنے ممکنہ انجام کو جانتے ہوئے قدم اٹھاتا ہے، تو کیا اسے صرف اس لیے لاشعوری کہا جا سکتا ہے کہ اس کا انتخاب ہمیں پسند نہیں؟ یا پھر ہمیں شعور اور لاشعور کے پیمانے کو اپنی پسند اور ناپسند سے بالاتر ہو کر سمجھنا ہوگا؟ ژاں پال سارتر جیسے وجودی فلسفیوں نے انسان کی آزادی اور ذمہ داری پر زور دیا۔ سارتر کے مطابق انسان اپنے انتخاب کے ذریعے خود کو تشکیل دیتا ہے، اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی شخص کسی راستے کا انتخاب کرتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اس راستے کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں، تو کم از کم فلسفیانہ اعتبار سے اس کے انتخاب میں شعوری عنصر موجود ہوتا ہے، چاہے دوسرے لوگ اس انتخاب سے اختلاف ہی کیوں نہ کریں۔ اختلاف اور لاشعور ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ کسی شخص کا فیصلہ غلط ہو سکتا ہے، لیکن غلط فیصلہ ہمیشہ غیر شعوری نہیں ہوتا۔ اسی طرح کوئی شخص درست بات کر سکتا ہے، لیکن اس کا فیصلہ بھی غیر شعوری ہو سکتا ہے اگر وہ بغیر سوچے صرف دوسروں کی تقلید کر رہا ہو۔

البرٹ کامیو کے نزدیک انسان کی عظمت اس میں ہے کہ وہ حالات کے سامنے سوال اٹھاتا ہے اور اپنے وجود کے معنی تلاش کرتا ہے۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایک انسان اپنے حالات کو سمجھتے ہوئے کوئی راستہ اختیار کرتا ہے، تو کیا صرف اس لیے اس کے انتخاب کو غیر شعوری کہا جا سکتا ہے کہ وہ راستہ خطرناک ہے؟ آخرکار شعور اور لاشعور کا مسئلہ صرف فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ انسانی تعلقات، سیاست، سماج اور ہماری روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا سوال ہے۔ ہمیں یہ حق ضرور حاصل ہے کہ ہم کسی عمل یا فیصلے سے اختلاف کریں۔ ہم کسی عمل کو غلط یا خطرناک بھی قرار دے سکتے ہیں۔ لیکن کسی انسان کے شعور کا فیصلہ کرتے وقت ہمیں احتیاط کرنی چاہیے۔ کیونکہ ممکن ہے جس شخص کو ہم لاشعوری سمجھ رہے ہوں، وہ اپنے فیصلے کے بارے میں ہم سے زیادہ غور کر چکا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جس شعور پر ہمیں فخر ہے، وہ صرف ان خیالات کا مجموعہ ہو جو ہم نے بغیر سوال کیے قبول کر لیے ہیں۔ حقیقی شعور شاید یہی ہے کہ انسان نہ صرف اپنے خیالات پر یقین رکھے بلکہ اپنے خیالات کا احتساب بھی کرے۔ وہ یہ سوال کرنے کی صلاحیت رکھے: میں یہ کیوں سوچتا ہوں؟ میں یہ کیوں مانتا ہوں؟ میرے فیصلے کے پیچھے کون سے عوامل ہیں؟ اور کیا میں دوسروں کے شعور کو سمجھنے کی اتنی ہی کوشش کرتا ہوں جتنی اپنے شعور کو درست ثابت کرنے کی؟ کیونکہ شعور کا پہلا قدم یہ تسلیم کرنا ہے کہ انسان مکمل علم کا مالک نہیں۔ شاید سب سے زیادہ باشعور شخص وہ نہیں جو ہر وقت دوسروں کو غیر شعوری ثابت کرتا رہے، بلکہ وہ ہے جو یہ ماننے کی صلاحیت رکھتا ہو کہ حقیقت اس کے اپنے نقطۂ نظر سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہیں سے کارل یونگ کی پرسنل تھیوری کا ظہور ہوتا ہے۔ جب ہم بلوچ تحریک پر اس بیانیے کے حوالے سے بات کریں تو ایسے ہی آزادی پسند نظریے سے تفاق کرنے والے یا حمایتی ملتے ہیں جو قبضہ گیر کے ڈسکورس سے متاثر ہیں۔ کیونکہ وہ Gramophone کی طرح ایک رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ جو لوگ لاشعوری طور پر بلوچ جدوجہد میں شامل ہوتے ہیں وہ جذباتی پن یا رومانیت کا شکار ہوتے ہیں لیکن دراصل لاشعور ایک طرز کی سماجی یادداشت کا حصہ ہے جو تحریکی ادوار میں پھلتی پھولتی ہے۔ اب ہمیں بلوچ تحریک میں ان باریک اثرات پر نگاہیں مرکوز کرنی ہوں گی کہ کون سے نوآبادیاتی نفسیات کے منفی اثرات ہیں جنہوں نے ہمیں Docile body کی طرح عمل کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس مغالطے کو دوبارہ پرکھنا لازمی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔